سوشل میڈیا پر کیا لکھا اور کہا جا رہا ہے؟


بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کے بارے میں کوئی اچھی یا بُری بات سنو تو ہمیشہ کوشش کرو کہ آگے پہنچانے سے پہلے اِس بات کی تصدیق کر لو کہ یہ بات صحیح بھی ہے یا نہیں۔ اَگر بات بُری ہے اور کسی کی رسوائی کا سبب بنتی ہو تو کوشش کرو کہ کسی اور کو پتہ نہ چلے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ ”جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالٰی قیامت کے دن اِس کی پردہ پوشی کرے گا“۔ (صحیح البخاری۔

2442 ) ۔ بہت سے اللہ والے لوگ ہیں جو اِس بات پر بڑی سختی سے عمل کرتے ہیں، نہ کسی کی بُرائی کرتے ہے اور نہ غیبت۔ مگر افسوس ہمارے معاشرے میں زیادہ تر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کو جب کسی بات کا علم ہو جائے تو اُن کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے اور جب تک وہ بات کسی کو بتا نہ دیں اٗن کو اِس درد سے نجات حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ پاک ایسے لوگوں کو عقل اور فہم عطا فرمائے۔

سوشل میڈیا کے اَنے سے بہت سی چھپی ہوئی معلومات باہر اَنا شروع ہو گئی، ایک نظر سے دیکھا جائے تو بہت اچھی چیز ہے۔ مگر اِس میں بھی کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہے کہ دِل بعض اوقات دُکھی ہو جاتا ہے۔ جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے، اَب تک کروڑوں اچھی بُری باتیں لوگوں نے شئیر کر لی ہیں، جن میں احادیث، بڑے بڑے لوگوں کے اقوالِ زریں اور نجانے کتنی ہی نصیحتیں شامل ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اِن باتوں کو صرف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر ہی کرتے رہیں گے، عمل کب کریں گے؟ میرا خیال ہے کہ عمل کے بغیر سب معلومات ہے اور معلومات کا کوئی فائدہ نہیں جب تک عمل نہ ہو۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

تو چلئے جناب اب اُن باتوں کا تھوڑا سا تذکرہ کر لیتے ہیں جن سے دِل بعض اوقات دُکھی ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے جو چیز توجہ طلب ہے وہ ہے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی بعض ایسی پوسٹس جن کا تعلق انبیاء کرام سے منسوب کیا جاتا ہے اور لوگ بغیر کسی تحقیق کے اپنے کامنٹس میں ماشا اللہ، سبحان اللہ کی ایک لمبی لائن لگا دیتے ہیں۔ کئی پوسٹس ایسی ہے جن کے بارے میں بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی کے یہ صحیح نہیں تھی۔ تو میری آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ بغیر تحقیق کے ایسی پوسٹس کو آگے شیئر کرنے سے گریز کیجیئے۔

دوسری جو بات پریشان کرتی ہے وہ یہ کہ کئی تصاویر ایسی ہوتی ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ جن معتبر اور عزت والی شخصیات سے منصوب کی جا رہی ہے آیا یہ سچ بھی ہے کہ نہیں مگر نیچے کچھ ایسی باتیں لکھی ہوتی ہے کہ بعض لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہے کہ کیا کریں، جیسا کہ ”شیطان آپ کوشئیر کرنے سے روکے گا“۔ یا پھر ”اگر مسلمان ہو تو لازمی شیئر کرو“ بعض دفعہ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ ”جن کو اللہ اور رسول ﷺ سے پیار ہے صرف وہ ہی شئیر کریں“ اَب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اَگر کوئی کسی کی پوسٹ شیئر نہیں کرتا تو کیا وہ مسلمان نہیں؟ یا اُس کو اللہ اور رسولﷺ سے پیار نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کون لوگ ہیں جو اِس طرح سے لوگوں کے ایمان کا امتحان لے رہے ہیں اور یہ ہوتے کون ہے ایسا اِمتحان لینے والے۔ تو جناب جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی باتیں لکھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ بغیر تصدیق کئیے کہ بات صحیح ہے یا نہیں جلدی سے شئیر کردیں۔ اِسی وجہ سے کافی غلط باتیں جو لوگوں کی خود سے بنائی ہوئی ہے بھی سوشل میڈیا پر عام ہو چکی ہے، جو کہ ایک المیہ ہے۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ اِس طرف خاص توجہ فرمائے اور اِس طرح کی باتوں کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدام کرے۔

بات سوشل میڈیا کی ہو رہی ہے تو کچھ بات سیاسی مخالفین کی بھی کر لیتے ہے۔ کسی پارٹی کے لیڈر کے خلاف یا حق میں کوئی بیان آنے کی دیر ہوتی ہے بس پھر کیا ایک طوفانِ بدتمیزی سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔ ایسے ایسے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے کہ شیطان بھی شرما جائے۔ لیکن شیطان شرماتا نہیں ہوگا بلکہ ہم اِنسانوں کی کم عقلی اور اپنی فتح پر قہقہے لگاتا ہو گا۔ سوشل میڈیا کو چھوڑیں جناب عام زندگی میں لوگ اپنوں سے لڑ پڑتے ہیں، مجھے ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ اُن لوگوں کے لئے آپس میں لڑتے ہیں جن کو وہ جانتے بھی نہیں اور نہ وہ اِن کو جانتے ہے۔

مگر جناب لوگ اپنے اپنے لیڈران کے لئے ایسے لڑتے ہیں کہ بس مت پوچھیے۔ لگتا ہے روز اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ہوں گے۔ اپنی اپنی جہالت میں اُن لوگوں کے لئے اپنوں سے لڑتے ہیں جن سے اگر کبھی ملنے چلے جائیں تو اپنے گھر کے اندر بلانا تو دور کی بات شاید اُن کی گلی کے اندر بھی داخل نہ ہونے دیا جائے۔ مگر محبت تو محبت ہوتی ہے۔ ارے میرے بھائیوں کیوں ایسے لوگوں کے لئے لڑتے ہو جو تم کو حقیقت میں جانتے بھی نہیں اور تم بھی بس صرف اُن کا نام جانتے ہو یا ٹی وی پردیکھ لیتے ہو، اور ایسے لوگوں سے لڑتے ہو جن کے درمیان تم دن رات رہتے ہو، جو حقیقت میں تمھارے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔

آپ کو حق ہے جس کو مرضی چاہے ووٹ دیں مگر یہ صحیح نہیں کہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ ایک چھوٹی سی بات تھوڑی دیر کے لئے سوچئیے اگر آپ کا لیڈر جیت چکا ہے مگر اِس کے باوجود آپ کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑا، آپ اَگر اَب بھی اپنے بچوں کے دودھ کے لئے پریشان ہے تو یقین کیجیئے آپ کا لیڈر نہیں ائے گا آپ کے گھرکہ آپ اپنے بچے کے دودھ کی وجہ سے پریشان ہے، آپ کے پاس پیسے نہیں ہے، مگر ہاں مجھے یقین ہے آپ کا وہ پڑوسی، دوست، رشتہ دار یا کوئی بھی آپ کے آس پاس رہنے والا ضرور آئگا آپ کی مدد کو جس سے آپ اپنے اپنے لیڈر یا اُس پارٹی کے لئے جس کو آپ پسند کرتے ہے لڑائی کرتے رہتے ہے۔ بس بات ہے تھوڑی سمجھنے کی اور بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کی۔ اللہ پاک ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت پیدا فرمائے اور ہمارے وطنِ عزیز کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

Facebook Comments HS