قائد میں خرابی نہیں، ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے

عوام۔ جیسے ہی یہ لفظ کانوں میں پڑتا ہے یا ہم خود اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں تو دماغ میں ایک بہت ہی مظلوم، دُکھی اور مصیبتوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی کسی مخلوق کا تصور دماغ میں اُبھرتا ہے، جو کہ دراصل ہم خود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سو فیصد عوام مظلوم ہے؟ دکھی ہے؟ اور مصیبتوں کے پہاڑ تلے دبی ہوئی ہے۔ شاید ایسا نہیں ہے۔ پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے

Read more

سوشل میڈیا پر کیا لکھا اور کہا جا رہا ہے؟

بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کے بارے میں کوئی اچھی یا بُری بات سنو تو ہمیشہ کوشش کرو کہ آگے پہنچانے سے پہلے اِس بات کی تصدیق کر لو کہ یہ بات صحیح بھی ہے یا نہیں۔ اَگر بات بُری ہے اور کسی کی رسوائی کا سبب بنتی ہو تو کوشش کرو کہ کسی اور کو پتہ نہ چلے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ ”جس نے کسی مسلمان کی

Read more

کیا ہمیں دشمنوں کی ضرورت ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی یا جب بھی مسلمانوں نے نقصان اُٹھایا اپنوں ہی کے ہاتھوں سے اُٹھایا۔ کل رات تمام ٹیلیوژن چینلز صرف ایک ہی بات کو لے کر چیخ رہے تھے کہ کالے کوٹ والے قانون کے رکھوالوں نے پاکستان اِنسٹیوٹ آف کارڈیولوجی یعنی اَمراض قلب جس کو عام زبان میں دِل کی بیماری کا ہسپتال کہا جاتا ہے پر دھاوا بول دیا۔ فوٹیجز دیکھ کر دِل دہل گیا ایسا لگ رہا تھا

Read more

کیا انسانیت دم توڑ رہی ہے؟

کسی کو کہتے سنا کہ اِنسانیت دم توڑ رہی ہے۔ پھر جب اِس بات پر غور کیا تو لگا کِس قدر سچی بات کہہ گیا کوئی۔ اپنے اِرد گِرد کے ماحول کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے اِنسانی شکل میں کیسی کیسی عجیب مخلوق سانس لے رہی ہے۔ مخلوق اِس لئے کہنا پڑا کہ اللہ نے اِنسان کو اَشرف المخلوقات کہا ہے۔ سوال یہ ہے کیا واقعی آج کا اِنسان اِس پیمانے پر پورا اُترتا ہے؟ کہتے ہے

Read more

ماسی حاجراں جیسے لوگ کب آئیں گے؟

اللہ بخشے میری والدہ کو، ایک دن میں اُن کے ساتھ بیٹھا تھا میں اُس وقت آٹھویں جماعت میں تھا، شاید اسکول سے کوئی شکایت آئی تھی، وہ مجھ سے بولی بیٹا تمھیں ایک بات سناؤں، میں بولا جی ماں جی ضرور۔ تو وہ بولی بیٹا جب میں چھوٹی تھی تو ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی عورت دوسرے گاؤں سے آتی تھی، جس کا نام تھا ماسی حاجراں وہ گھر گھر جا کر کپڑا بیچا کرتی تھی۔ ہم سب لڑکیاں

Read more