خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر آئینی، غیرقانونی اور غیر شرعی ہے: عمران خان


وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر شرعی قرار دے دیا۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیرِصدارت میڈیا اسٹریٹیجی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے سے متعلق وزیراعظم عمران خان کو لیگل ٹیم کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

اس اجلاس کے دوران قانونی ٹیم نے وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خصوصی عدالت کا یہ فیصلہ انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر شرعی ہے۔

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، ملک میں اداروں کا ٹکراؤ پیدا نہیں ہونے دیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے قانونی ٹیم کو جسٹس وقارسیٹھ کیخلاف ریفرنس تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے جب کہ وزیر قانون فروغ نسیم کو خصوصی عدالت کے فیصلے پر ردعمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے اور ڈی چوک پر پرویز مشرف کو لٹکانے کی بات کرکے انسانی حقوق کی حدود کو پار کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آرٹیکل 6 کے تحت مجرم قرار پائے، ان پر 2007ء میں آئین توڑنے، ایمرجنسی لگانے، ججز کو نظر بند کرنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ نے کہا ہے کہ پھانسی سے قبل اگر پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش ڈی چوک لائی جائے اور 3 روز تک وہاں لٹکائی جائے۔

Facebook Comments HS