عدم برداشت
کسی بھی معاشرے کی عمارت رواداری، اخلاقیات اور برداشت جیسے مضبوط ستونوں پر استوار ہوتی ہے اور جس معاشرے سے یہ تینوں چیزیں رخصت ہو جائیں تو معاشرے کی عمارت کی بنیاد کمزور پڑ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت انتہائی درجے کو پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے ائے روز متشدد واقعات رونما ہوتے ہیں جو عالمی سطح پر ہمارے لئے باعثِ شرمندگی و عار ثابت ہو رہا ہے اور ایسا رویہ ہماری غمازی کرتا ہے کہ ہم کتنے عدم برداشت کے شکار معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایسے ہی حال میں ہی عدم برداشت کا مظاہرہ ہمارے معاشرے کے سب سے پڑھے لکھے لوگ جن کو قانون کی بھی اچھی خاصی جان پہچان ہوتی ہیں جن کو حرفِ عام میں وکیل کہتے ہیں قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پنجاب انسٹیٹوٹ اف کارڈیالوجی پر دھاوا بول کر کرتے ہیں۔ اور وہاں پر زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے چھ مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا شاید اس سے بڑا کوئی اور ثبوت نہ پیش کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے ایسے واقعات ہیں جو اس بات کا پکا ثبوت ہے کہ ہم کس قدر عدم برداشت کے شکار ہیں۔ عدم برداشت ہمارے اندر اتنا سرایت کر چکی ہیں کہ جہاں ایک باپ اپنی سگی بیٹی کو گول روٹی نہ بنانے پر موت کی ابدی نیند سلا دیتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے کے باسی ہیں جہاں پر لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد کرنے سے باز نہیں اتے۔ مذکورہ بالا دو واقعات اس بات کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں کہ ہم ایک عدم برداشت اور متشدد معاشرے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم اتنے عدم برداشت کا شکار کیوں ہیں تو بڑی اسانی سے اس کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر لوگ روزمرہ کی زندگی میں مختلف مسائل کا سامنے کرتے ہیں جن کو حل کرنے کی ان کے پاس کوئی ترکیب نہیں ہوتی جس سے ان میں برداشت کی کمی واقع ہوتی ہے اور ان کا رویہ دوسروں کے متشدد ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ اس قسم کے رویے نے لوگوں کے ذہنوں ہر انتہائی منفی اثرات ڈالے ہیں جس کی وجہ سے لوگ تنگ مزاج بن گئے ہیں اور وہ بات بات پر بگڑ جاتے ہیں اور انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی کوئی بھی حکومتی کوشش نظر نہیں اتی۔ اور اگر اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو یہ نہایت خطرناک صورت حال ثابت ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے اور کوئی بھی مسئلہ لاینحل نہیں ہوتا۔ عدم برداشت بھی قابل حل مسئلہ ہے لیکن یہ کام صرف حکومت اکیلے میں نہیں کرسکتی ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنے اپ میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے اور برداشت کے مادے کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ اس بابت ہمیں ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
ہمارا ماضی اج کل کے مقابلے میں برداشت اور اخلاقیات کا متقاضی تھا اور تھوڑی سے کوشش سے اپنے ماضی کی صورتحال کو واپس پلٹا سکتے ہیں۔ جہاں پر ہمارا معاشرہ دوبارہ اخلاقیات اور برداشت کے مادے سے مزین ہو سکتا ہے۔ اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ ہم اگر اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں تو ہم پھر سے ایک کامیاب معاشرے کے طور پر ابھر سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں کو بہر حال سوچنا پڑے گا اور اس کا ایک مستقل حل نکالنا پڑے گا۔
عدم برداشت ہر لحاظ سے قابلِ نفرت اور قابلِ مذمت فعل ہے اور ہماری بہتری اسی میں ہے کہ ہمیں ہر قسم کے عدم برداشت کے رویوں سے جان چھڑانی چاہیے تاکہ ماشرے کو اعلیٰ اخلاقی اقدار سے سینچا جائے۔ تبھی عالمی سطح پر ہمارا احترام بھی ہوگا اور ہماری پزیرائی بھی ہوگی۔
بقول شاعر
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا
اندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا


