بینکنگ سسٹم اور سٹاک ایکسچیینج کا تعارف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بینک اور سٹاک ایکسچینج کا نام سنتے ہی عام طور پر حرام و حلال اور جائز و نا جائز کی بحثیں شروع ہوتی ہیں۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے کسی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب جانتے ہی ہیں کہ سود لینا اور دینا اسلام میں قطعی حرام ہے۔ اس قطعی حرمت کے باوجود بینک کاری نظام اور سٹاک ایسچینج کی بنیادی چیزیں سمجھنا اس دور کی ایک انتہائی اہم ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی جس انتہائی پیچیدہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ زثر ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں یہ دونوں چیزیں اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سب سے پہلے اگر بینکوں کی بات کی جائے تو بنیادی طور پر ان سے دو طرح کے لوگوں کا واسطہ رہتا ہے۔ ایک وہ جو اپنا پیسہ بینک میں جمع کرکے اس پر سود لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو بینک سے قرضہ لے کر بینک کو سود دیتے ہیں۔ کسی بھی بینک کی بنیاد ڈالنے کے لیے ایک سرمایہ دار یا کچھ سرمایہ دار مل کر اپنے پیسے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اصولی طور پر تو شاید یہی سرمایہ کاری کی رقم وہ واحد رقم ہو سکتی ہے جو بینک کسی دوسرے کو ادھار دے سکتا ہے۔ حقیقت میں ایسے نہیں ہوتا، ایک دفعہ بینک بن جائے تو پھر بینک میں سود لینے کی خاطر جمع شدہ رقم کو بھی اپنے سرمایہ کاری کی رقم میں شامل کرکے اس کو بھی قرض لینے والوں کو بطور قرض دے سکتا ہے۔ اس طرح بینک کا اصل کام پیسہ کی منیجمنٹ بن جاتا ہے۔

بینک کاری دراصل ایک اعتمادی چال ہے۔ یہ کس قسم کی اعتمادی چال ہے اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کیا ایک بینک کے مالکان ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرکے ایک بینک بناتے ہیں۔ اس کے بعد دس صارفین آکر دس لاکھ (ایک ملین) روپے فی صارف اس بینک میں جمع کراتے ہیں۔ صارفین کی طرف سے جمع شدہ رقم بھی سرمایہ کاری کے کھاتے میں ڈال کر بینک کے پاس مجموعی سرمایہ کاری کی رقم دو کروڑ روپے ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد تین صارف آکر بینک سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ کا قرض لیتے ہیں اور یوں بینک کے پاس صرف پچاس لاکھ باقی رہ جاتے ہیں۔

اب اگر پیسہ جمع کرنے والوں میں سے دو تین صارفین کو یہ گمان ہوا کہ بینک ہمارے پیسے واپس نہیں کر سکتا اور وہ آکر اپنا پیسہ بینک سے نکلوانا چاہیں تو بینک کو ان کے پیسے واپس کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ دوسری طرف اگر دس کے دس پیسہ جمع کرانے والے صارفین کو بینک پر بد گمانی لاحق ہو اور اپنا پیسہ واپس لینا چاہیں تو بینک ان کے پیسے واپس نہیں کر سکے گا۔ گویا اگر زیادہ لوگوں نے یہ سوچا کہ بینک ہمارے پیسے واپس نہیں کرسکتا تو واقعتاً بینک ان کے پیسے واپس نہیں کر سکتا، اگر زیادہ لوگوں نے سوچا کہ بینک ہمارے پیسے واپس کر سکتا ہے تو وہ واقعتاً پیسے واپس کر سکتا ہے۔

چونکہ عام طور پر بہت زیادہ بینک صارفین کو بینک پر شک نہیں ہوتا اس لیے بینک چلتے رہتے ہیں۔ صارفین کو پیسے واپس کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا کچھ حصہ بینک اپنے پاس لیکویڈ ریسورسز (کرنسی یا جلدی ہی کرنسی میں بدلنے والی چیزیں ) جیسے گورنمنٹ بانڈز وغیرہ کی شکل میں رکھتے ہیں اور آسانی سے بیچ کر پیسے واپس مانگنے والوں کو پیسے واپس کرتے ہیں۔

بالفرض زیادہ لوگوں کو بینک پر شک ہو بھی جائے تو عمومی حالات میں پھر بھی بینک کسی دوسرے بینک سے قرض لے کر ان کے پیسے واپس کر سکتا ہے۔ اس لیے اس اقسام کی بد گمانیوں سے صرف اس وقت مسئلہ ہو سکتا ہے جب سب بینکوں کے صارفین کو شک ہو کہ ہمارے پیسے واپس نہیں مل سکتے۔ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے سب سے اہم کردار سینٹرل بینک (پاکستان کی صورت میں سٹیٹ بینک) کا ہے۔ یہ وہ واحد بینک ہے جو کیش فلو (لیکویڈٹی فلو) کا مسئلہ حل کر سکتا ہے۔

جس بینک کو بھی اس قسم کا مسئلہ ہوگا اس کے اثاثوں میں لوگوں کو ادھار دی ہوئی رقم تو ہوتی ہے مگر اسے جلدی حاصل کرنا بینک کے بس میں نہیں ہوتا۔ اگر صارفین کا اعتماد کھونے والے بینک کا دیا ہوا قرضہ اپنا پیسہ واپس مانگنے والے صارفین کے پیسوں سے زیادہ ہو تو سینٹرل بینک اس کی بھرپور مدد کرتا ہے۔ اور یوں بینک ایسی صورتحال سے با آسانی نکل جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر بینک کے سارے نان لیکویڈ رسورسز (وہ اثاثے جو جلدی کرنسی میں نہ بدلے جا سکیں ) بھی اتنے نہ ہوں جتنے پیسے صارفین واپس مانگ رہے ہوں تو پھر بینک کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ دیوالیہ نکلنے سے پہلے عام طور پر گورنمنٹ ایسے بینکوں کو ایک حد تک بیل آوٹ کرتی ہے۔ بیل آوٹ کے عمل میں گورنمنٹ اتنا پیسہ اس بینک میں جمع کرتی ہے جتنے پیسے کی اس بینک کو ضرورت ہوتی ہے تاکہ واپس مانگنے والے صارفین کے پیسے واپس کیے جا سکیں۔

گورنمنٹ کی طرف سے بیل آوٹ کی یقین دہانی بینکوں پر صارفین کے اعتماد کو بحال رکھتا ہے۔ یوں بیل آوٹ کرنے کی نوبت پیش ہی نہیں آتی۔ عام طور پر گورنمنٹس بیل آوٹ انشورینس کی حد مقرر کرتی ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اتنی رقم تک گورنمنٹ بینک کو دے سکتی ہے اور پھر بینکس بھی اس سے زیادہ قرضے نہیں دے سکتے۔ دیوالیہ سے بچنے کا ایک اور طریقہ خطرے کو ایک حد سے کم رکھنا ہوتا ہے۔ اس طریقے میں کسی بینک میں جتنا پیسہ اس کے مالکوں (شئیر ہولڈرز) نے لگایا ہوتا ہے اس کی ایک مخصوص شرح سے زیادہ قرض وہ بینک نہیں دے سکتا۔

ان سب اقدامات کے علاوہ دیوالیہ سے بچنے کے لیے موجودہ دور میں ایسیٹ بیکڈ سیکیورٹی کے ساتھ قرضے دیے جاتے ہیں۔ قرضہ دینے کے لیے ایک ایسی کم لیکویڈ چیز (جسے جلدی خرچ نہ کیا جا سکے ) جیسے مکان وغیرہ سیکورٹی کے طور پر رکھی جاتی ہے۔ اس طریقے کو مارگیج بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے طریقوں کی وجہ سے عام طور پر بینکوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے سر پر کسی دیوالیہ نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ اس طرح بینک باقی سب کمپنیوں سے زیادہ طاقتور اور منافع بخش بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے ذہین لوگ نوکری کے لیے بینکوں کی طرف دلچسپی لیتے ہیں۔

بینکوں کی اس اجارہ داری کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسے قیمتی لوگ جنہیں کسی اور اہم جگہ پر ایجادات جیسی اہم چیزیں کرنی چاہیں وہ بھی زیادہ پیسے ملنے کی وجہ سے بینکوں میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے بینکوں کے ناموں کے ساتھ ”لمیٹڈ“ لکھا ہوا بھی ضرور دیکھا ہوگا۔ دیوالیہ نکلنے کی صورت اس ”لمیٹڈ“ لفظ کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔ نام کے ساتھ اس اضافے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں بینک مالکان صرف اپنی سرمایہ کاری کی رقم کھوئیں گے۔ اس کے علاوہ ان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ بینک مالکان (شئیر ہولڈرز) اپنی کوئی اور جائیداد یا کمپنی وغیرہ بیچ کر صارفین کی رقم واپس کرنے کے پابند نہیں ہوں گے اور یوں جس کے پیسے ڈوب گئے ڈوب گئے۔

سرمایہ دارنہ نظام میں سٹاک مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں کمپنیوں کے شئیرز خریدے اور بیچے جا تے ہیں۔ ایسی تمام کمپنییاں جن کے شئیرز سٹاک مارکیٹ میں خریدے اور بیچے جائیں وہ پبلک کمپنیاں کہلاتی ہیں۔ کسی بھی پبلک کمپنی کی طرح پبلک بینکوں کے شئیرز بھی سٹاک مارکیٹ میں ہی بیچے اور خریدے جاتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں شئیرز کے علاوہ کمپنیاں بھی بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔ کمپنی خریدنے کا عام طور پر یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کسی فرد نے کمپنی کے تمام کے تمام شئیرز خرید لیے بلکہ اگر کوئی شخص ایک حد سے زیادہ شئیرز خریدے تو کمپنی کی پالیسیاں اس کی مرضی سے ہی بنتی ہیں اس لیے ایسے فرد کو کسی حد تک کمپنی کا مالک سمجھا جاتا ہے۔

اُس مخصوص حد سے زیادہ ایک کمپنی کے شئیرز خریدنے کو ”ایکوزیشن“ کہتے ہیں۔ کسی بھی سٹاک ایکسچینج میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ سٹاک مارکیٹ انڈیکس سے ہوتا ہے۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں عام طور پر سٹاک ایکسچینج کی صرف چند ایک اہم کمپنیاں شامل ہوتی ہیں۔ ان کمپنیوں کی سائز کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اوسط اتار چڑھاؤ کا حساب لگایا جاتا ہے۔ انڈیکس میں پوانٹ سے مراد عام شئیرز کی قمیت میں کمی بیشی لی جاتی ہے۔ پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس کے ذریعے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو جانچا جاتا ہے۔ انڈیکس کے ساتھ ہنڈرڈ کا مطلب یہ ہے کہ اس انڈیکس میں مارکیٹ کی صرف سو کمپنیاں شامل ہیں اور ان کمپنیوں کے اتار چڑھاؤ سے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو پرکھا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •