پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ اور فوج کا ردعمل
17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سابق صدر پر ویز مشرف کو سنگین غداری کے مقدمے میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ عدالتی فیصلے کے بعد جنرل ہیڈکوارٹر اولپنڈی (جی ایچ کیو) میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔ اس غیر معمولی اجلاس کے بعد فوج کے تر جمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پر یس ریلیزجاری کی جس میں انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے، مشرف غدار نہیں ہو سکتے۔
پرویز مشرف غدار کیوں نہیں ہو سکتے؟ اس کی تو جیح انھوں نے یہ بیان کی کہ وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہے ہیں، وہ فوج کے سربراہ بھی رہے ہیں، ملک کے صدر بھی رہے ہیں، انھوں نے چالیس سال تک اس ملک کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کے لئے جنگیں بھی لڑیں ہیں۔ یہ ردعمل تھا پاک فوج کا مختصر فیصلہ سنانے کے بعد۔ پھر جب 19 دسمبر کو خصوصی عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تو بھی اسی دن فوج نے اپنا شدید ردعمل دیا۔ اس مرتبہ کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی بلکہ فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کرکے ادارے کے ردعمل سے قوم کو آگاہ کیا۔
فوج کی طرف سے سنگین غداری کے مقدمے میں مختصر اور تفصیلی فیصلے کے بعد جو فوری ردعمل دیا گیا وہ آج کل مو ضوع بحث ہے۔ ہم اس فیصلے پر رائے دینے کی بجائے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا فوج کو فوری ردعمل دینا چاہیے تھا کہ نہیں؟ مختصر فیصلہ آنے کے بعد فوج کو فوری ردعمل کی ضرورت نہیں تھی۔ بے شک وہ اجلاس بلا کر مشاورت کرتے، لیکن شدید غم و غصے اور اضطراب کی پریس ریلیز جاری کرنے کی بجائے اگر یہ بیان جاری کرتے کہ ابھی تفصیلی فیصلہ آیا نہیں ہے اس لئے ہم اس پر رائے نہیں دے سکتے۔
تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد جس سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا اس کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ بے شک فوج کو بیان جاری کرنا چاہیے تھا کہ ابھی ہم فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں، تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد ردعمل دیں گے۔ تفصیلی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد بھی ردعمل سخت نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ اگر ردعمل دینا بھی تھا تو کہہ دیتے کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں۔ پرویز مشرف کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حا صل ہے۔ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔
ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ ان کے ساتھ انصاف کر ے گی۔ میرے خیال میں اس سے بھی زیادہ ضروری تھا کہ وفاقی حکومت فوج سے رابطہ کرتی اور ان کو اس بات پر راضی کرتی کہ آپ کا جو بھی ردعمل ہو اس کا اظہار آئی ایس پی آر کی بجائے وفاقی حکومت کرے گی۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ فوج کے ردعمل کے بعد وفاقی حکومت نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وفاقی وزراء نے جس انداز میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو مسترد کیا وہ ہر گز قابل تحسین نہیں۔
فوج اور وفاقی حکومت دونوں کو اس فیصلے پر فوری ردعمل کی بجائے تفصیلی فیصلے کا قانونی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ابھی سپریم کورٹ میں اپیل ہو گی۔ جو غلطیاں ان سے خصوصی عدالت میں مقدمہ کے دوران ہو ئی ہے، ان کو چاہیے کہ سپریم کورٹ میں ان تمام غلطیوں سے مکمل اجتناب کریں۔ وفاقی حکومت اور فوج کو سپریم کورٹ میں اپیل کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ پر ویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ اس بنیاد پر نہیں چلا کہ وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تھے کہ نہیں؟
نہ اس بنیاد پر ان کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے کہ وہ چیف آف ارمی سٹاف تھے کہ نہیں؟ نہ ان کو سزا اس لئے دی گئی ہے کہ وہ صدر پاکستان نہیں تھے اور نہ اس وجہ سے سزا دی گئی ہے کہ پرویز مشرف نے ملکی دفاع کے لئے جنگیں نہیں لڑی ہے بلکہ ان کو سزا اس لئے دی گئی ہے کہ انھوں نے 3 نومبر 2007 ء کو غیر آئینی اور غیر قانونی ایمرجنسی کا نفاذ کیا، آرمی چیف کی حیثیت سے پی سی او جاری کیا اور ججوں کو نظر بند کیا۔ پانچ نکات کو بنیاد بناکر خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔
سپریم کورٹ میں جب اپیل کی سماعت ہو گی تو بھی یہی نکات نہ صرف دوبارہ زیر غور آئیں گے بلکہ انہی نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی حکومت اور فوج کو شدید ردعمل دینے کی بجائے فیصلے کے آئینی اور قانونی پہلوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس لئے کہ اگر سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کا فیصلہ بر قرار رکھا تو پھر اس پر عمل درآمد وفاقی حکومت کی مجبوری ہو گی۔ اگر وہ عمل درآمد نہیں کریں گے تو توہین عدالت کا راستہ کھلا ہے پھر وہ کسی کے گھر تک بھی جا سکتا ہے۔


