قومی ادارہ براے فروغ منافقت


عالمی سطح پر اپنے مطالبات کو احتجاج کی صورت میں پیش کر کے انھیں منوانے کی روش روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ معاشرے کا ہر طبقہ آئے روز اپنے اپنے مطالبات لے کر سڑکوں، گزرگاہوں اور چوراہوں کا رخ کرتا نظر آتا ہے۔ ان میں معاشرے کے کوئی سے بھی دو طبقات کے مطالبات میں آپس میں کبھی بھی ہم آہنگی نہیں پائی گئی۔

لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام طبقات ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر، اپنے واحد مشترکہ مطالبے کو، صدرِ ریاستِ جمہوریہ کے کانوں تک پہنچائیں۔ واضح رہنا چاہیے کہ یہی وہ واحد مطالبہ ہے جو ہمارے، یعنی ریاست جمہوریہ کے عوام کے، تمام طبقات میں ایک مشترک مطالبہ کی حثیت رکھتا ہے۔ تاہم انفرادی سطح پر استثنائی صورتیں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔

چنانچہ اس ریاستِ جمہوریہ کے عوام بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست ہمارے اس مطالبے پر کان دھرے اور انہیں جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کرے۔ ہم، یعنی اس ریاستِ جمہوریہ کے عوام، یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست میں منافقت کے فروغ کو حکومتی سطح پر، جاری دیگر منصوبوں سے فوقیت دی جائے۔

یہ کہ منافقت کو قانونی تحفظ دیا جائے۔ اس کو بدنام کرنا، ایک ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔ منافقت کو وسیع تر قومی مفاد کا حصہ بنایا جائے۔

معاشرے میں اس وقت موجود منافقت خام حالت میں یے۔ جس کے مظاہرے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں اور ہم عوام کو مناسب تربیت نہ ہونے کے باعث ہمیشہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ چنانچہ منافقت کے تحفظ اور فروغ کے لیے، بذریعہ ایک عدد صدارتی آرڈیننس، ایک قومی ادارہ تشکیل دیا جائے۔ اس ادارے کا نام، اِس ریاست جمہوریہ کے عوام کے پرزور مطالبے پر، ’قومی ادارہ براے فروغ منافقت‘ تجویز کیا گیا ہے۔

یہ کہ منافقت کو نہ صرف نصاب کا حصہ بنایا جائے بلکہ وقتا فوقتا مختلف ورکشاپوں، مختصر مدد کے کورسسز اور سیمینارز کے ذریعے عوام میں آگہی مہم چلائی جائے۔ غیر ضروری امتحانات سے اسے یقینا ترقی ملے گی۔

یہ کہ فرد کے لیے منافقت کی تربیت کا اہتمام بالکل ابتدائی سطح سے ہی شروع کر دیا جائے۔

یہ کہ دوا ساز اداروں کو فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ماہرین کی ٹیمیں تیار کرکے ایسی عمدہ ویکسین، ٹیکے اور ادویات تیار کریں، جس سے ضمیر کی آواز کو خاموش کیا جانا ممکن ہو۔ اس سلسلے میں اگر ایک مؤثر ’منافقت گھُٹی‘ بھی تیار ہو جائے تو زندگی کے بعد کے مراحل میں یقینا آسانی رہے گی اور قومی وسائل کی بچت بھی ہو گی۔

یہ کہ یہ ادارہ بورڈ آف گورنرز کے تحت چلایا جائے، جس کے ارکان کا انتخاب صرف اور صرف ان کی پچھلی، اعلی کارکردگی کی بنیاد پر ہو۔ اقربا پروری یا ذاتی دوستیوں کی بنا پر نامزدگی ہرگز قابل قبول نہیں ہو۔

یہ کہ صدرِ ریاستِ جمہوریہ، اس ادارے کی سفارشات ماننے کے پابند ہوں۔

یہ کہ منافقت کے فروغ کے لیے، جیسا کہ ماضی کے تجربات سے اچھی طرح واضح ہو چکا ہے، نت نئی غیر ضروری قانون سازی کی جائے۔ ادارہ کی طرف سے سفارش کردہ مجوزہ قانونی مسودے پر، صدر ریاست جمہوریہ دستخط کرنے کے پابند ہوں۔ اور یہ کہ ان قوانین کو ہمیشہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہی نافذ کیا جائے۔

یہ کہ یہ ادارہ بے جا پابندیوں کے نفاذ پر اپنی تمام تر وسائل اور توانائیاں خرچ کرنے کا پابند ہو۔ کیونکہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کسی معاشرے میں بے جا پابندیوں کو منافقت کے فروغ میں ہمیشہ مجرب پایا گیا ہے۔

ان پابندیوں میں سر فہرست گالم گلوچ اور تو تکار پر پابندی کو رکھا جائے۔ گالم گلوچ منافقت کے فروغ کے لیے زہر قاتل کی حثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ منافقت تو نام ہے ’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘ کا۔ لہذا یہ ادارہ ادبیوں اور ماہر لسانیات پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے، ماہرین رذیل جذبات کے اظہار کے لیے نئے اور باوقار الفاظ و تراکیب تیار کریں اور ان کو رواج دیں۔ ان کے نئے مفاہیم سے متعلق آگہی بھی پھیلائی جائے۔ ان الفاظ و تراکیب کو بھی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے۔ تاکہ انہیں بھی سرکاری سرپرستی حاصل ہو۔

ریاست جمہوریہ کے عوام اس مہم کو پائے تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ اور اس کام کے لئے ہرگز ہرگز منافقت کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS