عبدالصمد بنگالی اور سقوط ڈھاکہ کی روح تڑپا دینے والی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابا جی نے ایک روز اعلان کیا:

”آج سے گھر کا سودا سلف عبدالصمد بنگالی کے ہاں سے آئے گا“۔

وہ عجب زمانہ تھا۔ ہمارے بزرگ بات بات پر جذباتی ہوجاتے، مشرقی پاکستان کے ذکر پر آنسو بہاتے اور اُس دیار سے کسی کے آنے کی خبر ملتی تو اس کی راہ میں پلکیں بچھا دیتے۔

بھٹو صاحب کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا، بھارت کی قید سے رہا ئی کے بعد بہاریوں اور محب وطن بنگالیوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ اس مقصد کے لیے سرگودھا میں سلانوالی روڈ پر گلشن کالونی بسائی گئی اور اُس کے باسیوں کی گزر بسر کے لیے ایک منصوبہ بنایاگیا جس کے سبب دیکھتے دیکھتے ہی باغ جناح کے مرکزی راستے پر کھوکھوں کا بازار وجود میں آگیا۔ ابا جی کے فیصلے کا سبب سمجھ میں آیا تو اس بنگالی کی زیارت کی خاطرمیں بھی باغ جناح جا پہنچا جہاں ناٹے قد کا ایک سانولا سا شخص اجنبی لہجے میں باتیں کرتا، کنستر سے گھی نکال کر تولتا یا پلٹ کر پیچھے دیکھتا اور اپنے بچوں کو کوئی ہدایت جاری کرتا، یہ عبدالصمد تھے۔

ہم پاکستانیوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، جلد جذباتی ہوجاتے ہیں اور جس قدر جلد جذباتی

ہوتے ہیں، اسی تیزی کے ساتھ جذبات کا طوفان اتر بھی جاتا ہے، گلشن کالونی کا حشر بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور کمپنی باغ میں تخلیق پانے والے بازار کا بھی۔ بلدیہ سرگودھا، جس نے یہ بازار قائم کیا تھا، خود اسی نے اسے تجاوزات قرار دے کر مسمار کر ڈالا۔ بازار تو ختم ہو گیا لیکن عبدالصمد بنگالی اس کے باوجود نظر آتے رہے۔ کبھی وہ اباجی کے مطب پر تشریف لاتے اور دیر تک باتیں کرتے۔ کبھی وہ حکیم عبدالرحمن ہاشمی کے دارالرحمت کی محفلوں میں دکھائی دیتے اور کبھی کہیں آتے جاتے۔ صمد صاحب کو دیکھ کر میں اگرچہ مایوس ہوا تھا لیکن جب ان سے ملنے کے مواقع بار بارملے اور انھیں اپنے بزرگوں کی قربت میں دیکھا تو میری دلچسپی ان میں بڑھنے لگی۔

صمد صاحب پاکستان آئے تو بھرپور جوان تھے، دبلے پتلے تھے لیکن ہاتھ پاؤں کے مضبوط تھے۔ چمکتی ہوئی آنکھیں ان کی ذہانت کا رازکھولتیں۔ ان کے کالے سیاہ بال میں نے اپنی آنکھوں سے کھچڑی بنتے دیکھے، کوئی یہی زمانہ تھا جب خش خشی داڑھی بھی ان کے چہرے پر نظر آنے لگی۔ اس کے بعد وہ کہیں غائب ہوگئے اور مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ یہ شخص آخر کہاں گیا؟ یہ پہلی بار تھی جب میں نے فکر مندی سے ان کے بارے میں سوچا۔ اسی زمانے میں کچھ ایسی باتیں میرے علم میں آئیں جو حیران کن تھیں۔

صمد صاحب مشرقی پاکستان کے ضلع رنگ پور کے ایک گاؤں چیلا ہاٹی کے درمیانے درجے کے زمین دار اور تاجر تھے۔ زمین زرخیر تھی، اس لیے حویلی میں دھان اور پٹ سن کے ڈھیر لگے رہتے۔ محنت کی عادت تھی، اس لیے باقی وقت آڑھت میں گزرتا یا پھر تیستا نودی ( ندی ) سے بہہ کر آنے والے پتھروں کے کاروبار میں۔ گزر بسر اچھی ہورہی تھی کہ یکا یک حالات بدلے اور پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے کی باتیں ہونے لگیں۔ اسی دوران میں ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ایساواقعہ ہوگیا جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے اس خوش حال خاندان کے حالات بدل گئے۔

چیلا ہاٹی مشرقی پاکستان کا آخری قصبہ تھا۔ یہ قصبہ بھارت سے اتنا قریب ہے کہ گھر میں جلنے والے چولہے کادھواں بھی سرحد کے پار دکھائی دیتا ہے۔ اس نازک زمانے میں مکتی با ہنی کے غنڈوں نے سرحدی قربت کا ناجائز فائدہ اٹھایا، ایک شام وہ سرحد عبور کر کے چیلا ہاٹی میں داخل ہوئے اور گلی کوچوں میں چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کر روزی کمانے والے حافظ بہاری کو بکرے کی طرح ذبح کر دیا۔ صمد صاحب نے یہ خبر صدمے کے ساتھ سنی اور اعلان کیا :

”چیلا ہاٹی تے آر اے ای رقم ہو بے نا“ (چیلا ہاٹی میں آئندہ ایسا نہ ہو سکے گا) ۔

پھر یہ اعلان حقیقت میں بدل گیا حالاں کہ مشرقی پاکستان میں ان دنوں مکتی با ہنی کے بے لگام غنڈوں نے اودھم مچارکھا تھا لیکن چیلا ہاٹی کی بات دوسری تھی۔ اس گاؤں میں عبدالصمد شورکار (سرکار) کو چیلنج کرناآسان نہ تھا، علاقے میں ان کا رسوخ تھا، خدمت خلق کے کاموں کی وجہ سے مخالفین بھی ان کا احترام کرتے تھے، اسی لیے یہ علاقہ مکتی باہنی کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہا۔ مشرقی پاکستان کے شمال میں یہ واحد علاقہ تھا جہاں بازار معمول کے مطابق کھلتے، گلی کوچوں میں چہل پہل ہوتی، بچے اسکول جاتے، شادی بیاہ کی تقریبات میں میلاد ہوتے اورلڑکیاں بالیاں ”بھویّا“ گاکر خوشی کا اظہار کرتیں۔

لوگ خوش تھے اور صمد صاحب ان سے بھی زیادہ کہ وہ اپنی دانست میں دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکے تھے لیکن اُس روز ان کے صدمے کی انتہا نہ رہی جب میجر غلام رسول ساہی نے انھیں ہدایت کی کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔ اصل میں فوج کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سید پور کا رخ کرے اورچیلا ہاٹی خالی کرد ے کیونکہ صوبے کے دیگر حصوں میں مکتی باہنی کی سرگرمیوں میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ جنوب کے بعض علاقوں میں بھارتی فوج داخل ہوچکی ہے۔

رفتہ رفتہ چیلا ہاٹی کے قرب و جوار کے حالات بھی بگڑنے لگے یہاں تک کہ مکتی با ہنی نے صمد شورکار کے سر کی قیمت مقرر کردی۔ اعلان کیا گیا کہ جو شخص انھیں قتل کرے گا، اسے مقامی سنیما گھرانعام میں دیا جائے گاحالانکہ جنوب کا یہ واحد علاقہ تھا جہاں حافظ بہاری کے قتل کے بعد خون ریزی کا کوئی ایک واقعہ بھی رونما نہیں ہوا تھا، حتیٰ کہ ہندو تک محفوظ رہے تھے جس کاکھلے عام اعتراف کیاجاتا، یہی بات مکتی با ہنی کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔

”میں اپنا گھر بار چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ “۔

صمد صاحب نے میجر ساہی سے کہا۔ چیلا ہاٹی ان کے باپ دادا کا شہر تھا، یہی شہر تھا جس میں ان کے والد محی الدین شورکار نے تحریک پاکستان کی قیادت کی تھی اوران کے بزرگ کَچھ بہار کے راجہ کے منیم کی حیثیت سے اس علاقے میں صاحب اختیار رہے تھے۔ اِن کے لیے چیلا ہاٹی کو چھوڑنا آسان نہ تھا لیکن جب میجر غلام رسول ساہی نے انھیں اونچ نیچ سمجھائی تو وہ خاموش ہو گئے، اندر گئے، بیوی سے کہا کہ اٹھ نیک بخت کوچ کا وقت آن پہنچا اور وہ نیک بخت تین کپڑوں میں ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔

گھر سے نکل کر صمد صاحب دو قدم آگے بڑھے، رکے، پھر پلٹ کر دیکھا، صدر دروازے کے پاس وہ بانس ابھی تک نصب تھا جس پر دوماہ قبل انھوں نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اپنے ہاتھوں سے لہرایا تھا، وہ بانس سے یوں لپٹ گئے جیسے کوئی اپنے پیارے سے گلے ملتاہے، بوسا دیا اور الٹے پیروں چلتے ہوئے واپس لوٹے۔ اِس دم اُن کی آنکھیں بھر آئیں اور ہچکیوں کے سبب بات کرنی مشکل ہوگئی۔ جلد ہی یہ قافلہ گھر بار کھلا چھوڑ کر کسی نا معلوم منزل کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔

یہ سفر بڑا کٹھن تھا۔ کبھی فضائی حملے کا سامنا کرنا پڑا اور کبھی مکتی با ہنی کا۔ صمد صاحب کے پاس ایک سب مشین گن تھی جو انھوں نے اپنی بیل گاڑی پر نصب کر لی۔ قافلہ سید پور روڈ پر نیلفا ماری کے قریب پہنچا تو مخالف سمت سے آنے والی ایک جیپ نے اس پر گولیوں کی باڑھ ماردی جس پر ان لوگوں کو اپنی بیل گاڑی میں دبک جانا پڑا۔ اوسان بحال ہوئے تو پتہ چلا کہ صمد صاحب کی اہلیہ کی ساڑھی میں کئی سوراخ ہوچکے ہیں، گولیاں بچوں کے سروں کے اوپر سے سنسناتی ہوئی گرزی تھیں لیکن اللہ کے فضل سے کسی کا بال تک بیکا نہیں ہوا تھا۔

صمد صاحب سجدۂ شکر بجا لائے اور ان کی اہلیہ کو چند روز قبل گھر آنے والے اس مجذوب کی یاد آگئی جو پراسرار طور پر رات کے پچھلے پہر اُن کے گھر آیا، دال بھات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ رنّا گھور (باورچی خانہ) میں لٹکی شکیا ( چھینکا) میں پڑے دودھ اور مسسِپ ( نعمت خانہ، وہ چھوٹی الماری جس میں اس زمانے میں کھانے پینے کی چیزیں رکھی جاتی تھیں ) میں رکھی بھات ( چاوّل ) میں سے اسے حصہ دیا جائے۔ یہ ایک حیران کن بات تھی کیوں کہ عبدالسلام نے یہ بات جب اپنی ماں سے آکر کہی تو انھوں نے اس کی تصدیق کی کہ گھر میں یہ چیزیں ایسے ہی رکھی ہیں جیسے بتایا گیا ہے۔ مجذوب نے کھانا کھا کر اہلِ خانہ کو دعا دی، صاحب خانہ کو طلب کر کے حالات کی خرابی کی خبر دی پھر انھیں سات تعویز دیے اور ہدایت کی کہ گھر کے ہر فرد کے گلے میں ایک ایک تعویزڈال دیا جائے۔ صمد صاحب نے بیوی کی بات سنی تو ایک بار پھر سجدے میں گر گئے۔

چیلا ہاٹی سے سید پور کا سفر لگ بھگ 60 ؍کلو میٹر کاہے جو سات روز میں طے ہوا۔ قافلہ منزل سے ابھی دور ہی تھا کہ آسمان پر بھارتی ہیلی کاپٹر نظر آئے، مشہور تھا کہ فضائی جائزے کے بعد فوج ضرور حملہ کرتی ہے، صمد صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، بیل گاڑی سے کودکر دھان کے کھیت میں گھس گئے اوربچوں سے کہا کہ وہ پودوں سے انھیں ڈھک دیں، بچوں نے اپنا کام کیا اور صمد صاحب نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ شروع کردی۔ اس کسمپرسی میں بھی دفاعِ وطن کے لئے اُن کا جذبہ عروج پر تھا۔

قافلے کے سید پور پہنچنے سے پہلے ہی 16 ؍ دسمبر کا بے مہر دن گزر چکا تھا۔ یہ لوگ سید پور چھا ؤنی پہنچے تو فوج کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ اس خاندان کو بھی جنگی قیدی بنا لیا گیا۔

سید پور چھاؤنی میں قیامت کا منظر تھا۔ پاک فوج کے جوانوں کے لیے ہتھیار ڈالنے کی خبر ناقابلِ یقین اور ناقابلِ عمل تھی۔ فوجیوں کو پریڈ گراؤنڈ میں جا کر ہتھیار ڈالنے کا حکم ملا تو کئی غیرت مند جوانوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بندوق کی نالی کنپٹی پر رکھ کر جان جانِ آفرین کے سپردکر دی۔

دل و دماغ میں ہل چل مچا دینے والے یہ مناظر صمد صاحب اور اُن کے بچوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

دو برس بھارت کی قید میں گزارنے کے بعد یہ خاندان پاکستان پہنچا جہاں حکومت نے دیگر خاندانوں کی طرح اسے بھی سرگودھا میں گیارہ ہزار روپے کے آسان قرضے کے عوض تین مرلے کا چھوٹا سا مکان فراہم کیا۔ صمد صاحب اور ان کے کنبے نے آٹھ برس یہیں گزارے۔ زمین داروں کے اس ممتاز خاندان کا ان حالات میں گزارا مشکل تھا، صمد صاحب کو چیلا ہاٹی، اس شہر میں اپنی وسیع و عریض حویلی اور دھان کے کھیتوں کی یاد ستانے لگی اور انھوں نے مشرقی پاکستان واپسی کا فیصلہ کر لیا جو اب بنگلہ دیش کہلاتا تھا۔ گیارہ ہزار روپے میں ملنے والا گھر انھوں نے 18 ؍ ہزار روپے میں بیچا اور واپسی کی راہ لی۔

آٹھ برسوں کے دوران دنیا بدل چکی تھی۔ ان کی حویلی میں کالج قائم ہو چکا تھا، حویلی کا صدر دروازہ اگر چہ وہی تھا، اس کے ساتھ نصب بانس بھی اپنی جگہ موجود تھالیکن اس پر اب ان کا محبوب جھنڈا نہیں لہراتا تھا، صمد صاحب نے نظر اٹھا کر ایک بار دیکھنے کی کوشش کی پھر سر جھکا کر اپنے والد کے گھرمیں داخل ہوگئے۔ اپنے مرحوم باپ کے بستر پر وہ کئی روزتک منہ لپیٹے پڑے رہے، ایک روز ہمت کر کے گھر سے نکلے تو شریر بچوں کی ٹولی نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے نعرہ لگایا:

”خانیردالال“ (یعنی فوج کا ساتھی) ۔

کچھ دن یہ تماشا رہاپھر لوگ اس کے عادی ہوگئے۔ اس کے بعد صمد صاحب جب گھر کے کام کاج سے فارغ ہو جاتے تو قصبے کے کسی چائے خانے میں جا بیٹھتے اور اُس زمانے کی باتیں کیا کرتے جب چیلا ہاٹی پاکستان کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ لڑکوں بالوں کو نیا مشغلہ مل گیا، اب وہ ان کے

اردگرد بیٹھ جاتے اور مطالبہ کرتے :

”چاچا! آمار چاء کھاواؤ“ ( یعنی چاچا! ہمیں چائے پلاؤ ) ۔

صمد صاحب بچوں کے شرارت بھرے چہروں پر ایک نظر ڈال کر مسکراتے اور چائے کا آرڈرکردیتے جس پر بچے ایک اور مطالبہ کرتے :

”چاچا! آرپاکستانیرگولپو شناؤ“ (چاچا! ہمیں پاکستان کے بارے میں بتاؤ) ۔

اس مطالبے پر وہ خوش ہوجاتے اور اپنے محبوب کے تذکرے میں ڈوب جاتے۔ چیلا ہاٹی کے چائے خانوں میں بر س ہا برس تک پاکستان کا تذکرہ زندہ رکھنے والی یہ آواز 11 ؍ مئی 2013 ء کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

عبدالصمد صاحب نے عجب قسمت پائی تھی، پاکستان کی خاطر وطن چھوڑا لیکن پاکستان میں جڑنہ پکڑ سکے، واپسی کا کشٹ انھوں نے ضروراٹھایا لیکن اپنے ”گھر“ میں پہنچ کر بھی بے وطن ہی رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *