غدار کے لئے کوئی معافی نہیں


پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف اور مارشل لائی حکمران جنرل پرویز مشرف غداری کیس میں انہیں پھانسی کی سنائی گئی اور تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے ایک نوٹ لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ سزا پر عملدرآمد سے قبل ان کی موت کی صورت میں ان کی میت کو پاکستان لا کر ڈی چوک اسلام آباد میں تین دن تک لٹکایا جائے۔ تفصیلی فیصلے کے مندرجہ بالا مندرجات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اس سے قبل مشرف کو سزائے موت سنائے جانے پر بھی آئی ایس پی آر نے اپنے تحفظات کا اظہار کھل کر کیا تھا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذکورہ جج نے اپنے نوٹ میں انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے جس کے بعد وہ عوامی حلقے جو مشرف سے شدید نفرت کرتے ہیں وہ بھی انگشت بدنداں رہ گئے ہیں۔ میت کو پھانسی۔ وہ بھی فوجی۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے کو بغض پر مبنی قرار دیے کر جج وقار احمد سیٹھ کو ذہنی معائنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ ترین فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی شدید مذمت اور ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عوام کی اکثریت جو اپنی فوج سے عقیدت کی حد تک محبت کرتی ہے وہ بھی ایک سابق آمر کے لیے اس غیر انسانی سلوک پر مبنی نوٹ کی مذمت کرتی نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسری پوسٹ میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم اس نوٹ کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مارشل لاء کا راستہ روکنے کے لیے اس قدر سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئین کے غدار کو اسی آئین کے تحت ملنے والے اعزازات سے محروم کرنا ہو۔ تاہم ایک پہلو اور بھی سکتا ہے۔ جس کے بارے میں محاورتاً بات کروں گی کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ دیتے ہیں بازی گر دھوکہ کھلا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوں اور دکھانے کے اور۔ مقصد کسی اور کا تحفظ ہو۔ یہ بھی ممکن کے بذریعہ نوٹ کئیوں کو پیغام دینا مقصود ہو۔ کئیوں کو محفوظ راستہ دینا مقصود ہو۔

مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ سزا پر عمل درآمد تو ہونا نہیں تھا بلکہ اس فیصلے کی حیثیت علامتی ہو جانی تھی۔ کیونکہ جنرل مشرف کا پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہیں Amyloidosis کی مہلک بیماری لاحق ہے۔ جبکہ اس فیصلے کی روشنی میں انہیں نہ تو پاکستان میں چھ گز زمیں کا ٹکڑا ملنے کا امکان ہے اور نہ فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین۔ جی ہاں۔ جج کو پورا یقین ہے کہ سزا پر عملدرآمد نہیں ہونا اسی لیے اس نوٹ کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ آئین کے غدار کو اسی آئین کے تحت ملنے والے اعزازت سے محروم کر دیا جائے۔ اور سقوط ڈھاکہ کے مرکزی غدار جنرل یحییٰ اور جنرل نیازی کی طرح انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ نہ دفنایا جائے۔

تاہم حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو جنرل مشرف کے فیصلے کے حوالے سے فریق نہیں بننا چاہیے۔ یہ کام جنرل مشرف کے وکلاء کریں۔ اسے اداروں کی لڑائی میں نہ بدلا جائے اور ریاست کو نئے مسائل میں الجھانے سے اجتناب کیا جائے۔ عوامی مسائل کی نوعیت اور ہے اور خواص کے مسائل کی نوعیت اور۔ اعلی عدالت میں اپیل کا آپشن استعمال کیا جائے جبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی ایک دوسرے کو غداری اور حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے گزیز کیا جائے۔

جو لوگ جنرل مشرف کے کردار سے واقف ہیں وہ فیصلے کے حق میں ہوں گے مگر وہ بھی تفصیلی فیصلے میں دیے گئے ان الفاظ کی مذمت ہی کر رہے ہیں۔ میں بھی ان الفاظ کی مذمت ہی کروں گی۔ کیونکہ دوسرے ممالک میں جب ایسے فیصلے دیے جاتے ہیں تو ہم ان فیصلوں کو اپنی تقاریر میں خطابت کی جولانی اور اثر پذیری کے لیے تو استعمال کر سکتے ہیں مگر جب ہمارے ہاں کوئی ایسا ویسا فیصلہ آ جائے تو پھر وہ غلط شمار کیا جاتا ہے اور بندہ ذہنی مریض۔

ہمیں محبت صرف پاکستان سے ہونی چاہیے۔ اداراہ جاتی اور شخصیات سے محبت اس ملک کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچا چکی ہے۔ ہم دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کو دیکھتے ہیں تو وہاں اہم ترین سیاسی اور جمہوری پہلو اداروں کا اپنی حدود و قیود میں رہنا ہے۔ معاشی ترقی اور خوشحالی آئین پر عمل درآمد اور قانون کی غیر مشروط بالادستی اور احترام میں ہے۔ جو ہمارے ہاں ناپید ہے۔ ہماری محبتیں مرضی کے فیصلوں کی پابند ہیں اور ہم ہر معاملے میں انتہائی خطرناک حد تک انتہا پسندی کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ وابستگی عقیدت کا درجہ اختیار کر لے تو معاشرے اور ریاست دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

امریکہ میں عدالتی سپرمیسی ہے تو برطانیہ میں پارلیمنٹ مستحکم ہے۔ دفاعی ادارے دونوں ممالک میں ہیں مگر وہ پس پشت رہ کر اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سامنے نہیں آتے۔ یوں معاملات احسن طریقے سے حل کر لیے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی اداروں اور شخصیات سے عقیدت رکھتے ہیں۔ انہیں پاکستان سے قطعاً محبت نہیں۔ پاکستان ہے تو یہ ادارے اور شخصیات ہیں۔ پاکستان نہیں تو نہ یہ ہیں اور نہ ہی آپ۔ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہے۔ اور آئین پاکستان سے وفاداری نبھانی ہے۔ میرے خیال میں ہر باشعور پاکستانی کو آئین کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ ہر وقت مطالعہ پاکستان میں نہیں گھسے رہنا چاہیے۔

جاتے جاتے ایک واقعہ پڑھ لیں جو جمہوریت کے سرخیل برطانوی سماج سے وابستہ ہے۔ اولیور کرامویل (Oliver Cromwell) برطانوی فوجی رہنما تھے جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ان کا انتقال 1658 ء میں ہوا۔ ان کی لاش کو حنوط کیا گیا اور ان کو ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ رفارمیشن کے بعد ان کی لاش اور دیگر کو نکالا گیا اور ان کے سر قلم کردیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے سر کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ اس گڑھے پر آج کل ماربل آرچ موجود ہے۔ گڑھے میں پھینکنے سے قبل ان کا سر ایک پول پر لٹکایا گیا اور ویسٹ منسٹر ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ سنہ 1815 ء میں اس سر کا معائنہ کیا گیا اور تصدیق کی گئی کہ یہ سر اولیور کرامویل کا ہی ہے۔ یعنی آئین اور قانون شکن کے لیے کوئی معافی نہیں۔

Facebook Comments HS