ملتان یونیورسٹی کے سابق استاد جنید حفیظ کو توہین مذہب کیس میں سزائے موت
مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار زکریا یونیورسٹی کےسابق وزٹنگ لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ۔ ملزم کو عدالت نے تین سزاؤں کا حکم سنایا۔ سزائے موت کے علاوہ جنید حفیظ کو عمر قید، دس لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزابھی سنائی گئی ہے ۔
سینٹرل جیل میں جاری سماعت میں وکلاء کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج ملتان کاشف قیوم نے فیصلہ سنایا۔ ملزم کے خلاف 15 گواہوں کی شہادتیں اور زیر دفعہ 342 کے بیانات مکمل کیے گئے تھے۔ مقدمہ کے بقیہ 11 گواہوں کو ترک کردیا گیا تھا، سکیورٹی خدشات کے باعث اپریل 2014 کو کیس کی سماعت سینٹرل جیل منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
18 دسمبر کو مقدمے کی سماعت رات 10 بجے کے بعد تک جاری رہی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ ملزم کے وکیل اسد جمال نے گزشتہ سماعت میں بھی پراسیکیوشن کے سوالات کے جواب دیے۔ جبکہ استغاثہ کے وکلاء میں سید اطہر شاہ بخاری، میاں سجاد احمد چاون۔ عظیم الحق پیرزادہ، محمد ظفر پنیاں، حافظ اللہ دتہ، کاشف، محمد حسن سدھو، ملک محمد سرفراز جڑھ، محمد عمر فاروق اور خضر حیات قریشی شامل ہیں۔


