پاکستانی عورت غاروں میں نہیں رہتی


سوا نیزے پہ سورج، لق و دق صحرا، ریتلی زمین کے بیچوں بیچ سیدھی چمکتی سڑک!

ٹیکسی دوڑتی جا رہی تھی، ام کلثوم کی آواز اپنا جادو جگا رہی تھی، ڈرائیور جھوم رہا تھا اور وہ چار مسافر کسی بحث میں الجھے تھے۔ پچھلی نشست پر تین مرد اور ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پہ ایک خاتون!

سفر کا آغاز دمشق سے ہوا تھا اور منزل اردن کا دارالخلافہ عمان تھی!

یہ ان دنوں کی کہانی ہے جب ہم سعودی عرب کے شہر تبوک میں قیام پذیرتھے۔ اردن سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں خبر دیتی تھیں کہ ہم سرحدی علاقے میں رہتے ہیں۔ مہم جو طبعیت نے دل میں دبی خواہش کو ہوا دینی شروع کی کہ کیوں نہ سرحد پار صحرا نوردی اور سرزمین انبیا کو دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ خواہشات کی پوٹلی اگر کھولی جائے تو سمجھیے پنڈورا باکس ہی کھل جایا کرتا ہے۔ اردن یاترا کی کونپل نے سر اٹھایا ہی تھا کہ دل میں ایک اور خیال اتر آیا۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیب بھی تو کچھ زیادہ دور نہیں ، بس تھوڑا سا فاصلہ اور ..اور پھر دمشق!

لیجیے، خیال سے ہی رگ وپے میں چنگاریاں پھوٹنے لگیں اور ہم دمشق کےخواب کھلی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔ ویزا کے مراحل ریاض میں دونوں ملکوں کے سفارت خاںوں میں ہسپتال کے تعاون سے حل ہوئے، دشوار مرحلہ تھا لیکن سر ہوا۔

اگلا مرحلہ تو دشوار ترین تھا۔ صاحب پاکستان میں تھے اور بچے چھوٹے، سو سیاحت کے شوق کا پتھر ہمیں اکیلے ہی اٹھانا تھا۔ سمارٹ فون، گوگل میپس کا زمانہ تو تھا نہیں کہ اجنبی سرزمین کی گلیاں بھی ہتھیلی میں سمٹ آئیں سو ہمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا تھی۔

ڈاکٹروں کے حلقہ احباب میں کسی نے یہ سفر نہیں کیا تھا باوجود اس کے کہ سالہا سال سے تبوک میں موجود تھے۔ سب ہمارے عزم کا سن کے کچھ حیران تھے اور کچھ پریشان۔ لبوں پہ ایک ہی دبا دبا سا سوال تھا

” اکیلی؟”

اور ہم بڑے اعتماد سے جواب دیتے “جی اکیلی، آخر دنیا میں اکیلے آئے اور اکیلے ہی جانا ہے”

ڈیپارٹمنٹ میں کچھ ساتھی ڈاکٹروں کا تعلق اردن اور شام سے تھا اور وہ سب بہت پرجوش کہ ہم ان کی سرزمین دیکھنے کے متمنی ہیں۔ لیجیے جناب، کچھ انٹرنیٹ کی مدد اور کچھ زبانی کلامی معلومات سے ایک کتابچہ برائے اردن وشام تیار کر لیا گیا۔

تینوں بچوں کے ساتھ گھر میں ہماری انڈونیشی مددگار موجود تھی اور کسی ناگہانی سے نمٹنے کی ذمہ داری ہماری دوست ڈاکٹر نصرت اور ڈاکٹر شازیہ نے بہت خوشدلی سے قبول کر لی۔

معلومات کا حاصل یہ تھا کہ تبوک، اردن اور دمشق کے درمیان بہت آرام دہ بس سروس چلتی ہے۔ تبوک اور دمشق کا فاصلہ 650 کلومیٹر ہے، اور درمیان میں دو سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں۔ تبوک سے دمشق کے لئے بس شام چھ بجے چلتی ہے اور اردن سے ہوتی ہوئی صبح چھ بجے دمشق پہنچ جاتی ہے۔

ٹکٹ بک کروائی گئی، سامان پیک کیا، ایک سفری بیگ میں اہم دستاویزات سنبھالیں۔ پاکستان فون کر کے اماں سے امام ضامن بندھوانے کے ساتھ ساتھ جھڑکیاں کھائیں کہ اماں دو باتوں سے بہت مضطرب تھیں۔ بچے گھر میں اکیلے تھے اور ہم اجنبی سرزمينوں کو اکیلے سر کرنے جا رہے تھے۔ اب کیسے کہتےکہ ان سرزمینوں کی کشش ہمیں چین نہیں لینے دیتی تھی۔ صاحب کو فون پہ خداحافظ کہنے کے ساتھ ایک طویل احتیاطی تدابیر کی یاددہانی سنی، بچوں کو پیار کیا، ان کی آیا کو کچھ باتوں کی پھر سے تلقین کی اور یوں گھر سے رخصت ہوئے۔

وہ ایک لمبا سفر تھا لیکن بہت آرام دہ۔ بس میں کچھ مسافر سو رہے تھے، باقی اونگھ رہے تھے۔ تبوک اور اردن کی سرحد شام کے ملجگے اندھیرے میں پار کی گئی جبکہ اردن اور سریا (دمشق) کے لئے یہ مرحلہ رات کے پچھلے پہر آیا۔

سب سرحدیں ایک سی ہوا کرتی ہیں، ویرانے میں بنی کچھ عمارات، بیزار لیکن چوکنے سرحدی محافظ، مسافروں کی قطاریں، بیرئیر، سامان کو سونگھتے تربیت یافتہ کتے اور بد حواس مسافر!

ساری رات بس ویرانوں میں دوڑتی رہی اور پو پھٹنے پہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب نے ایک اکیلی، تھکی ماندی سیاح کو اپنی زمین پہ قدم رکھتے دیکھا۔ دل ہی دل میں تھوڑی سی خائف لیکن اشتیاق چہرے سے چھلکتا ہوا!

دمشق دیکھنے کی کہانی تو آپ کو پھر کبھی سنائیں گے، ابھی تو ہم دمشق سے رخصتی اور عمان تک کے سفر کی داستان کہنے بیٹھے ہیں۔ تبوک سے تو ہم نے دمشق تک کا ٹکٹ خریدا تھا لیکن واپسی پہ چونکہ ہمیں اردن کے دارلحکومت عمان رکنا تھا، سو ہمیں بتایا گیا تھا کہ پہلے سے ٹکٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ ہوٹل سے نکلتے ہوئے جب ہم نے استقبالیہ سے عمان کو جانے والی بس کے ٹرمینل پہ پہنچنے کا پوچھا تو ڈیسک کلرک جو پچھلے تین دن سے آتے جاتے ہمارا تفصیلی انٹرویو کر چکا تھا اور وجہ وہی تھی کہ اکیلی سیاح عورت، کہنے لگا آپ مسافر ٹیکسی پہ عمان چلی جائیے، آپ کے لئے بہتر رہے گا۔

تبوک کے قدیم آثار

اس کی ہدایات پہ عمل پیرا ہو کے ہم بین الاقوامی ٹیکسی سٹینڈ پہنچے۔

ایک طرف بیروت جانے والی ٹیکسیوں کی قطار تھی اور دوسری طرف عمان کوجانے والی کار نما ٹیکسیاں کھڑی تھیں۔ ہر ٹیکسی میں چار مسافروں کی گنجائش تھی، ڈرائیور کے ساتھ ایک اور پیچھے تین نشستیں۔ ہم نے ٹکٹ گھر سے ایک ٹکٹ خریدا اور بتایا کہ ہم کار کی اگلی سیٹ پہ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ خوش قسمتی سے عمان جانے والی اگلی ٹیکسی پہ ایک مسافر کی جگہ خالی ہے اور ہم اگلی نشست لے سکتے ہیں۔

وہ فورڈ کار تھی جس کے باہر ٹیکسی ڈرائیور آخری مسافر کے انتظار میں کھڑا سیگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ اس کے گرد تین اور مسافر بے چینی سے ادھرادھر دیکھتے تھے، تینوں سفید فام دکھتے تھے۔ ہمارے قریب پہنچنے پہ ڈرائیور نے ہمیں گھورا، ٹکٹ پکڑا، بغیر کچھ کہے ہمارا بیگ ڈکی میں ڈالا، اور ہمیں اشارہ کیا کہ ہم اگلی نشست سنبھال لیں۔ ڈرائیور کے ساتھ ساتھ باقی تینوں بھی بیٹھ چکےتھے اور ہمارا سفر شروع ہو چکا تھا۔

ہم دمشق کو بہت سی یادوں کے ساتھ الوداع کہہ رہے تھے!

ٹیکسی دمشق کی سڑکوں پہ گھومتی شہر سے باہر نکل چکی تھی۔ اب صحرا کےبیچوں بیچ ہم نے چار گھنٹے کا سفر اور سرحد پار کر کے عمان پہنچنا تھا۔

ہم اپنی سوچوں میں گم تھے، دمشق میں گزرا ہوا وقت ماضی بننے جا رہا تھا، جب ہم نے پچھلی نشست سے کسی کو انگریزی میں مخاطب کرتے سنا،

"معاف کیجیے گا کیا ہم بات کر سکتے ہیں”

اور ہمیں بات کرنا تو کبھی بھی مشکل نہیں رہا،

” ضرور "

” آپ برا تو نہیں منائیں گی اگر ہم پوچھیں کہ آپ کا تعلق کس ملک سے ہے؟ ” مہذب لہجے میں سوال تھا

ہم مسکرائے اور ہم نے وہ کرنے کا سوچا جو ہم ماضی میں کئی دفعہ کر چکےتھے۔

” کیا آپ اندازہ لگانا چاہیں گے کہ ہمارا کس رنگ ونسل سے تعلق ہے؟” ہم نے کہا

اثبات میں جواب ملنے کے ساتھ تعارف ہوا۔ ایرک کا تعلق نیویارک سے اور وہ الیکڑانکس انجینئر تھا۔ مائیکل جرمن ڈاکٹر اور جرارڈ ساؤتھ افریقین جیالوجسٹ تھا۔ تینوں کی ملاقات دمشق میں اتفاقاً ہوئی تھی، چونکہ سیاحت اور اگلی منزل قدر مشترک تھی سو تینوں اکھٹے ہو لئے تھے۔

تینوں تعارف کروا چکے تھے اور اب وہ ہماری قومیت بوجھنے کے لئے تیار تھے۔

” ساؤتھ امریکہ… برازیل ، وینزویلا ؟ "

ہم نے نفی میں سر ہلایا

” سپین؟ ” تینوں سپین کہتے ہوئے کافی پرجوش تھے۔

ہم نے پھر ناں کہہ دی، اب تینوں سوچ میں پڑ گئے۔ کچھ دیر بعد خاموشی ٹوٹی۔

"اٹلی؟”

ہمیں ہنسی آ گئی، ان کی پرواز خیال ایشیا کو اکیلی عورت سیاح کے ساتھ تصور کرنے سے عاری تھی۔

” ہم پاکستانی ہیں ” ہم نے اور صبر آزمانا مناسب نہیں سمجھا۔

“پاکستانی…” تینوں کے حلق سے حیرت بھری آواز نکلی۔

"کیا پاکستانی عورت کو اکیلے گھومنے کی اجازت ہے؟ کیا پاکستانی عورت پڑھنےلکھنے اور نوکری کرنے کے لئے آزاد ہے؟ کیا آپ کی فیملی ہے؟ آپ یہاں تک کیسے پہنچیں؟ کیا سفر کرتے ہوئے کبھی کسی مشکل کاشکار ہوئیں؟”

سوالوں کی بوچھاڑ تھی،

ہم نے سب کچھ بہت اطمینان سے سنا اور پھر ان کی ادھوری معلومات میں اضافہ کرنے کا سوچا۔

ہم نے انہیں فاطمہ جناح کا بتایا جو آزادی کی تحریک میں قائد کے شانہ بشانہ چلیں اور پھر پیرانہ سالی میں ایک آمر کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ ہم نے انہیں اردن کے پرنس شاہ حسن کی بیوی ثروت کا بتایا جوآکسفورڈ میں ان کے ساتھ پڑھتی تھیں۔ ہم نے انہیں بے نظیربھٹو کا بتایا جواس وقت تک دو دفعہ وزیراعظم رہ چکی تھیں اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ ہم نے ان تمام عورتوں کا بتایا جو اپنے خوابوں کا تعاقب کرتی ہیں۔

ہم نے انہیں بتایا کہ دنیا ہمیں طالبان جیسا، ازمنہ قدیم کی روایات کا قیدی جانتی ہے لیکن حقیقت ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو دکھا کرتی ہے۔ یہ بات بجا کہ ہمارا تعلق پدرسری معاشرے ہے جہاں اسلام کی آڑ میں عورت کو محصور رکھ کے اس کی زندگی کا مصرف مرد کی طے کی ہوئی زندگی گزارنا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہم اور ہمارے جیسی بہت اور روایات میں گندھی معاشرت کے سامنے سرجھکانے کی بجائے اپنا جہاں خود تخلیق کرتی ہیں، پاؤں تلے زمین اور سر کے اوپر اپنا آسمان۔

ہم نے ان تینوں کی پریشانی وحیرت کے تاثرات کو بدلتے دیکھا۔ پاکستانی معاشرے کی ایک عورت نے انہیں دلائل سے قائل کر لیا تھا کہ پاکستان غاروں کے زمانے میں سانس نہیں لیتا اور پاکستانی معاشرے کی عورت اہل بھی ہے اور کائنات کی ہر شے میں برابر کی حصے دار بھی!

عمان آ چکا تھا اور ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ رہے تھے!

Facebook Comments HS