پنجاب میں جرائم کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی: لاہور سرفہرست ہے
پنجاب میں جرائم کی شرح تشویشناک حدتک بڑھ گئی۔ ہر منٹ میں 150 سے زائد وارداتیں ہو رہی ہیں۔ ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق جرائم کی شرح کے حوالے سے لاہور سرفہرست جبکہ راولپنڈی دوسرے، ملتان تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں روازانہ 150 سے 200 گاڑیاں، 500 سے 600 موٹر سائیکل اور 3 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔
2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں کرائم کی شرح میں 37 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے محکمہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہونے کے دعووں کا پول بھی کھل گیا ہے۔
گوجرانوالہ میں گینگ ریپ کی وارداتوں میں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے گینگ ریپ کی وارداتوں میں لاہور میں 70 فیصد، ڈی جی خان میں 91 فیصد راولپنڈی میں 18 فیصد اور سرگودھا میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی وارداتوں میں گوجرانوالہ میں 34فیصد، سرگودھا میں 16فیصد، ملتان میں 29فیصد، فیصل آباد میں 07فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 15 دسمبر 2019 تک 2018 کے مقابلے میں 23 ہزار کے قریب زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں 2016 میں پنجاب میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 72 ہزار 678 وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 2017 تک وارداتوں کی تعداد 3لاکھ 95ہزار 973 تک پہنچ چکی تھی۔ 2016میں لاہور میں 84 ہزار 375 وارداتیں ہوئی ہیں جبکہ 2017 تک 90 ہزار 701 وارداتیں ہوئیں اور مجموعی طور پر 6 ہزار 326 وارداتیں زیادہ ہوئی ہیں۔ شیخوپورہ ریجن میں مجموعی طور پر وارداتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سال دو ہزار انیس کے دوران بھی لاہور سمیت صوبہ بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی نہ آسکی، قتل، تیزاب گردی اورتشدد سمیت دیگرواقعات میں تین ہزار سے زائد خواتین نشانہ بنیں۔ پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب بھر میں ایک سونوے خواتین قتل ہوئیں، ایک سواکیاسی کو بد اخلاقی اور انتالیس کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دفاتر اور دیگر مقامات پر ہراساں کرنے کے چونتیس سو پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، متعدد پرتیزاب پھینکا گیا۔


