تم اپنی کرنی کر گزرے، تاریخ رقم کر گزرے
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے
اس راہ میں رہزن اتنے ہیں
کچھ اور یہاں ہو سکتا ہے
کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے
پر تم جس لمحے میں زندہ ہو
یہ لمحہ تم سے زندہ ہے
یہ وقت نہیں پھر آئے گا
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہوگا دیکھا جائے گا!
فہمیدہ ریاض کی یہ انقلابی نظم سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے الوداعیہ فل کورٹ ریفرنس میں منعقدہ تقریب کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کی تقریر کے جواب میں پڑھی، جو انہوں نے اٹارنی جنرل انور منصور کی غیر موجودگی میں ان کی لکھی ہوئی تقریر میں کہا اور یہ انتہائی غیر معمولی واقعہ ملکی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا کہ چیف جسٹس کی سبکدوشی کے موقع پہ حکومت کی جانب سے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پہ اس طرح کے انتہائی رکیک اور سنگین نوعیت کے الزامات لگا کر ساری تقریب کو ہی بے مزہ کیا گیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تقریر میں فرمایا کہ انور منصور صاحب کو معلوم ہوا کہ چیف جسٹس نے رات گئے میڈیا کے لوگوں سے ملاقات کی اور جنرل مشرف کیس کے حوالے سے نامناسب گفتگو کی ہے اور خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے سے پہلے ہی جنرل مشرف کے کیس کو سپورٹ کیا اور یہ ایک چیف جسٹس کو زیب نہیں دیتا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت کیس کے حوالے سے بھی چیف جسٹس سے گِلا کیا۔ ان کی اس تقریر کے جواب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر پہلے تو اس انتہائی بھونڈے اور بے ہودہ الزام کی واشگاف الفاظ میں تردید کی اور فرمایا کہ حکومت انتہائی بدنیتی پہ مبنی عدلیہ اور ان کی ذات کے خلاف مہم چلا رہی ہے، ہم نے قانون کا بول بالا کیا ہے جبکہ حکومت عدلیہ کے خلاف محاذ کھڑا کرکے عدلیہ کو بدنام کر رہی ہے۔
انہوں نے ہمیشہ دھیمی آواز میں بات کی ہے اور صرف قانون کے مطابق حق اور شواہد کی بنیاد پہ انصاف پہ مبنی فیصلے دیتے وقت نتائج کی پرواہ نہیں کی۔ چیف جسٹس نے پرویز مشرف کیس کے فیصلے پہ کہا کہ اس فیصلے سے قانون و آئین کا بول بالا ہوگا آئندہ کوئی طالع آزما آئین و قانون پہ حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ چیف جسٹس پاکستان اور خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے حالیہ فیصلوں نے وہ انہونی کر دی جس کی قوم پچھلے 72 سالوں سے بڑی بے تابی سے خواہش کر رہی تھی۔
جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کے کیس میں آئین کو پائمال کرنے، آئین کی تنسیخ، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، کا جرم ثابت ہونے پہ غدار قرار دے کر پانچ بار سزائے موت کا حکم جاری کرکے خصوصی عدالت کے جج پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے وہ کردیا جو پاکستان کی قوم نے کبھی سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی سزا کا فیصلہ آنے سے کچھ عرصہ قبل جب آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے قرار دیا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی قانون و آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے وفاقی حکومت آئین میں ترمیم کرے اور اس حوالے سے قانون سازی کرے، اس کے لئے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا اور قانون سازی نہ ہونے کی صورت میں صدر مملکت کسی اور کو آرمی چیف مقرر کریں گے۔
اس فیصلے نے جیسے اسلامی عدل و انصاف کی اصل روح کے مطابق انصاف کے طلبگاروں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ وہ قوتیں جو ہمیشہ اپنی من منشا کے فیصلے کرواتی اور مانتی آئی ہیں اس فیصلے پہ مہر بہ لب تھیں، انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ عدلیہ جو ان کے اشارہ ابرو پہ گھٹنے ٹیک دیتی تھی آج ایسا فیصلہ کر دیا جو تاریخ میں کوئی سرگرم سرپھری عدالت نہ کرسکی۔ ایسے ہی اسلامی عدل و انصاف پہ مبنی فیصلے کی طرح، اسی تسلسل میں ایک اور فیصلہ آیا جس نے ملکی سیاسی و عدالتی تاریخ ہی بدل دی۔
اور جب اس مختصر فیصلے کا تفصیلی فیصلہ آیا تو جیسے بھونچال سا آگیا، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جو اس خصوصی عدالت کی سربراہی کر رہے تھے نے اپنے تفصیلی فیصلے کی شق 66 میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو گرفتار کرکے سزا پہ عملدرآمد کا حکم دیا، سزا سے پہلے موت کی صورت میں لاش کو ڈی چوک لا کر گھسیٹ کر تین دن تک لٹکانے کی ڈائریکشن دیں۔ بہت سے تبصرے ہوئے تجزیے ہوئے کسی نے کیا کہا، کسی نے کیا، مگر بحیثیت ایک انسان اور مسلمان میں اس شق پہ معترض ہوں، انسانی، اخلاقی اور آئینی و قانونی اقدار کے بالکل منافی الفاظ ہیں اس شق میں جو فاضل جج نے اپنے فیصلے میں تحریر کیے مگر اس جزو کے علاوہ ان کے سارے تفصیلی فیصلے کو بہت تدبر فہم وفراست سے تحریر کیا گیا۔
جسٹس جناب وقار احمد سیٹھ کے اس تفصیلی فیصلے پہ شدید ردعمل اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا، ان کی ذہنی حالت پہ شبہ ظاہر کیا گیا، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو کہا گیا کہ وہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کام کرنے سے روک دیں۔ وزیراعظم عمران خان جو کبھی جنرل پرویز مشرف کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دیتے اور ان پہ غداری کے فتوے جاری کرتے نہیں تھکتے تھے، وہ پرویز مشرف کے حق میں دلیلیں دیتے نظر آئے، جبکہ ان کی حکومت نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس داخل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ جبکہ پاکستان بار کاؤنسل کے سینیئر وائس چیئرمین امجد شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف کوئی بھی مہم جوئی یا محاذ آرائی پہ مبنی کارروائی کی تو پاکستان بھر کے وکلاء جسٹس وقار احمد سیٹھ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اکثر وزراء عدلیہ اور فوج کے اداروں میں تصادم کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں وہ جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت کے فیصلے اور جنرل مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کو فوج کے خلاف فیصلے قرار دے رہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ دونوں فیصلے پہلی بار آئین اور قانون کی سربلندی کا سبب بنے ہیں۔ خان صاحب کی حکومت جو پہلے ہی بدترین انتظامی، معاشی، سیاسی افراتفری کا شکار ہے عدلیہ کے فیصلوں سے ملک کو مزید انتشار اور تباہی کی طرف اور اداروں کے تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔
قابلِ فخر چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جناب وقار احمد سیٹھ نے اسلام میں عدل و انصاف کی اصل روح کے مطابق فیصلے صادر فرما کے قابلِ فخر کارنامہ سر انجام دیا ہے، انہوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر جو کرنا تھا کر گزرے اب حکومت کو عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان پہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ نتائج خان صاحب اور ان کے سلیکٹرز کی سوچ و گمان سے بھی زیادہ بھیانک و تباہ کن نکلیں گے۔


