بڑی کرسی، ساس بہو کی لڑائی اور فقیر کا مشورہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناشتہ کر چکا تو اکبر نے نارنجی رنگ کے گرم دودھ سے بھرے مگ میں شکر اور کافی گھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ ہیٹر کی بدولت کمرے کا ماحول خوشگوار تھا لیکن باہر دھند کی سفید چادر نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاتھا۔ میں نے کافی کا گھونٹ حلق سے اتارا تو اکبر نے ٹھیٹھ سرائیکی لہجے میں پوچھا” سرجی !جونیورسٹی اچ میٹنگ تاں تھیندی پئی اے، ساکوں پکا کریسن یا کے ناں “ ( سرجی یونیورسٹی میں میٹنگ تو ہورہی ہے، ہمیں مستقل کیا جائے گا یا نہیں )۔ اب میں اسے کیا جواب دیتا؟ مناسب الفاظ میں اسے حوصلہ دیا۔ گرما گرم کافی حلق سے اتارتے میری نظر میز پر دھرے پرانے اخبار کی ایک دو کالمی خبر پر گئی۔ ”ثاقب نثار عمران کو بتانا چاہتے تھے کہ میری کرسی بڑی ہے“ یہ وفاقی وزیر اعظم سواتی کا بیان تھا جنہیں ایک غریب مزدور کے ساتھ جھگڑے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اعظم سواتی پہلے جے یو آئی میں تھے پھر تحریک انصاف میں آگئے۔ امیر آدمی ہیں اور سیاست میں خرچ کرنا جانتے ہیں۔ دولت لٹا کر جب انسان وزیر بنے اور پھر استعفیٰ دینا پڑے تو سرائیکی گانے کے بول کے مطابق ” افسوس تے لگدا، ارمان تے لگدا“۔ اعظم سواتی کے سیاسی نظریات اور اعمال سے ہزار اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن سچی بات ہے ان کا مذکورہ بالا بیان بعینہ حقیقت ہے۔ پاکستان میں چھوٹے بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد کی اکثریت اپنی پوری توانائی اسی میں صرف کر دیتی ہے کہ دوسروں کو چھوٹا دکھا سکے اور اس میں سرکاری یا غیر سرکاری کی بھی کوئی تخصیص نہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں ساس اور بہو کی لڑائی ایک قدیم روایت ہے اور اس لڑائی سے جو اذیت ایک مرد کو ہوتی ہے اس کا اندازہ شاید ہی کوئی خاتون کر سکے۔ ان دونوں میں بھی لڑائی کرسی کی ہی ہے۔ ایک کہتی ہے میرا رتبہ اہم ہے دوسری کو اپنی شان و عظمت کے اعلیٰ ہونے کا خبط ہے۔ تصور کیجئے کہ لکڑی کا ایک ہموار تختہ جو زمین میں گاڑی ہوئی ترازو کی جیسی نوک پر نصب ہے۔ لکڑی کے اس تختے کے ایک طرف ساس اور دوسری طرف بہو ہے جبکہ درمیان میں مرد نامی مخلوق ہے جسے دونوں خواتین مقدور بھر اپنی طرف کھینچنے کی نہیں بلکہ دوسری خاتون سے دور رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہوئی جاتی ہیں۔ مر د نامی یہ مخلوق بیوی کی طرف جائے تو تختہ اس طرف سے گرے گا اور ماں کی طرف جائے تو بھاری وزن کے سبب تختہ ادھر سے الٹ جائے گا، نتیجہ تینوں کی تباہی۔ ساس اور بہو کو یہ عقل ساری عمر نہیں آئے گی کہ وہ چند قدم آگے بڑھیں اور مرد کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر توازن قائم کر کے زندگی کے سفر کو آسان اور خوشگوار بنا لیں۔ اور مرد بیچارا توازن قائم کرنے کے چکر میں ساری زندگی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کے سفر میں گزار دیتا ہے۔

وطن عزیز میں بھی ساس بہو کی یہ لڑائی ستر برس سے جاری ہے اور اس گھر یعنی پاکستان کو اپنی کمائی سے چلانے کا ذمہ دار عوام نامی مرد ساس اور بہو کے اختیارات کی جنگ میں پس کر رہ گیا ہے۔ سیاستدان ہوں یا مقتدر ادارے دونوں کی کوشش ہے کہ ہر معاملے میں ان کی بات حرف آخر ہو۔ گزشتہ تقریباَ ایک دہائی کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر فائز ہونے والے جسٹس ریٹائرڈ افتخار چودھری، جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار اور جسٹس ریٹائرڈ آصف سعید کھوسہ بھی اس لڑائی میں فریق نظر آئے۔ مہنگائی کے مارے بھوکے ننگے عوام صبح سے شام تک محنت سے کمائے چار پیسے لے کر تھکے ہارے گھر لوٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اختیارات کی لڑائی کے سبب ان کے گھر پاکستان کا ماحول انتہائی خراب ہے۔ ہر فریق کا دعویٰ ہے کہ اس کا رتبہ بلند ہے، اس کی کرسی بڑی ہے لیکن آج تک اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا نہ ہی مستقبل میں اس کا فیصلہ ہونے کی کوئی امید ہے۔ دیکھا جائے تو کرسیاں تو سب ایک جیسی ہیں لیکن حقوق و فرائض مختلف۔ نہ صرف عوام بلکہ محلے اور قبیلے کے بڑے بوڑھے ہزار بار سمجھا چکے ہیں کہ اپنے اپنے فرائض پہنچانو تاکہ حقوق کی محرومی کا رونا ہی نہ رونا پڑے لیکن انا کا شور اس قدر بلند ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ دولت کے ڈھیر ایسے ہیں کہ ان کی بلندی پر نظر کریں تو سر پر رکھی دستار زمین چاٹنے پر مجبور ہو لیکن ھل من مزید کی ہوس ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

تقریباَ دو دہائیاں ہوتی ہیں، عصر حاضر کے عظیم صوفی، روحانی سکالر،صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے خاندان کے چشم و چراغ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ برسوں پہلے ایک نشست میں عظیمی صاحب نے یہ نقطہ سمجھایا تھا کہ انسان جتنا بھی امیر کبیر ہوجائے، سونے چاندی کے پہاڑ جمع کر لے، بنک بیلنس میں اربوں کھربوں روپے جمع کر لے وہ ایک وقت میں ایک ہی لباس زیب تن کر سکتا ہے۔ ممکن ہی نہیں کہ رات کو سونے کے لئے وہ دو چارپائیاں استعما ل کرسکے۔ ایک انسان بھلے وہ دنیا کی ساری دولت پر قبضہ جما لے لیکن ایک وقت میں اوسطاَ دو یا تین چپاتیاں ہی کھا سکتا ہے۔ یہی حال ایک غریب انسان کا ہے کہ وہ بھی ایک وقت میں ایک لباس پہنے گا، ایک چارپائی پر سوئے گا اور رات کو دو تین چپاتیاں کھا کر سو جائے گا۔

ڈاکٹر رچرڈ ٹیوکینگ سیانگ کا تعلق سنگا پور سے ہے۔ کاسمیٹک سرجری کے ماہر ڈاکٹر رچرڈ نے کروڑوں ڈالر کمائے اورفراری سمیت دنیا کی مہنگی ترین سپورٹس کاروں سے دل بہلایا۔ مس سنگا پور یا ملک کی مشہورو معروف اداکاراؤں کے ساتھ شامیں گزارنا اس کے لئے عام سی بات تھی۔ اس نے ہمیشہ پر تعیش زندگی گزاری لیکن گیارہ مارچ دوہزار گیارہ کے دن اس پر یہ ہولنا ک انکشاف ہوا کہ وہ پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہے۔ سرطان کے آخری مرحلے پر پہنچے ہوئے ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ ”دولت آپ کی زندگی میں خوشی نہیں لاسکتی “۔ ڈاکٹر رچرڈ کے بقول میں سمجھتا تھا کہ خوشی تبھی مل سکتی ہے جب آپ کامیاب ہوں لیکن اب میں سمجھا کہ آپ کی زندگی میں خوشی تبھی آسکتی ہے جب آپ ان لوگوں کے درمیان رہیں جو آپ کے دکھ سکھ میں آپ کے ساتھ رہیں۔ آپ کے ساتھ رو سکیں آپ کے ساتھ قہقہے لگا سکیں۔

یہ صوفیا بھی عجیب ہوتے ہیں، انتہائی گہری بات کو بالکل سادہ سے الفاظ میں ایسے بیان کرتے ہیں کہ انسان کے سان گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اس کے سامنے کائنا ت کی کیسی کیسی آفاقی سچائیاں بیان کردی گئیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جیسے مادہ پرست انسان ان کی باتوں پر کان نہیں دھرتے لیکن جب ڈاکٹر رچرڈ جیسے حالات سے گزرتے ہیں تو آنکھیں کھلتی ہیں لیکن تب وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

امیر ہونا یا دولت کمانا ہرگز بری بات نہیں لیکن دولت کی پرستش کھلا شرک ہے۔ انسان جب دوسرے کے کندھوں کو دبا کر انہیں نیچا دکھانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرتا ہے تو یہ بھول جاتا ہے کہ دوسرے انسان کو نیچے دباتے دباتے وہ خود بھی نیچے جارہا ہے۔ یہی توانائیاں اگر انسان دوسروں کو اوپر اٹھانے میں صرف کرے تو تصور کیجئے کہ قدرت اسے بھی اوپر اٹھانا شروع کر دے گی۔ فیصلہ آپ کا ہے آپ نے اوپر اٹھنا ہے تو اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کیجئے، قدرت آپ کو اوپر اٹھانے پر مجبور ہوجائے گی اور اگر آپ نے اپنے ارد گرد لوگوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تو قدرت آپ کو آپ ہی کے ہاتھوں تنزلی کے گڑھے میں دھکیل دے گی۔ فیصلہ آپ کا ہے آپ نے تنزلی کے گڑھے میں گرنا ہے یا کامیابی کی بلندی سے ہمکنار ہونا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *