قائد اعظم غلط تھے!
اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں : اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی زیادہ ابتر تھے جیسے کہ آج ہندوستان میں ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر عقیدے کے بنیاد پر مظالم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کررہے ہیں جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔ انگلستان کے باشندوں کو وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے حقائق کا احساس کرنا پڑا اور ان ذمہ داریوں اور اس بارگراں سے سبکدوش ہونا پڑا جو ان کی حکومت نے ان پر ڈال دیا تھا اور وہ آگ کے اس مرحلے سے بتدریج گزر گئے۔ آپ بجاطور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہاں رومن کیتھولک ہیں نہ پروٹسٹنٹ اب جو چیز موجود ہے وہ یہ کہ ہر فرد ایک شہری ہے اور سب برطانیہ عظمیٰ کے یکساں شہری ہیں۔ سب کے سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں۔
مندرجہ بالا اقتباس قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے کیے گئے خطاب سے لیا گیا ہے۔ مذکورہ دستور ساز اسمبلی کا کام پاکستان کے لئے آئین سازی کرنا تھا۔ قائد اعظم کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر دراصل پاکستان کے مستقبل کا عبوری خاکہ تھا۔ جو قائد اعظم نے سوچا تھا اور جن بنیادوں پر وہ اس نوزائیدہ مملکت کو کھڑا کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اس تقریرکے تجزیہ سے قائد اعظم کے تصور پاکستان کا تعین ایک ایسی ریاست کے قیام کی سعی کی صورت میں ہوتا ہے جہاں شہری و شخصی حقوق کی بنیاد مذہب یا عقیدہ نہیں بلکہ پاکستانی ہونا قرار پائے گا۔ اور پاکستان بطور ریاست، پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کو پاکستانی کے حیثیت سے دیکھے گا اور اس کا مذہب و عقیدہ ریاستی عملداری سے باہر ہوگا۔
بدقسمتی سے جن بنیادوں پر پاکستان کو استوار کیا جانا تھا ان کو کبھی پاکستان کی آئین سازی میں مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ اور قائد اعظم کے وضع کردہ ان رہنما اصولوں کو ان کی وفات کے ساتھ ہی دفنا دیا گیا۔ جیسا کہ پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم اور گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے واضح کر دیا تھا کہ مذہب ہر گز شہری کا ذاتی معاملہ نہ ہے اور نہ ہی ہر شہری کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں۔ اور یہی بیانیہ وقت کے ساتھ ساتھ توانا ہوتا چلا گیا۔
جس کے نتیجے میں پاکستان کے بجائے مذہب اور عقیدہ کو آئین و قانون سازی کا بنیادی پیمانہ ٹھہرایا گیا۔ آج کے حالات کا انداذہ لگانے کے لئے اور اس شدت پسند بیانیہ کی معاشرے میں پذیرائی جاننے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کے ساتھ چند دن پہلے پیش آنے والا واقعہ ہے جس میں ان کو اقلیتوں کی حقوق کی بات کرنے کی پاداش میں چند غنڈہ نما طلبا کی عدالت میں نہ صرف اپنی کہی گئی بات کی وضاحت دینی پڑتی ہے بلکہ ا اسی عدالت میں اپنے مسلمان ہونے کی گواہی بھی بزور بازو لی جاتی ہے۔
اب بطور قوم اور پاکستانی ہم کو یہ طے کر لینا چاہیے کہ ہم پاکستان کو قائد اعظم کے تصور کے مطابق ایک فلاحی و جمہوری ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ جہاں ہر شہری آئین و قانون کی نظر میں یکساں انسانی حقوق کا حقدار ہے۔ یا پھر موجودہ روش کو بر قرار رکھتے ہوئے خواجہ ناظم الدین کو بابائے قوم قرار دے دیا جا نا چا ہئیے۔ جہاں موجودہ حالات کے عین مطابق شہریوں کے حقوق کا تعین ہر گز بطور پاکستانی نہیں ہو گا بلکہ اس کا مذہب، فرقہ اورعقیدہ وہ پیمانہ ہوگا جو پاکستان میں اس کے اس کے حقوق کا تعین کرے گا۔ اور ان عقائد کو پرکھنے کا اختیار معاشرے کے مذہبی لحاظ سے طاقتور جتھے کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ جو لوگوں کے ایمان و عقیدے کا تعین اپنی مقرر کردہ حدود و قیود کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد کسی بھی بھی شہری کے آئینی و قانونی حقوق میں کمی بیشی کر سکے۔
اس سے ایک طرف تو اقلیتوں کو واضح پیغام مل جائے گا کہ مملکت پاکستان میں ان کا کردار کس حد تک ہے اور ان کو کس دائرہ کار میں رہ کر اس ملک میں زندگی گزارنی ہے تو دوسری طرف مسلمانان پاکستان کا ایمان محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ اخروی نجات کا سبب بھی بنے گا۔ ساتھ ساتھ ہمیں قائد اعظم کی جدوجہد پر مبنی تمام کتب و رسائل کو ضبط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ نئی نسل میں بگاڑ پیدا نہ ہو سکے۔ کیونکہ قائد اعظم غلط تھے۔ خواجہ ناظم الدین صحیح ہیں۔


