سیانا کوا اور سونے کی کان
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے انسانوں کو عدم اعتماد کی آخری حد سے اعتماد کے آخری درجے تک جاتے دیکھا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت مرتبہ اعتماد کی فراوانی ان افراد کی عدم اعتماد والی حالت سے بہت بدتر ہوتی ہے۔ ایسے ہی افراد کو دیکھ کرخیال آتا ہے کہ عدم اعتماد کتنی پیاری شے ہے۔ کاش ان کو واپس مل جائے مگر ظاہر ہے ایسا ہوتا نہیں، ہوسکتا نہیں۔
ہمارے ایک ماسٹرز کے ہم جماعت نے جب ایم فل میں داخلہ لیا تو خود کو ایک قسم کا سگمنڈ فرائیڈ سمجھنا شروع کردیا اس لیے کہ یقینی طور پر یہ بات کبھی بھی ان کے وہم و گمان میں بھی نہ رہی تھی کہ وہ سولہ جماعتیں پاس ہوجائیں گے، چہ جائے کہ وہ ماسٹرز بلکہ ایم فل پی ایچ ڈی کے طالب علم بن گئے۔ وہ بڑے فخر سے یہ بات بتایا کرتے تھے کہ ان کے والد گاؤں کے پہلے انٹر پاس تھے اور وہ اب اپنے علاقے کے پہلے پی ایچ ڈی بنیں گے۔ ان کامیابیوں کے سلسلے نے ان کی پرانی عدم اعتماد کی کیفیت کو بالکل غائب کردیا اور اب جیسے وہ ایک نوع کے نشے میں رہتے۔
ایک مرتبہ میں نے ان کو ایک کمپیوٹر آپریٹر سے ایک عجیب موضوع پر بحث کرتے پایا۔ وہ ایک نفسیاتی تشخیص کی رپورٹ پرنٹ کروا رہے تھے۔ آپریٹر نے پرنٹ کرنے سے پہلے ان کو مشورہ دیا کہ وہ ایک سطر پر نظر ثانی کر لیں کیونکہ یہ اسے غلط لگ رہی ہے۔ سطر یہ تھی
the client referred to the institute of clinical psychology by Dr Raza ur Rahman
اور آپریٹر یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سطر یوں ہونی چاہیے،
the client ”was“ referred to
یعنی وہ client کے بعد wasکا اضافہ کرنے کو کہہ رہا تھا۔ بات آپریٹر کی ہی درست تھی۔ وہ اچھی انگریزی جانتا تھا اور روز کئی ایسی رپورٹس پرنٹ کیا کرتا۔ اس لیے ان رپورٹس کے اسلوب سے بھی اچھی طرح واقف تھا۔ میں نے بھی محترم کو سمجھایا کہ آپریٹر ٹھیک کہہ رہا ہے۔ موصوف جو لکھ کر لائے ہیں اس کا مطلب یہ نکل رہا ہے کہ کلائنٹ نے ریفر کیا ہے جبکہ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کلائنٹ کو ریفر کیا ہے ڈاکٹر رضا الرحمان نے۔
لیکن محترم اپنی بات پر اڑے تھے اور بڑے غرور اور کمال اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ سب غلط ہیں اور وہ صحیح ہیں اور ایک کمپیوٹر آپریٹر اور ایک ہم جماعت کہ کہہ دینے وہ اپنی انگریزی خراب نہیں کر سکتے۔ بہرحال ایسی صورتحال میں کسی کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لیے میں نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور آپریٹر نے بھی۔
مگر اصل قصہ یہ نہیں ہے۔ یہ تو محض ہمارے قصے کے بنیادی کردار کے تعارف کی تمہید ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک روز محترم میرے پاس آئے اور گویا ہوئے، ”فرحان برا تو نہیں مانو گے اگر میں یہ پوچھوں کہ تم کتنا کما لیتے ہو؟ “۔ مجھے حیرت ہوئی کہ محترم نے انکم ٹیکس کے افسر کا کردار کب سے اختیار کرلیا۔ میں نے انہیں اپنی تنخواہ بتادی۔ میں تب ایک جزوقتی نوکری کرتا تھا جو کہ محض پڑھائی کا خرچ چلانے اور گھر میں بہت تھوڑا سا حصہ ڈالنے میں ہی میری معاون تھی۔
محترم نے میری معمولی سی تنخواہ سن کر افسوس کا اظہار کیا اور مجھ سے سوال کیا، ”تو پھر آپ ایک کاروبار کیوں نہیں کرلیتے؟ “ میں نے حیرت سے محترم کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں جھانکا جو کہ ابھی بالکل کسی بھیڑ کی آنکھو ں کی طرح کھوئی کھوئی معلوم ہورہی تھیں۔ مجھ کو یاد آیا کہ محترم اکثر اپنے گاؤں سے آتے ہوئے سلاجیت لایا کرتے جو کہ کئی لوگوں کو فروخت کیا کرتے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھے اپنے اس سلاجیت کے کاروبار میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
اور میں نے سلاجیت بیچنے سے معذوری کا اظہار کیا تو وہ بڑے فخر سے مسکرائے اور گویا ہوئے۔ ”ارے نہیں یار آپ نے گولڈ مائین کے بارے میں نہیں سنا؟ “ پھر بڑی تفصیل سے بتانے لگے کہ ان کے ہاتھ ایک سونے کی کان لگ گئی ہے۔ گولڈ مائین ایک ادارہ ہے جو کہ کروڑوں لوگون کو کروڑ پتی بنا چکا ہے۔ اس ادارے سے آپ سونے کا پانی چڑھی گھڑی خریدیے، سونے کی نب والا قلم یا سونے کی چین۔ جب آپ اس ادارے سے کچھ خرید لیتے ہیں تو آپ اس کے رکن بن جاتے ہیں۔
اور اب آپ جو گاہک یہاں لائیں گے اس کی خریداری پر آپ کو کمیشن ملے گا۔ یوں آپ گاہک لاتے رہیں گے اور آپ کے کمیشن کی شرح بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ میں نے یہاں تک کی تقریر دل پزیر سن کر اندازہ لگا لیا کہ مبینہ طور پر محترم نے پہلے گاہک کے طور پر میرا کا چناؤ کرلیا ہے۔ اس لیے میں نے ان سے ان کا سونے کی نب والا قلم، سونے کا پانی چڑھی گھڑی یا چین دیکھنے کی فرمائش کی۔ جس پر انہوں نے بڑے فخر سے اپنا بایاں ہاتھ آگے کردیا۔
اس پر ایک کالے پٹے اور سنہرے ڈائل والی گھڑی بندھی تھی۔ 2010 ء میں، جب کی یہ بات ہے، ایسی گھڑیاں صدر میں ستر روپے کی ملا کرتی تھیں۔ میں نے ان سے اس گھڑی کی قیمت دریافت کی تو یہ معمولی سی گھڑی انہوں کو پانچ ہزار روپے کی خریدی تھی۔ یہ قیمت اس کوڑے کرکٹ کی سن کر میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ میں نے موصوف سے معذرت کرلی جس پرانہوں نے بڑے غرور سے اعلان کیا کہ میں پچھتاؤں گا اس لیے کہ اپنے کاروبار سے وہ بہت جلد وہ کروڑ پتی بن جائیں گے۔ اگر آج میں نے ان کا ساتھ دیا ہوتا تو میں بھی آج گولڈ مائین کا رکن بن کر کروڑوں کا سفر شروع کرسکتا تھا۔
اسکے بعد وہ مستقل اپنی دریافت کردہ اس سونے کی کان کا شتہار ہی بن کر رہ گئے۔ وہ ہر اتوار کو اس ادارے کے دفتر جایا کرتے تھے جہاں پر کامیاب ارکان اپنی کامیابیوں کے بارے میں پریزینٹیشن دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ بتانے لگے کہ کل وہاں ایک انجنئیر نے پرزینٹیشن دی وہ پتا رہا تھا کہ ”میں بے روزگار تھا اور میرے پاس اپنا مکان بھی نہیں تھا۔ پھر میں گولڈ مائین کا رکن بنا اور اب میرے پاس ہزار گز کے چار مکان ہیں اور ہر مہینے میں نئے ماڈل کی گاڑی خریدتا ہوں۔ “ ایسی نادر باتیں سن کر اگر مجھ جیسا کوئی احمق اگر ہنستا تو وہ جلال میں گرجتے کہ ”تم لوگ بعد میں پچھتاؤ گے جب مجھے کروڑپتی بنتا دیکھو گے“
ایک مرتبہ محترم نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ جس بس میں کماڑی سے آیا کرتے تھے وہ کچھ مسلح افراد نے لوٹ لی۔ ان کا موبائل فون بھی چھن گیا مگر وہ افسردہ نہیں تھے کیونکہ ان کی سب سے قیمتی شے بچ گئی۔ میں سمجھا کہ شاید ان کی مراد سب سے قیمتی شے سے ان کی جان ہے مگر انہوں نے فوراً اپنا گھڑی والا ہاتھ آگے بڑھایا اور مسکرائے۔
2012 میں ان کی نوکری دوسرے شہر میں ہوگئی اور ان کو کراچی چھوڑنا پڑا۔ وقت گزرتا گیا اوران سے تعلق محض فیس بک تک ہی محدود رہ گیا۔ وقت کی گرد نے ان کی یہ سنہری گھڑی اور یہ الّو بنانے والا ادارہ، جسے وہ اپنے سیانے پن میں ترقی کا زینہ سمجھ رہے تھے، ذہن سے محوکردیا۔ پھر یہ خبر بھی ملی کہ اس ادارے پر ایف آئی اے نے چھاپا مارا اور ادارہ بند ہوگیا۔ حال ہی میں محترم ایک غیر ملکی کانفرنس میں شرکت کرنے گئے اور اس کی تصاویر فیس بک پر ڈالیں۔ ایک تصویر میں وہ چند گوروں کے ساتھ کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ کلائی پر وہی سنہری گھڑی 9 سال بعد بھی بندھی دیکھ کر اچانک جیسے ماضی دوبارہ ذہن میں گھوم گیا۔
چلیں انہوں نے 9 سال اس گھڑی کو پہن کر قیمت تو وصول کرلی۔ حماقتیں تو ہر انسان لاتعداد کرتا ہے مگر اپنی حماقتوں سے اتنے عرصے تک چپکے رہنے کے لئے بڑی ہمت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ہی پر اعتماد احمقوں کی وجہ سے عقلمند زندہ رہتے ہیں۔ واقعی جب تک احمق زندہ ہیں عقلمند بھوکا نہیں مرسکتا۔


