تُم کتنے ”بھُٹو“ مارو گے؟


مُلتان کی ایک عدالت کے ذریعے اس مُعاشرے کے ایک روشن خیال، عالی دماغ، نوجوان دانشور جُنید حفیظ کے وجُود سے اس دھرتی کو ”پاک“ کرنے کی کوشش کا آغاز ہُوا ہے۔ در اصل یہ اُن مُٹھی بھر بُنیاد پرست عناصر اور شدّت پسند اقلّیت کی طرف سے قیام پاکستان سے جاری ”جہاد“ کی ایک اور مورچہ بندی ہے، جس نے اس بیچارے پسماندہ مُعاشرے اور نام نہاد اسلامی مملکت کو مذہب کارڈ استعمال کرتے ہُوئے یرغمال بنا رکھا ہے۔

اس بدبُو دار سماج کی گھُٹن سے کئی روشن دماغ کسی عدالتی ہتھکنڈے کے بغیر ہی بھری جوانی میں ”قتل“ کیے جا چُکے ہیں، جن میں جُنید حفیظ ہی کے جنُوبی پنجاب اور اس سے مُلحقہ نیلی بار سے تعلّق رکھنے والی بعض نہائت قیمتی زندگیاں شامل ہیں۔ بن کھلے مُرجھا جانے والے انہی پھُولوں میں مُلتان کے ایک زمیندار گھرانے کا چشم و چراغ ظفر جعفری اور جُنید حفیظ کے پسماندہ آبائی علاقے راجن پُور ہی کی طرح پتّوکی کے ایک نواحی گاؤں کا احسن فارقلیط شامل ہیں۔ ۔ اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان واقع چھوٹے سے قصبے پتّوکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلّق رکھنے والا، ایک ”معمُولی“ سے امام مسجد کی بیٹا احسن فارقلیط، جس کا باپ اُسے مولوی بنانا چاہتا تھا مگر وُہ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں شاندار نمبروں کے ساتھ میڈیکل کالج تک جا پُہنچا تھا

احسن فارقلیط نشتر میڈیکل کالج مُلتان میں تیسرے جبکہ ظفر جعفری چوتھے سال کا طالبعلم تھا۔ احسن فارقلیط اگرچہ اس کا اصل نام نہیں تھا بلکہ اس کا خود سے اختیار کردہ آخری نام تھا۔ فارقلیط رسُول پاک کا عبرانی نام بتایا جاتا ہے

انتہائی غُربت اور ناداری کے باعث کالج سے اس کا نام فیس ادا نہ کیے جانے کی بنا پر کٹتا رہتا تھا۔ وُہ بلا کا مُفکر، بے پناہ شاعر اور ادیب تھا۔ غیر معمُولی صلاحیتّوں سے مالا مال یہ نوجوان مُلتان کے ایک روزنامہ ”سنگ میل“ سے وابستہ ہُوا تو اخبار کی ”ایڈیٹری“ بھی کرتا تھا، کالم نگاری بھی۔ حتی کہ کتابت تک خُود کرتا رہا، اور اس کے دفتر میں میز ہی پر سو جایا کرتا تھا۔ پھر یُوں ہُوا کہ 3 دن مُسلسل بھُوکا رہنے کے بعد ایک روز علی الصُبح اُس نے مُلتان سٹیشن کے قریب پنڈی لاہور کی طرف سے آنے والی تیزگام کے آگے کُود کر جان دے دی۔ 23 سالہ عالی دماغ کی مُٹھی میں موجُود اُس کا آخری خط اگلے روز کے اخبارات میں شائع ہُوا تو اس نے دُنیا کو دہلا کے رکھ دیا، جس میں یہ انتہائی تکلیف دہ تلخ حقائق کے علاوہ یہ خوفناک جُملہ بھی شامل تھا ”میں مُعاشیات کے پرچے میں فیل ہو گیا ہُوں“

کئی دہائیوں قبل جنرل ضیاءُ الحق کے مارشل لاء دور میں پیش آنے والے ”سماجی قتل“ کے ایسا سانحہ بارہا رُونُما ہُوا اور آج تک ہوتا چلا جا رہا ہے، البتّہ ”مذہب کارڈ“ کو انتہائی دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ، اور بھرپوُر طور پر استعمال کرنے کے چمپیئن جنرل ضیاءُ الحق کے دور میں ایک ڈھکوسلے کے تحت فوجداری قانوُن میں مذہبی دفعات شامل کر دیے جانے کے بعد ایسے عالی دماغ، روشن خیال نوجوانوں کو دھونس دھاندلی سے عدالتی عمل کے ذریعے قتل کرنے کی روایت نے جنم لیا۔

عاطف توقیر جیسے بعض روشن خیال اور عالی دماغ خُوش قسمتی سے مُلک سے نکل جانے کی وجہ سے بچ رہے ورنہ یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے جُنید حفیظ جیسے بُہت سے ہونہار نوجوان اور غیر معمُولی دماغ اُن مُٹھی بھر عناصر کی سازشوں کا شکار ہوتے چلے آ رہے ہیں، جو اپنے مخصُوص مفادات پر مبنی ناپاک عزائم اور مذمُوم مقاصد کے تحت ایسے عالی دماغوں کے خلاف مذہبی کارڈ بڑے دھڑلّے سے استعمال کرتے ہیں۔ سماج میں اس فتوے باز مافیا کا کردار اس قدر گھناؤنا ہے کہ بعض بڑے ججوں اور جاوید احمد غامدی جیسے انتہائی مُعتبر دینی عالم اور معقُول شخصیت کو بھی مُلک چھوڑنے پر مجبُور ہونا پڑتا ہے، اور اس ہتھکنڈے کا استعمال اس قدر خوفناک ہوچُکا ہے کہ اس کے استعمال کے خلاف مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں پر عمل کروانے کے لئے ریاست کے سب سے طاقتور ادارے کے اعلیٰ ترین عُہدے دار ہی کو آگے بڑھنا پڑتا ہے، جیسے اسی مائنڈ سیٹ کے حامل ایک مُجرم کی سزا پر عملدرآمد کا مُعاملہ ہو یا اس مائنڈ سیٹ کی شکار بن جانے والی کسی غریب، محنت کش اقلیتی خاتُون کی رہائی اور مُلک سے نکل جانے کا چیلنج درپیش ہو، کسی نہ کسی آرمی چیف ہی کی کوششوں سے اس سے نمٹا جاسکا ہے۔ قاتل دہشت گرد پولیس اہلکار کی سزا پر آرمی چیف کے initiative کی بُنیاد پر عین اُسی روز عملدرآمد کیا گیا جس روز اسی سوُسائٹی کی ایک باصلاحیت روشن خیال بیٹی، شرمین عُبید چنائے ”غیرت کے نام پر قتل“ کے موضُوع پر بنائی گئی اپنی شارٹ فلم پر آسکر ایوارڈ وصوُل کر رہی تھی۔ ۔

سیاست ہو، ادب ہو یا تدریس، زندگی کے ہر شُعبے میں انقلابی سوج کے حامل افراد کو عبرتناک انجام کا استعارہ یا۔ ۔ دُوسرے لفظوں میں ”بھُٹو“ بنا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دائیں بازُو کے مُٹھی بھر عناصر پر مُشتمل یہ مذہبی مافیا اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کی وجہ سے یہ آج 21 ویں صدی میں بھی سرگرم عمل ہے حالانکہ معاشرے کی اکثریت لبرل اور مُعتدل مزاج ہے۔ کھیتوں کھلیانوں میں ہل چلانے والے کسان ہوں، فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدُور ہوں، روزمرہ ضرُورت کی اشیاء کا ٹھیلہ لگانے والے ہوں، آٹو رکشہ چلانے والے محنت کش ہوں یا سینما دیکھنے جانے والے، عام لوگوں کی اکثریت قدرے پسماندہ یا جاہل تو ہو سکتی ہے، انتہاپسند رویہ کی حامل یا شدّت پسند نہیں!

سماج میں گھُٹن برقرار رکھنے کے لئے کوشاں، مذہب کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر بھُول جاتے ہیں کہ 4 دہائیوں بعد بھی جُنید حفیظ کی شکل میں ”احسن فارقلیط“ اس حبس زدہ سماج میں روشن سوچ کے ساتھ، تازہ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح آج بھی جابجا موجُود ہیں کہ ذہانت، روشن خیالی، اعتدال پسندی جیسے فطری رویوں، اور خُوشبُو اور ہوا کا سفر کبھی رُکتا نہیں، سدا جاری رہتا ہے۔

Facebook Comments HS