رانا ثناء اللہ کو ضمانت کیوں ملی؟
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی ضمانت کے معاملے پر ن لیگی حلقوں میں خوشی جبکہ حکومتی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ میڈیا میں پی ٹی آئی وزراء کے ماضی کے بیانات اب ایسا لگتا ہے جیسے ان کے گلے کی ہڈی بن کر سامنے آرہے ہیں۔
شہریار آفریدی نے ملک کے عوام میں خاص طور پر میڈیا کے حلقوں میں اس وقت انقلاب برپا کیا جب وہ میڈیا پر ہی ”فوٹیج“ اور ”ویڈیو“ کا فرق سمجھانے لگے۔ جس سے نہ صرف کیس پر اثر پڑا بلکہ ہر سننے اور پڑھنے والے کے دل میں شک نے جنم لے لیا کہ جو رانا ثناء اللہ اور ن لیگ کہہ رہے ہیں کہیں سچ تو نہیں؟ ، کہیں ایسا تو نہیں کہ اے این ایف کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا؟ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بہت سے ایسے بیانات عمران خان نے خود دیے اور بعد میں ان سے مکر گئے جس سے ان کا نام تک اپوزیشن نے ”یوٹرن خان“ رکھ دیا۔
اب بات کرتے ہیں کہ 15 کلو ہیروئین برآمد ہونے پر رانا ثناء اللہ کو ضمانت کیسے مل گئی۔ دوران چیکنگ اگر 100 گرام کی مقدار تک کسی بھی قسم کا نشہ برآمد ہوتا ہے تو اس پر CNSA 1997 کے مطابق دفعہ 9 A کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جس کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ 100 گرام سے 1000 گرام تک یعنی ایک کلو تک چرس، افیون، ہیروئین یا کوئی بھی نشہ دوران چیکنگ کسی سے برآمد ہو تو اس پر CNSA 1997 کے مطابق دفعہ 9 B کے تحت کارروائی کی جائے گی جو کہ ناقابل ضمانت دفعہ ہے۔
1000 گرام یعنی ایک کلو سے اوپر چاہے جتنا مرضی نشہ برآمد ہو، ٹنوں کے حساب سے بھی اگر برآمد ہو تو اس پر CNSA 1997 کے مطابق دفعہ 9 C کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ملزم اپنی ضمانت کروا سکے۔
اب بات کرتے ہیں رانا ثناء اللہ کی ایف آئی آر کے حوالے سے۔ رانا ثناء اللہ کی ایف آئی آر میں CNSA 1997 کے مطابق 9 C، 15,17 اور دفعہ 186,179,225,353 پاکستان پینل کوڈ کے حوالے سے داخل کیں۔
CNSA 1997 کی دفعہ 17 اور دفعہ 186، 179,225,353 پاکستان پینل کوڈ کی تمام دفعات قابل ضمانت ہیں جن میں ملزم کی ضمانت ہو سکتی ہے۔
CNSA 1997 کی دفعہ 15 کا مطلب ہے کہ ملزم کسی ڈرگ مافیا کی سپورٹ کرتا ہے اور انہیں ایڈ کرتا ہے جبکہ 17 کا مطلب ہے کہ سرکاری افسر کے کام میں کسی قسم کا خلل ڈالنا۔ رانا ثناء اللہ کے کیس میں سارا کیس صرف دو دفعات پر ٹکا ہے اور وہ ہیں 9 C اور 15 جو کہ دونوں ہی ناقابل ضمانت اور انتہائی سنگین دفعات ہیں جن میں ملزم کی ضمانت کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
اے این ایف کی کارروائی کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ موقع پر موجود ڈیوٹی افسر برآمد شدہ منشیات کے دو علیحدہ پارسل بناتا ہے۔ ان برآمد شدہ منشیات میں سے چند گرام منشیات کا فرانزک کرانے کے لیے سیمپل نکالتا ہے اس کو سیل کرتا ہے اور سٹیمپ کرکے PFSA بھجوا دیتا ہے۔ باقی منشیات کو اسی وقت موقع پر سیل کیا جاتا ہے اور سٹیمپ لگاکر تھانے میں مال خانے میں جمع کروایا جاتا ہے۔ ڈیوٹی افسر مال خانے کے محرر کو یہ بتانے کا پابند ہوتا ہے کہ منشیات کی مقدار کتنی ہے اور کس سے برآمد ہوئی جس کا اندراج محرر اپنے پاس کرتا ہے۔
دوران ٹرائل سیمپل کی فرانزک رپورٹ اور سیل شدہ سارا مال جو مال خانے میں جمع کروایا جاتا ہے وہ ANC میں جج کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ دوران ٹرائل گواہی کے لیے ان اہلکاروں کو بلایا جاتا ہے جو موقع پر موجود ہوتے ہیں اور منشیات کو برآمد کرتے ہیں اور مال خانے کا محرر بھی ای این ایف کی عدالت میں گواہی دیتا ہے کہ یہ منشیات فلاں بندے کی میرے پاس آئیں۔
عدالت کسی بھی ملزم کی ضمانت اس وقت منظور کرتی ہے جب عدالت کو یہ محسوس ہو کہ مزید انکوائری کی ضرورت ہے، جو ثبوت پیش کیے گئے ہیں وہ اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ ملزم کو مجرم قرار دیا جائے۔ یہاں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ عدالت میں جب ضمانت کی درخواست دی جاتی ہے تو عدالت اس گہرائی میں کیس کو نہیں دیکھتی جو دوران ٹرائل دیکھا جاتا ہے۔ عدالت یہ دیکھتی ہے کہ بظاہر کیا لگتا ہے؟ دوسری بات جو اہم ہے ملزم کا بیک گراؤنڈ بہت ضروری پہلو ہوتا ہے، عدالت کو یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے کہ اگر ملزم کوئی سیاست دان ہے تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر ضمانت منظور ہوجاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قانونی سقم دور ہوا اس وقت ہوا جب کوئی طاقتور اس قانون کے شکنجے میں آیا ورنہ یہ قانونی سقم ایسے ہی آگے چلتے رہتے ہیں اور چھوٹے طبقے کے لوگ اس میں پستے چلے جاتے ہیں۔ 1997 سے لے کر آج تک بہت سے جج، وکلاء، بیوروکریٹس، سیاست دان، فوجی جرنیل اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ کرپشن کے مرتکب ٹھہرائے گئے اور انہیں سزائیں بھی ہوئیں پھر یہ ای این ایف کے قانون میں اتنا بڑا سقم کیوں ہے کہ ڈیوٹی افسر کمپلینٹ، اسی کے اپنے اہلکار بطور گواہ اپنی ہی عدالت میں اپنے ہی جج کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔
کوئی ایسا ٹھوس اقدام جس سے انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں کیوں موجود نہیں ہے؟ لاکھوں کیسز ایسے ہیں جن میں جھوٹے گواہ کھڑے کیے جاتے ہیں، پھانسی تک دے دی جاتی ہے لیکن فوج کا ایک ادارہ پنجاب پولیس کی کارروائی کے طریقہ کار پر عمل پیرا کیوں ہے؟ ٹھوس میکینزم کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس سے لگے کہ واقعی وردی پر داغ نہیں لگ رہا بلکہ اسے سلام کیا جارہا ہے۔
ایسے تو کسی بھی شخص سے ذاتی انتقام لینے کے لیے کسی بھی وقت اے این ایف کو ہاتھ میں لے کر کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، جتنی مرضی منشیات برآمدگی ڈال دیں، اپنے جج، اپنی عدالت، اپنے گواہ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فرشتہ صفت اہلکار ہی منصف ہیں۔
رانا ثناء اللہ کے کیس کا ٹرائل ابھی شروع ہونا ہے۔ اے این ایف نے عدالت میں یہ ثابت کرنا ہے کہ 15 کلو ہیروئین رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے برآمد ہوئی، اس کے لیے اگر وہی اے این ایف کے لوگ جو ڈیوٹی پر مامور تھے کو بطور گواہ پیش کیا گیا اور اس کے لیے علاوہ کوئی ثبوت پیش نہ کیا گیا جیسے کارروائی کے دوران کی ویڈیو، دوران تفتیش رانا ثنا ء اللہ کا کوئی بیان جو یہ ظاہر کرے کہ واقعی ہیروئین ان کی گاڑی سے برآمد ہوئی، افغانستان اور پاکستان میں رانا ثناء اللہ کا وہ نیٹ ورک جو گرفتاری کے بعد ڈی جی اے این ایف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا، کیس سے جڑے لوگوں کی گرفتاریاں جو عدالت میں بیان دیں کہ وہ رانا ثناء اللہ کے لیے کام کرتے تھے، سمگلنگ کی ٹرانزیکشنز اور دوسرے ثبوت جو اے این ایف کو عدالت میں پیش کرنے ہیں تو میرے ساتھ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام بھی سمجھیں گے کہ پاکستان تحریک انصاف نے انتقام کی خاطر ایک معتبر ادارے کو استعمال کیا اور اسے بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔


