رشتے رہ جاتے ہیں محبتیں ختم ہوجاتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہنے کو تو ماں باپ بہن بھائی ایسے رشتے ہیں کہ انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ حقیقت قبول کرنے سے سب ہی آنکھیں کترالیتے ہیں کہ ان پرخلوص رشتوں سے بھی محبت بہت خاموشی سے الگ ہوجاتی ہے۔

ماں نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے پھر دنیا میں آنے کے بعد بھی ایک متناہی تعلق اولاد سے جڑا رہتاہے۔ یہ تعلق اولاد کے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہوکے رہ جاتا ہے سات سال کے بعد ہی ماں اپنی غرض ڈھونڈنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ سب اتنا غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے کہ آپ سمجھ نہیں پاتے۔

یقینا ناقابل تسلیم بات ہے لیکن اپنے اندر جھانکیے۔ ماں جیسا رشتہ بھی بے غرض نہیں۔

بیٹے کی کمائی اور بیٹی کی خدمت دونوں وصول کرتی ہے۔ بیٹی کی خدمت بچپن سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اور بیٹے کے کمانے کی عمر آتے ہی کمائی پہ حق ماں کا ہی ہوتا ہے۔

بہت عجیب باتیں لگتی ہیں یہ۔ حقیقت سے دور۔ لیکن غور طلب۔

اگر نکاح کا بندھن اسلام میں نہ ہوتا تو یقین جانئیے مرد کبھی بھی رشتوں کی ذمہ داریاں نہ اٹھاتا۔ اسے آزادی ہوتی کسی بھی عورت کے پاس جانے کی تو گھر کبھی نا بنتے۔ نا بال بچو ں کی فکریں ہوتی۔

مذہب اسلام کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے انسانوں کو رشتوں میں باندھ دیا۔ ورنہ معاشرے میں ایک ہل چل ہوتی اپنی غرض پوری کرکے انسان آگے نکل جاتا۔

بچپن بہت کمزور ہوتا ہے باپ کی ایک جھڑکی یا ماں کی ایک چپت بہت اثر کرتی ہے۔ ماں باپ کی محبت دل میں اتنی لبریز ہوتی ہے کہ محسوس ہی نہی ہوتا کب اور کتنی مرتبہ ان کے غصے کے زیر عتاب آئے۔

کہتے ہیں سات سال تک کے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ نہی کرنا چاہیے ان کے گرد آزادی کا ایک دائرہ ہوتا ہے جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دائرہ محدود ہوتا جاتا ہے۔ شرارتیں غلطیوں میں بدلنے لگتی ہیں غلطیاں نفرتوں میں بدلتی جاتی ہیں۔ وہ محبتیں جو رشتوں میں ہوا کرتی تھیں آہستہ آہستہ صرف تعلق بن کے رہ جاتی ہیں۔

درحقیقت انسانیت وہ واحد جذبہ ہے جو تمام تر محبتوں اور تعلق سے بلند تر ہے۔ وقت ثابت کرتا ہے ماں باپ اور اولاد کے بیچ اگر انسانیت برقرار ہے تو خونی رشتے دیر پا ہیں وگرنہ صرف لفاظی ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے موت سے پہلے کئی کئی سالوں تک انسان بستر پہ ایک اذیت ناک زندگی گزارتا ہے۔ زندہ لاش بن کے رہ جاتا ہے اس وقت نہ کھانے کا ہوش رہتا ہے نا صاف صفائی کا ایسے میں اس کے پاس صرف وہ ہی ہوتاہے جس میں انسانیت ہے چاہے وہ اولاد ہو یا بہو داماد۔ کسی کی غلاظت صاف کرنا صرف انسانیت ہی کرواتی ہے۔

چاہتی تو مضمون بہت لمبا بھی ہوسکتا تھا لیکن مختصر لکھ کے کوشش کی ہے کہ اپنے آپ کا مطالعہ کیجیے اور اپنے اندر چھپی انسانیت کو بھر پور طریقے سے باہر آنے دیجئیے۔

غرض یہ کہ رشتے تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *