سب سے پہلے پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پھانسی سے پہلے اگر موت ہوجائے تو لاش کو گھسیٹ کر لایا جائے اور ڈی چوک پر تین دن لٹکایا جائے۔ “ ”سابق چیف آف آرمی سٹاف غدار ہے۔ “

اولیور کروم ویل کی لاش کو سزا دینا آصف سعید کھوسہ نے مثالی قرار دیا۔ ہمارے پیارے نبی رسالت مآب ؐ نے لاش کی بے حُرمتی سے منع فرمایا۔ یہ فیصلہ کس قدر جاہلانہ اور ظالمانہ ہے۔ یہ غصّے اور ذاتی عناد کی Superlative degree کی بھی انتہا ہے۔ پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ مذہب، آئین اور قانون میں کہیں اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔ چلیے تھوڑا ماضی میں چلتے ہیں۔

12 اکتوبر 1999 میں پاکستان کے آرمی چیف پرویز مشرف اپنے سری لنکا کے سرکاری دورے سے PIA کی کمرشل فلائیٹ PK۔777 سے واپس کراچی آرہے تھے۔ ان کے ساتھ جہاز میں سرکاری اہل کاروں سمیت دیگر مسافر بھی موجود تھے۔ جہاز ابھی محوِ پرواز ہی تھا جب نواز شریف نے اچانک پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی سول ایشن کو حکم صادر کیا جاتا ہے کہ مشرف کے جہاز کو زمین پر نہیں اُترنے دینا۔ فضا میں محوِ پرواز جہاز کے اندر بیٹھے جنرل مشرف اور دیگر مسافروں کو کچھ معلوم نہیں کہ زمین پر کیا حکم دیا جا چکا ہے۔

کچھ ہی دیر بعد پائلٹ مسافروں کو مطلع کرتا ہے کہ جہاز کو زمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ مشرف اور سرکاری اہل کاروں سمیت تمام مسافر ششدر رہ جاتے ہیں۔ جہاز فضا میں تیس منٹ تک گردش کرتا رہا۔ حتیٰ کہ جہاز میں فیول کا لیول کم ہونا شروع ہوگیا۔ جنرل مشرف خود اُٹھ کر کاک پٹ میں جاتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے بات کرتا ہے کہ میں آرمی چیف ہوں جہاز کو کیوں نہیں نیچے اترنے دیا جارہا۔ مشرف کو جواب میں کہا جاتا ہے کہ حکومت کا حکم ہے آپ کے جہاز کو پاکستان میں نہیں اُترنے دیا جائے۔

جہاز میں وہ اکیلے نہیں بلکہ سینکڑوں دوسرے مسافر بھی ہیں جن کی جانوں کو خطرہ ہے کیوں کہ جہاز کا فیول ختم ہو رہا ہے۔ وہاں کچھ دیر خاموشی چھا جاتی ہے پھر چند منٹ بعد کنٹرول ٹاور سے جواب آتا ہے کہ اپنے جہاز کو موڑکر انڈیا کی طرف لے جائیں اور گجرات یا احمد آباد میں اتار لیں۔ یہ سنتے ہی مشرف حیرت زدہ رہ گیا اور پائلٹ سے کہا جہاز کو موڑ کر حیدر آباد کی طرف لے چلو وہاں لینڈ کرتے ہیں۔ پائلٹ نے حکم کی تعمیل کی لیکن اِدھر سے بھی انکار ہی ہوا۔

اب جہاز میں موجود تمام مسافروں کو اپنی موت صاف دکھائی دینے لگی کیونکہ جہاز میں صرف پچاس منٹ کا فیول بچا تھا۔ مشرف کے کہنے پر جہاز دوبارہ کراچی کی طرف لے جایا گیا لیکن وہاں رن وے پر مکمل اندھیرا کر دیا گیا تھا تاکہ جہاز زمین پر نہ اتر سکے۔ ایسے میں پائلٹ نے اُڑی ہوئی رنگت سے جھلکتی مایوسی کے ساتھ جنرل مشرف کی طرف دیکھا۔ مشرف نے کنٹرول ٹاور سے آخری مرتبہ بات کی اور کہا کہ ملٹری پولیس سے بات کروائی جائے۔

اس دوران فوج کی سینیئر قیادت تک خبر پہنچ چکی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی نے فوراً کراچی ائیر پورٹ کو سیز کر کے جہاز بر وقت زمین پر اتارا۔ ساتھ ہی ملٹری پولیس نے ضیا الدین بٹ کو گھر میں بند کروا دیا تاکہ کمان نہ ہوسکے۔ جنرل مشرف جہاز سے باہر نکلا تمام مسافروں کو بحفاظت لاؤنج تک پہنچایا گیا اور پھر وہیں کھڑے کھڑے مشرف نے ایمرجنسی لگا دی اور نواز شریف کی حکومت کو بر طرف کر دیا۔ سوال پیدا ہوا اس جہاز میں موجود تین سو مسافروں کی زندگیاں موت کے گھاٹ اتر جاتیں تو کیا ہوتا۔

اس وقت کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے بھی جنرل مشرف کی ایمرجنسی کو قانونی قرار دیا اور تین سال کی مہلت دے دی۔ برطانیہ کی روایتوں کے مطابق ان کا وزیر دفاع ہمیشہ آرمی چیف یعنی ایک جرنیل ہوتا ہے۔ ہماری فوج ہماری نظریاتی، زمینی اور فضائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ ہم اس نکتے کو قطعاً نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اگر پاکستان میں کہیں اندرونی خلفشار ملک کو تباہی کی طرف لے جائے تو بیرونی طاقتیں اپنے ناخن اور تیز کر دیتی ہیں۔

ایسے میں افواجِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرے۔ خصوصی عدالت کے تین ججوں نے ملک کے سابق چیف آف آرمی سٹاف کو جس نے ملک کی خاطر کئی جنگیں لڑیں انہیں مجرم قرار دیا ہے۔ میں بھی زندگی کی راہوں کا تعین کرتے ہوئے ایک طالب علم کی حیثیت سے کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی ہوں۔ اگر غور کیا جائے تو آئین پاکستان کی بے حُرمتی کس کس سیاست دان نے نہیں کی۔ پیرا گراف 66 کو بلاول صاحب فرما رہے ہیں یہ فیصلے کا حصہ ہی نہیں ہوش کے ناخن لیجیے صاحب یہ تو باقاعدہ آرڈر کیا جارہا ہے۔

کسی فوجی کو غدار کہنا اس کے لیے ماں کی گالی سے کم نہیں لہٰذا ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کو مضبوط اور بھر پور انداز میں قوم کو پیغام دینا پڑا کہ افواجِ پاکستان ایک خاندان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادارے سے پہلے ہمارے لیے ملک ہے۔ کیا سب بھول گئے کہ کار گل کی جنگ کا فاتح کوئی اور نہیں مشرف ہی ہونے جارہا تھا۔ معروف بھارتی صحافی برکھادت نے اپنی کتاب This unique land میں لکھا ہے کہ پاکستانی فوج اور جنرل مشرف نے کارگل میں بھارت کو گردن سے آن دبوچا تھا تب بھارت بھیک مانگتا ہوا امریکہ کے پاس گیا۔

بل کلنٹن نے نواز شریف سے رابطہ کیا اور یوں نواز شریف نے فوج واپس بلوا کر سارا کھیل اُلٹ دیا اور معرکۂ کارگل بھارت کے حق میں چلا گیا۔ اس نے مزید لکھا کہ کارگل میں کئی علاقے پاکستان کے قبضے میں آجانے تھے اور کشمیر بھی آزاد ہوجانا تھا مگر نواز شریف نے پاکستان اور افواجِ پاکستان کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ نہ جانے اس عمل کو کیا کہیں گے۔ بھارت کے سابق چیف آف آرمی سٹاف نے بھی جنرل مشرف کی دلیری کو مانتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل مشرف 11 کلو میٹر انڈین علاقے میں اپنی فوجوں کے ساتھ گھُس آیا تھا اور ایک رات وہاں گزاری یہ جانتے ہوئے کہ وہاں خطرہ تھا۔

ملک کے استحکام کے لیے چالیس سال خدمت کرنے والے سیاچن کے فاتح کو تو غدار کہا جارہا ہے لیکن ملک کا پیسہ لوٹنے والے، اقامہ پر نا اہل قرار دیے جانے والے، ملک کو پیچھے دھکیلنے والوں کو بیماریوں کی آڑ میں دھڑا دھڑ باہر بھیجا جارہا ہے۔ ہم کب آپس کے اختلافات کو بھلا کر قومیت کی یک جہتی کی طرف چلنا شروع کریں گے۔ افواج پاکستان نے ہمیشہ اپنے سینوں پہ گولیاں کھا کر شہادتوں کے جام پیے اور ہمیں تحفظ دیا۔ آج جس میڈیا پر بے شمار ٹی۔وی چینلز کھل گئے ہیں۔ اس کو پرویز مشرف ہی نے لائسنس جاری کیے تھے اور ملک میں دھڑا دھڑ مختلف چینلز کھل گئے۔ حالیہ ریٹائرڈ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ منصف کا دل شیر جیسا اور حوصلہ لوہے کی طرح مضبوط ہونا چاہیے۔ کاش وہ کہیں عدلیہ کے نظام کی تیزی اور شفافیت کا ذکر بھی کرجاتے۔ کاش وہ کارگل یا سیاچن پہ ایک رات گزار لیتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ وہاں موجود فوجی جوان اور افسر کس طرح اپنی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

خدا را! ملک کو چلنے دیں موجودہ حکومت اور افواجِ پاکستان مل کر ملک کی سالمیت اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ کیا نہیں دیکھ رہے ہمسایہ ملک میں انسانیت کے مجروح قتل کا گھناؤنا رقص جاری ہے۔ کیا اب بھی اس وطن کی اہمیت کا احساس نہیں۔ اس جاہلانہ اور ظالمانہ فیصلے کے بعد پوری قوم پریشان ہے۔ برسوں بعد پاکستان کے خارجی تعلقات استوار ہو رہے ہیں۔ ہمارے وطن کا ہر ادارہ قابلِ احترام ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں ہمیں LOC پہ کھڑے اپنے فوجی جوانوں کے حوصلوں کو بڑھانا ہے۔ پوری قوم افواج پاکستان کی خدمت کے صلے میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ سب سے پہلے پاکستان، افواجِ پاکستان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *