جعلی وکیل، اصلی تماشے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تھا کاکا منّا۔ شرارتی سا اتھڑا سا۔ ہر راہگیر سے پنگا لیتا۔ کسی کوچُٹکی کاٹ دیتا، کسی کے کان پہ دھر دیتا، کرتے کرتے ایسی نازیبا حرکات کرنے لگا کہ خُدا کی پناہ! گھر والے تگڑے تھے، لوگ ڈرتے تھے کہ شکایت کرنے پہ بھی سو سو دلائل ملیں گے یا دھمکیاں۔ سو لوگ چُپ کر رہے۔ مُنا ٹُوٹے چھِتر کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ اور بات بچوں سے بڑوں تک جاپہنچی۔ ایک بابا جی کو پیچھے سے دوہتڑ مارا، بابا جی نے پلٹ کر دیکھا اور کہا شاباش بیٹا، بہت اچھے۔ جیب سے چوّنی نکال ہاتھ پہ دھڑ دی۔ گویا بدتمیزی پہ مُہر ثبت کر دی۔ لگے رہو مُنَا بھائی۔

وقت کے ساتھ ساتھ مُنا، مُنا نہ رہا بلکہ مُنڈا بن گیا۔ اب شرارتوں کا دائرہ کار بھی بڑھ گیا، لوگ پہلو بچا کر گُزرتے، جو کمزور قابُو آجاتا صدقے کا بکرا بن جاتا۔ بڑھتے بڑھتے شرارتیں بے ہُودگی تک جا پہنچیں۔ اب راہ چلتوں سے اُنگشت زنی شُروع کردی۔ ایک دِن کِسی پٹھان کو نشانہ اُنگشت زنی بنا ڈالا۔ اب خان صاحب پلٹے۔

گاڑھی گاڑھی گالیاں دیں اور اُٹھا کر زمین پہ دے مارا۔

لڑکے کی ریڑھ کی ہڈی کے مُہرے ہِل گئے۔ ٹانگ ٹُوٹ گئی۔ سر پہ چوٹیں آئیں۔ نچلا دھڑ کام کرنا چھوڑ گیا اور پھر باقی عُمر بستر پہ پڑے گُزرے۔

آج کل منظر نامے پہ وُکلاء گردی کا شوروغوغا ہے۔ وُکلاء نے دِل کے ہسپتال پہ حملہ کیا اور اس دوران کئی مریض اگلے جہاں پہنچ گئے۔ اور ہسپتال کی ایسی کی تیسی کر دی۔ ایک حاضر سروس وزیر کو زدوکوب کیا گیا۔ بال کھینچے گئے اور بھی بہت کُچھ۔

ایک مباحثہ جاری ہے۔ وکیل کہہ رہے ہیں ہمارا قصُور نہیں۔ قصُور ڈاکٹروں کا ہے۔ ہم عِلاج کروانے گئے۔ انہوں نے ہمیں تختئہ مشق بنایا۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں یہ پہلے حملہ آور ہُوئے درجہ چہارم ملازمین پہ۔ ہماری تو لڑائی ہی نہیں ہوئی ان سے۔ انہوں نے جان بُوجھ کر لڑائی ہماری طرف دھکیلی۔ ایک لمحے کے لیے آپ ڈاکٹروں کو بیچ سے نِکال دیں۔

دوبارہ صِرف وُکلاء کو لیتے ہیں۔ وُکلاء کو عوام میں اکثر سے بیشتر لوگ بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔

کیا وکیل بُرے لوگ ہیں؟ ہرگز نہیں! ایک سے ایک بڑھ کر اچھا وکیل مِلے گا۔ خوش اخلاق ملنسار، بندہ نواز، دِل جُو، نمازی، پرہیزی، تہجد گُزار۔ وکیل لوگ زمانے کے ظُم و جبر سے ستائے لوگوں کا سہارا بنتے ہیں۔ لوگوں کے زخموں پہ مرہم رکھتے ہیں۔

پھر معاملہ کیا ہے۔ عوام میں اس کمیونٹی کے خلاف روز افزوں بڑھتی ہوئی نفرت کی وجہ کیا ہے؟ اس موضوع پہ سوشل سائینز کے طُلبہ کو تھیسز ٹاپک الاٹ کیے جانے چاہئیں۔ مگر چیدہ چیدہ واقعات کا سہارا لے کر کچھ تجزیہ عام ذی شعور بھی کر سکتا ہے۔ سارا دن عدالتوں میں کلائنٹس کے لیے دھکے کھاتے، کیس تیار کرتے، راتوں کو دیر تک اگلے دن کے کیسوں کے لیے تیاری کرتے وکیل کا ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔ اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ہر راہ چلتے سے اُلجھتا پھِرے۔ قانُون کی سُوئی سے پیوند لگا کر دھجی سے دھجی جوڑ کر اصل کہانی جج کو سمجھانے والا کیسے چاہے گا کہ وہ اسی قانون کی دھجیاں اُڑا دے۔کُرسی مار کر جج کا سر پھوڑ دے۔

کسی پولیس افسر کی گت بنادے یا لیڈی پولیس کانسٹیبل کے منہ پہ تھپڑ جڑ دے۔ کسی لیڈی کلائنٹ کو ٹانگیں رسید کرے۔ کسی ٹُول پلازے پہ دس بیس روپے کے لیے سر پھٹول کرتا پھرے۔ اُس کے پاس تشدد کی تلوار نہیں ہوتی۔ وہ دلیل کا پرچارک ہوتا ہے۔ اُس کے پاس قانون کی تلوار ہوتی ہے۔ وہ کیسے کچہری کی عمارت کسی اور جگہ منتقل کرنے پہ سسٹم کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہے گا۔ وہ کیوں آفسز میں جا کر رُعب جمائے گا، جگا گِیری کرے گا۔

آئے دن ہڑتالیں کرے گا۔ مان لیجئیے ایسا کرنے والا وکیل نہیں ہے! کیونکہ وکیل قانون پرست ہوتا ہے وہ قانون شِکن ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹروں والا معاملہ آج نہیں تو کل نپٹ جائے گا مگر وکلاء اتحاد کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے کیدو کل پھر کِسی نہ کسی سے پنگا لے کر کوئی تنازعہ گھر اُٹھا لائیں۔ اگر اس پہ بندھ نہ باندھا گیا۔ کوئی قدغن نہ لگائی گئی تو آنے والے دِنوں میں اس کے شدید نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اب عوام سامنے کھڑے ہونے لگی ہے۔

وُکلاء برادری کے زیرک اور داناؤں کو آگے آنا پڑے گا اور اپنی صفحوں میں چھُپے ان کرداروں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو آئے روز وکالت جیسے مقدس پیشے کی حُرمت بیچ بازار تار تار کرتے ہیں۔ بار کونسلز کے لیے کوئی اصول وضوابط طے کرنے ہوں گے۔ انہیں دیکھنا ہوگا کہ پورے پاکستان میں صرف پنجاب کے وکلاء ہی کیوں آئے روز قانون شکن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اور سارا پنجاب بھی نہیں بلکہ چند مخصوص بارز! یہ وقت کی اولین ترجیح ہے کہ گھر کے بڑے کاکے منّوں کو سمجھائیں کہ بس بیٹا بس!

بہت ڈنڈے بجا لئے۔ اب بیبے پُتر بنو۔ نہیں تو تماشا لگا رہے گا۔ اور کب تک اپنی بے گناہی کی صفائیاں دیتے رہیں گے۔ آگے بڑھئیے، اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔

اور آئے روز کہنا پڑے

تُم نیا جھگڑا گھسیٹ لائے ہو

گھر میں پہلے عذاب کم تھے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply