اور کتنے بچوں کا لہو چاہیے ان درندوں کو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے، اگر آپ کے منہ پر ٹیپ لگا دی جائے۔ ہاتھوں اور پیروں پر اسی ٹیپ سے اتنے بل دیے جائیں کہ آپ انہیں ہلا بھی نہ سکیں، پھر آپ کو ایک الماری میں بند کر دیا جائے۔ آپ کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہو۔ تاریکی میں کچھ دکھائی نہ دیتا ہو۔ تو آپ اس کیفیت میں کتنی دیر جی سکیں گے؟

وہ تو محض چار برس کا تھا۔ ایک چار برس کا معصوم بچہ جسے تاوان کی غرض سے اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کرنے والا کوئی اجنبی بھی نہیں تھا۔ اس کے باپ کا کزن تھا۔ اس سنگدل نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بچے کے منہ، ہاتھوں اور پیروں پر ٹیپ لگا کر الماری میں بند کر رکھا تھا۔ جب چار دن بعد پولیس اس بچے تک پہنچ پائی تب تک وہ مر چکا تھا۔

اسے مرنا ہی تھا۔ وہ کب تک برداشت کر سکتا تھا۔ ایسی کیفیت میں تو چند منٹ گزارنا مشکل ہوتا ہے، چار دن، چھیانوے گھنٹے یا پانچ ہزار سات سو ساٹھ منٹ وہ کیسے گزارتا۔

وہ تو اسی وقت مر گیا ہو گا جب اس نے دیکھا ہو گا کہ اس کے منہ پر ٹیپ لگانے والا کوئی غیر نہیں اس کا اپنا ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ وہ انسانوں کے درمیان نہیں درندوں کے درمیان رہتا ہے۔ ایسا تو جانور بھی نہیں کرتے۔ یہ درندگی نہیں تو اور کیا ہے۔

وہ معصوم بچہ جس نے ابھی ٹھیک طرح سے اس دنیا کودیکھا بھی نہیں تھا۔ ابھی تو اس نے سکول جانا تھا، پڑھنا تھا۔ ابھی تو ٹافی، کھلونے اور غباروں سے بہلتا ہو گا۔ ابھی تو اس نے خواب دیکھنے تھے پھر ان خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی تھی۔ وہ بھی کسی ماں کا دلارا تھا، کسی باپ کا سہارا تھا مگر افسوس کہ ایک پھول کو پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی کچل دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق وہ بھارہ کہو میں رہتا تھا۔ مگر یہ بات اہم نہیں ہے۔ وہ کسی بھی شہر، کسی بھی گاؤں کا ہو سکتا تھا۔ کبھی قصور کی زینب کے روپ میں جس کی مسلی ہوئی لاش کچرا کنڈی سے ملتی ہے، کبھی گل سما کی صورت جسے غیرت کے نام پر سنگسار کیا جاتا ہے۔ وہ ہر جگہ پر ہے مگر کہیں بھی محفوظ نہیں۔ اور خونخوار درندے ہر طرف دھاڑتے پھرتے ہیں تاکہ چیر پھاڑ کریں۔ ان درندوں کی خون کی پیاس ختم نہیں ہوتی نہ ان درندوں کی بھوک مٹتی ہے، اور کتنے معصوموں کا لہو چاہیے ان کو۔

سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ حکومت جو اپنے شہریوں کے حقوق، ان کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ حکومت کیا کر رہی ہے۔ درندگی کے واقعات کا تسلسل لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت نے ایسا کون سا قدم اٹھایا ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔

بیانات دینا تو بہت آسان ہے کہ ہم مجرموں کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سے کہیں ضروری ہے کہ ایسے عوامل اور ان اسباب کا جائزہ لیا جائے جو اس طرح کے واقعات کا محرک بنتے ہیں۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی درندہ ایسی کسی کارروائی میں ملوث ہوتا ہے تو اسے کسی صورت کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اتنا تیز ہونا چاہیے کہ مجرم بچ کر نہ نکلنے پائے۔ وہ معصوم بچہ تو اب واپس نہیں آ سکتا لیکن اسے مارنے والے درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ خدا جانے کب ان درندوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا۔ اور کتنے معصوموں کا لہو چاہیے ان کو۔ آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *