حقیقت زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ایک مٹی کا پتلا ہے جس کے اندر ایک بے چین روح اپنا سر ٹکرا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے، انسان جو ہے اس کی وضاحت کرتا نہیں اور جو نہیں ہے وہ اداکاری کر نہیں پاتا بظاہر دیکھنے والی طاقتیں انسان کو اندر سے کمزور کرتی جاتی ہیں۔ رنجشیں، تلخ باتیں اور ہزاروں خواب آنکھوں میں سجائے زندگی کا سفر طے کرتا چلا جاتا ہے اس سفر کے دوران راستے میں کئی سپنے ٹوٹ کے بکھر جاتے ہیں، بہت سی امیدیں سہم جاتی ہیں یہ سبھی ناکامیاں اپنے اندر دفناتا ہوا، رسموں اور الفت کی آڑ میں نفرت کے سائے میں فرائض کو نبھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔

اور مسکراتے ہوئے پلکوں کے پردے میں چھپے گہرے سمندر کو پیتے ہوئے جی لیتا ہے۔ جب زباں پر چپ کے تالے لگ جائیں تو دل میں اٹھنے والے طوفاں اندر ہی اندر توڑ پھوڑ کرتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اٹھتی سوچیں وجود کو ہلا کے رکھ دیتی ہیں، آنکھوں میں بننے والے عکس دھندلے ہو کر پلکوں کے پار کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر انسان کا دل صبر اور رضائے رب پر مائل تھا تو یہ رنجشیں کیسی؟ شکوے کیسے؟ اور کیوں اضطراب مسلسل ہے؟

اگر ہر حال میں انسان نے شکر اللہ کا حلف اٹھایا تھا تو کیا اس کو نبھایا نہیں؟ کیا اس نے رب سے زیادہ کسی کو مخلص پایا ہے؟ کیوں اس کا ایمان ڈگمگایا ہے؟ انسان جانتا ہے کہ کوئی تکلیف ساری زندگی کے لئے نہیں رہتی، ہر اذیت کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے جس کے گزر جانے کے بعد نہ تو درد کی شدت پہلے جیسی رہتی ہے اور نہ ہی سہنے والا انسان۔

سکون کی تلاش میں در در بھٹکنے والا انسان خود کی ذات سے بہت دور ہوتا ہے اللہ نے انسان کا سکون اس کے اندر رکھا ہے اور وہ پوری کائنات میں اپنا سکون تلاش کرتا پھرتا ہے، جب وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتا ہے تو اس کو کہیں سے آواز آتی ہے ”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی“۔ زندگی بہت مختصر ہے جو ان سوالوں کو سلجھاتے ہوئے گزر جاتی ہے، انسان کو پتا ہی نہیں چلتا کب وہ اس دنیا کی خواہشات اور آسائشات میں پھنستا ہوا زندگی کے اس کنارے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں شاید اسے موت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا اور وہ اسی سوچ میں گم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے کیا لے کر جا رہا ہے۔ اس مختصر سے وقت میں جو ہمارے امتحان کی گھڑی تھی ضائع کر کے جا رہا ہے۔ آج کل لوگوں کا رویہ جان کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ وہ کس سمت جا رہے ہیں، خوف خدا کہیں نظر نہیں آتا۔ اسی وقتی دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھ کے جئے جا رہے ہیں۔ اللہ سب کو ہدایت دے (آمین)

وقت گزرتا دکھائی نہیں دیتا

مگر ہر چہرے پر ایک داستان لکھ جاتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مدیحہ رحمان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *