ادیبوں کے غیر ادبی رویے


 \"paind-khan-kharoti\"( تحریر: پائند خان خروٹی)

ادب کاشمار معاشرے کے بالائی ڈھانچہ(روبنا) میں ہوتا ہے جس کی پوری عمارت معاشرے کی معاشی اساس پر کھڑی ہے ۔ معیشت کی اساسی حیثیت ( زیر بنا)ہی ادب سمیت تمام شعبوں میں انسانی رویے ، ادبی رجحانات اور سیاسی نظریات کاتعین کرتی ہے ۔ لہذا بڑے سے بڑے ادیب اور دانشور سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سیاسی اور معاشی نظریات سے وابستگی پیدا کیے بغیر معاشرے کے سفر کا رخ متعین کرسکتا ہے تو محض یہ کسی کی خوش فہمی یاخود فریبی تو ہوسکتی ہے مگر حقیقت ہرگز نہیں ۔ گویا ادب وسیاست میں ا شتراکی نظریات اور طبقاتی جدوجہد سے انحراف عملی زندگی سے فرار کے مترادف ہے ۔

زیر نظر تحریر میں ادیبوں ، شاعروں اور دانشور حضرات کی اُس علمی بد دیانتی اور غیر ادبی رویوں کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں جس سے عام طو رپر معاشرے اور خاص کر نظریہ وادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ میری خواہش اور کوشش ہے کہ القابات سے لدے ہوئے اہل علم ودانش کے چند پوشیدہ پہلوؤں کو نمایاں کرکے ان کاحقیقی چہرہ قارئین کے سامنے رکھ سکوں ۔ ویسے بھی اُن کی تحریریں اور تقریریں تو اکثر اوقات آپ کے سامنے آتی رہتی ہیں مگر ان کی اَن کہی اور اَن سُنی باتوں کو اجاگر کرنا میری کامیابی اور سرخروئی ہوگی اور اسی سے ان کی Hidden Psychology تک رسائی کی راہ ہموار ہوگی ۔ اہل علم ودانش کی چالاکی ، دورنگی ،کاہلی اور درباری پن کو بے نقاب کرنا یقیناً آسان کام نہیں ہے تاہم Cognitive Biases کے تناظر میں اگر اہل فکر وقلم کو پرکھا اور جانچا جائے تو ان کی خود غرضی اور مخفی چہرے آسانی سے اشکار کرنے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں ۔

رویے چاہے مثبت ہو یا منفی، ان کے پس منظر اور پیش منظر میں بہت سارے ظاہر وپوشیدہ عوامل کار فرما ہوتے ہیں ۔منفی انسانی رویوں کے منفی اثرات ہی انسانی زندگی کے مختلف معاملات اور عوامل پر مرتب ہوتے ہیں ۔جس طرح ہر تبدیلی کے رونما اور اثر انداز ہونے کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اور انہی مختلف پہلووں کا ادراک کرنے کے بعد ہی نفع و نقصان کا بخوبی احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں اکثر اصحاب علم ودانش کی خواہش ہوتی ہے کہ معاشرے میں بسنے والے تمام لوگ ان کی دانشوری اور نصیحتوں پر عمل کر کے بدل جائیں مگر وہ بذات خود اپنے سوچ اور رویے کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ یہ ماننے اور سمجھنے کے باوجود کہ ذاتی رویوں میں تبدیلی لانے سے تو ہم پرستی اور ماضی پرستی کا بوجھ کم ہو جاتاہے لیکن پھر بھی دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے والے خودکو تقلید وتکرار تک محدود رکھتے ہیں۔ اپنے فکسڈ مائنڈ سیٹ کو ثابت کرنے کے لئے کبھی کھبار وہ جدید سائنسی نظریات کی بھی مخالفت کرتے ہیں ۔ اپنے خود ساختہ افکار اور پسندیدہ شخصیات دوسروں پر مسلط کرنے اور اصل حقائق سے چشم پوشی کرنے کو Confirmation Bias کہا جاتا ہے۔

انسانی ا رتقاء کی تاریخ میں معاشی اساس کے قائدانہ کردارسے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔ متعدد دیگر ترقی پذیر معاشروں کی طرح ہمارے ہاں بھی فکر ی جمود اور علمی پسماندگی کے مظاہر بہت واضح ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے اکثر ادیب ، شعراء اور دانشور حضرات معاشرے میں موجود حرکت اور عمل کے قوانین سے نابلد یالاتعلق ہوتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ادیبوں اور دانشوروں کاتعلق عام طور پر مڈل کلاس سے ہوتا ہے اور اپنی طبقاتی حیثیت کو بلند کرنے کی خاطر کئی لوگ موقع پرستی، ذاتی مفادات ، لالچ اور بٹو ر نے کی ہوس کے اسیر ہوتے ہیں اور عام طورپر یہ لوگ معاشرے کے تلخ حقائق ، عام آدمی کی زندگی اور ا جتماعی ترقی کی ضروریات سے رشتہ استوار کرنے کی بجائے بالا دست طبقے سے تعلق اور ناطہ استوار کرنے کی فکر میں نظر آتے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ (Middle Class Means No Class)۔ اہل فکر وقلم کے تاریخی غڑغشہ یعنی پوشیدہ حقائق کو آشکار کرنے کی بجائے اکثر ادیب حضرات ظاہراً تلخ حقائق پر بھی پردہ ڈالنے نظرآتے ہیں۔ اس طرح ظلم واستحصال کی مخالفت اور رجعت پرست قو توں کی مزاحمت کو ترک کرنے کاواحد مقصد شاہ اور شاہ پرستوں کی خوشنودی حاصل کرکے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کوپورا کرنا ہوتاہے ۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب سے نجی ملکیت داری نظام اور طبقاتی معاشرہ وجود میں آیا ہے اس وقت سے ہی طبقاتی جدوجہد جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہیگی جب تک معاشرے کی طبقاتی تقسیم موجود ہے ۔ انسانی تاریخ ارتقاء کا بنیادی جوہر طبقاتی جدوجہد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ادب پارے ، تخلیقی کاوشیں اور سیاسی تحریکیں ہی عوام کی قبولیت حاصل کرتی نظرآتی ہے جو اس طبقاتی جدوجہد میں مظلوم ومحکوم طبقے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔ جو لوگ اس سے سے علیحدہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اورانقلابی نظریہ و مبارزہ میں شامل کسی طبقے کے نمائندے نہیں ہوتے اور بلاآخر تاریخ کا جھاڑن ثابت ہوتے ہیں ۔ ادیب اور شاعر حضرات جو خود کوطبقاتی جدوجہد سے علیحدہ کرکے تمام معاشرے کا نمائندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ انسانی تاریخ کے بنیادی قانون سے ٹکرا کر ختم ہوتے ہیں ۔ ذاتی انا اور خود پرستی کاشکار ہوکر یہ عناصر کسی کیلئے کوئی کشش نہیں رکھتے ۔

ٹوٹ سا گیا ہے میرے اعتبار کاوجود
اب کوئی مخلص بھی ہوتو یقین نہیں آتا

اکثر ایسے ادیب اور شاعر اپنی فکری کج فہمی اور کم مائیگی کے علاوہ محض اپنے فوری ذاتی مفادات کے حصول کی وجہ سے حقائق کو بیان کرنے سے بھی معذور ہوتے ہیں، اظہار جرات اور حقائق بیان کرنا کسی بھی اچھے ادیب اور شاعر کاطرہ امتیازہوتا ہے ۔

ہمارے زوال پذیر معاشرے کے شاعر اور ادیبوں نے عام طور محکوموں اور محروموں کومعاشی غنڈوں سے نجات دلانے ، ان میں ملی وحدت کااحساس جگانے اور مظلوم طبقات کی نمائندگی اور فکری رہنمائی کے منصب وذمہ داری کو کب کاترک کردیا ہیں ۔ آج حالات یہ ہے کہ پیشہ ورانہ رقابت (Professional Jealousy)عر وج پر ہے ۔ ایک دوسرے کونیچا دکھانے کیلئے یہ اتنی محنت اور جانفشانی کامظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر کسی اعلیٰ کمٹمنٹ کیلئے اس کا نصف بھی کام کرتے تو عوام کی نظروں میں قدر ومنزلت پاتے۔ لیکن صد افسوس کہ انہوں نے اپنے غیر ادبی رویوں کی وجہ سے ادب کی دنیا کو بلا جواز بے مقصد گروہوں اور گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ اپنے غیر ادبی ر ویوں سے ادب میں نہ صرف ڈیڑھ انچ کی مسجدیں قائم کی گئیں ہیں بلکہ ان کی آبیاری بھی باقاعدگی سے ہورہی ہے تاکہ یاروں کی جعلی معتبری اور ادبی جاگیرداری قائم ودائم رہے ۔ اجڑے ہوئے جاگیرداروں اور نوابوں کی طرح وہ ایک دوسرے کو ہی اپنی رعایا تصور کرتے ہیں اور آپس میں حکم چلا کر اور حکم بجا لاکر لذت محسوس کرتے ہیں ۔تعریفیں بٹورنے اور بانٹنے کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے اپنے طو رپر تحسین باہمی کے انجمنیں(Mutual Admiration Society) بنائی ہوتی ہیں۔ مشاعرے ، سیمینار اور کسی تقریب میں ایک دوسرے کی تعریف اور توصیف کے سوا اور کوئی کام انہیں نہیں آتا ۔ اکثر تقریبات کے دعوت نامے بھی اپنے اپنے گروپوں کو ہی تقسیم کیے جاتے ہیں ۔

آج کے دور میں ایک عام رجحان یہ ہے کہ کئی ادیب اور شعراء حضرات کسی بھی تقریب میں شرکت سے پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ تقریب کے مہمان خصوصی کون ہیں۔ اگر کوئی بڑی یا حکمران شخصیت مہمان ہے تو وہ ہر صورت میں حاضر ہے ۔ بصورت دیگر ان کی شراکت بہت مشکل ہے ۔گویا ان کی شرکت اور عدم شرکت مہمان خصوصی سے مشروط کی جاتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ادب کی خدمت نہیں بلکہ اشرافیہ کی توجہ /سیوا حاصل کرنا ہے ۔ سستی شہرت کے اسیران ادیبوں ، شاعروں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ اگلی صفوں میں بٹھایاجائے ، بولنے کیلئے اسٹیج پربلایا جائے اور بعد میں میڈیا پر ان کی تشہیر بھی کی جائے ۔ انہیں غلط فہمی ہوتی ہے کہ اس طرح ان کا شمار عظیم لوگوں میں ہونے لگے گا جبکہ ایسا نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں ہر وقت جاری طبقاتی کشمکش کو تسلیم کیے بغیر ان سے رشتہ استوار کیے بغیر اور اکثریتی عوامی رائے اورعوام کے صف میں کھڑے ہوئے بغیر کوئی ادیب اور شاعر اپنے ادب پارے اور اپنی ذات کو ممتاز نہیں بناسکتا ۔

مختلف موقر اکیڈمیز اور ادبی تنظیمیں جن کامختلف قومی زبانوں اور بظاہر ترقی پسند افکار سے تعلق ہیں ۔ مختلف حیلوں اوربہانوں سے ان ادیبوں شاعروں اور مشاہر کی یاد منانے یا ان کے حوالے تقریبات منعقد کرنے سے گریزاں نظرآتی ہیں جو عوام اور مظلوم طبقات کی جدوجہد میں نمایاں طو رپر ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ اکثر ترقی پسند اور قوم پرست انقلابی دانشوروں اور شاعروں کے قلمی نسخوں کو مرتب اور شائع کرنے سے صرف اس لیے انکار کرتے ہیں کہ ان کا آثار/مواد موجود طبقہ اشرافیہ کے مفاد کے منافی ہے ۔ اس کے لئے وہ اپنی مجبوری اور معذوری کااظہار کرتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ماحول سازگار نہیں ہے اور مخالف قوتیں اور رجعت پسند عناصر اس قسم کے مواد کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتے جبکہ ادب اور تخلیق کی دنیا ایسی اجازتوں کی تابعداری میں ترقی نہیں کرتی ۔

لکھاری اور قارئین کے درمیان پائی جانے والی کمیونیکیشن گیپ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جس طرح اہل علم ودانش سماج میں موجود اکثریتی آبادی کے مصائب ومشکلات سے لاتعلق ہیں۔بالکل اسی طرح معاشرے کی عظیم اکثریت بھی ان کی علمی وادبی سرگرمیوں اورسرانجام دی گئی خدمات سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔اس کی ذمہ داری اہل علم ودانش پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شاعر وادیب آج اپنی شائع شدہ کتابوں کی تعداد، مختلف ادبی سرگرمیوں میں شرکت اور بڑی شخصیات کی ساتھ کھینچی گئی تصویروں کے بارے میں خود جاکر لوگوں کوبتاتے رہتے ہیں ۔جس کی نتیجے میں ان پر اپنے منہ میاں مٹھو کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ویسے بھی اپنے ساتھ تمام خوبیوں اورکامیابیوں کے لیبل لگانے کو علمی حلقے میں Self Serving Bias کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

آج کی سیاست اور ادب میں ظلم ، جبر ، استحصال اور معاشی غلامی کے خلاف مزاحمت کی خاصیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ اپنا تعلق محسوس نہیں کرتی اور بیگانگی و اکتاہٹ کاشکار نظرآتی ہے ۔ اس صورتحال کاازالہ وقت کی پکار ہے ۔ اور یہ اس وقت ممکن ہے جب باشعور ادیب اور شعراء حضرات آگے بڑھ کر شعر وادب کی دنیا کو کاہلوں ،نااہلوں ، موقع پرستوں ار مفادا پرستوں سے نجات دلائیں۔

افراد ہیں غلط یا غلط ہیں تصورات
یا اس معاشرے ہی کو ڈھالا گیا غلط

Facebook Comments HS