گلوکار موسیقار اور مستند شکاری شرافت علی خان ( 16 اگست 1924 سے 17 اپریل 1991 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سُپر ہٹ فلم ’وعدہ‘ 1957 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی جس کے مصنف، فلمساز اور ہدایتکار وحید الدین ضیاء الدین احمد المعروف ڈبلیو زیڈ احمد تھے۔ اِس فلم کو مقبول بنانے میں ایک گیت کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یہ سدا بہار گیت، شاعر سیف الدین سیفؔ کی نظم ہے جسے موسیقار رشید عطرے کی موسیقی میں گلوکار شرافت علی نے صدا بند کرایا۔ آج 62 سال بعد بھی یہ اسی طرح ترو تازہ اور مقبول ہے۔ گیت کے بول ہیں : ’‘ جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’‘ ۔ اسی فلم میں گلوکارہ کوثر پروین اور شرافت علی خان کا دوگانا: ”بار بار برسیں مورے نین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “، اور کوثر پروین ہی کے ساتھ ایک اور دوگانا: ’‘ لے چل لے چل منجدھار میں اے دل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’‘ مقبول ہوئے۔

شرافت علی رامپور کے ایک معزز مذہبی گھرانے میں 16 اگست 1924 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد الطاف علی خان اپنے وقت کے ایک قابل اور مستند حکیم تھے۔ شرافت بھائی نے علی گڑھ سے ایم ایس سی کیمسٹری کی سند لی۔ تحریکِ پاکستان میں علی گڑھ سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ موسیقی کی خدا داد صلاحیت، سُراور تال کے ساتھ اللہ نے اچھی آواز بھی عطا کی تھی۔ تعلیم کے دوران اس صلاحیت کو سامنے آنے کا موقع ملا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آل انڈیا ریڈیو میں ’‘ اے گریڈ ’‘ گلوکار کا درجہ حاصل کر لیا۔

پچھلے دنوں شرافت علی خان کے بیٹے صباحت علی خان سے گفتگو ہوئی۔ موصوف ایم کام، ایم بی اے، ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن اور آئی سی ایم کے طلباء کو مارکٹنگ اور منیجمنٹ کے مضامین کو پڑھاتے ہیں۔ اِس گفتگو کی کچھ دل چسپ باتیں پڑھنے والوں کے لئے پیش ہیں :

” پاپا کے گھر والے خاصے مذہبی واقع ہوئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دادا کو جب علم ہوا کہ پاپا نے علیگڑھ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ موسیقی کی بھی تعلیم حاصل کی اورآل انڈیا ریڈیو سے گلوکاری کرتے ہیں تو سخت ناراض ہوئے۔ اور کہا ریڈیو سے کچھ پڑھنا ہی ہے تو حمد، نعت اور میلاد پڑھو“۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تحریکِ پاکستان میں اپنے والد شرافت علی خان کے بارے میں بتایا : ”پاپا انتہائی محبِ وطن پاکستانی تھے۔ علیگڑھ میں تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکُن تھے۔ پاکستان بنتے ہی گھر بار والدین سب کو چھوڑ کر 1948 میں اکیلے پاکستان ہجرت کی اور لاہور آ گئے۔ یہاں اُنہوں نے دواؤں کی تقسیم کا کاروبار شروع کیا۔ 1954 میں اپنے والدین سے ملنے ہندوستان گئے۔ اُس وقت بمبئی میں سہراب مودی ایک فلم ’مرزا غالب‘ بنا رہے تھے۔ اُنہوں نے پاپا کی آواز میں اِس فلم کے لئے ابراہیم ذوقؔ کی غزل ریکارڈ کر ائی، ’اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے، مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘ ۔ اس کے بعد انہیں اپنی ایک آنے والی فلم کے گیتوں کے لئے بھی پیشکش کی“۔

ایک مرتبہ شرافت علی خان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محمدعثمان صاحب نے مجھے بتایا، یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصہ شرافت بھائی کے ساتھ طبلے پر سنگت کی۔ افسوس کچھ عرصہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ ”1954 میں شرافت بھائی کم وبیش چھ ماہ بمبئی رہے جہاں اُنہوں نے اُس وقت کے ایک نامور موسیقار سجادحُسین کے معاون کے طور پر کام کیا“۔

یہاں یہ لکھنا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ سجاد صاحب بہت اکھڑ، تیز مزاج اور قوتِ برداشت میں بہت کم تھے۔ اِن کے ساتھ چھ ماہ گزارنا کوئی معمولی واقعہ ہر گز نہیں۔ سجاد صاحب کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ طلعت محمود کو ’غلط محمو د‘ ، کشور کمار کو ’شورکمار‘ کہا کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک بہت قابل موسیقار تھے اور اپنے سے بڑھ کر کسی کو نہیں مانتے تھے۔ یہ بھارتی فلمی دنیا کے نامور ترین

’ منڈولین‘ نواز تھے۔ انہوں نے دوسرے موسیقاروں کے بھی بلا شبہ ہزاروں فلمی گیتوں میں منڈولین بجایا۔ اِن کی موسیقی کی ایک مِثال راجندر کرشن کا لکھا ہوا بھارتی فلم ”سنگدل“ ( 1952 ) کا گیت: ’۔ یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ہے۔ بہر حال بات محمد عثمان کی ہو رہی تھی: ”چھ ماہ جلد ہی گزر گئے اور ویزا ختم ہونے پر شرافت بھائی نے واپسی کا ارادہ کیا۔ سجاد حسین صاحب جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، وہ انہیں بمبئی میں روکنا چاہتے تھے۔ مزید برآں اُن کو گلوکار کی حیثیت سے مزید 5 فلمیں بھی مل رہی تھیں لیکن شرافت بھائی دُھن کے پکے تھے لہٰذا واپس لاہور آ گئے۔ البتہ بمبئی قیام کے دوران وہاں کی نامور شخصیات کے ساتھ کئی نشستیں رہیں جن میں شاعر، موسیقار، اداکار اور گلوکار جیسے دلیپ کمار اور گلوکار ہ لتا منگیشکروغیرہ شامل تھے“۔

پاکستان میں تین سال بعد 1957 میں اُن کا گیت ’جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ہواؤں کے دوش پر ابھرا تو اِس گیت نے ملک کے کونے کونے میں کامیابی اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے لیکن اِس کے بعد انہوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ آخر اس کی کیا وجہ تھی؟

شرافت بھائی کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر ابھی تک پردے پڑے ہوئے تھے۔ قارئین کی نمایندگی کرتے ہوئے میں نے اُن کے بیٹے صباحت علی خان اور اُن کے برادرِ نسبتی مظہر عالم سے رابطہ کیا تا کہ اِن باتوں کی وضاحت ہو سکے۔ اُنہوں نے تسلی بخش جواب دیے اور ساتھ ہی طبلہ نوازمحمد عثمان سے رابطہ کرنے کو کہا کیوں کہ گھر کے باہر وہ اُن کے زیادہ قریب تھے۔ تینوں سے گفتگو کرنے کے بعد ایک دھماکہ خیز انکشاف سامنے آیا۔

واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ فلم ”وعدہ“ کی نمائش کے فوراً بعد مذکورہ فلم کے موسیقار رشید عطرے نے ایک نئی فلم کے لئے شرافت علی خان سے بات کی تھی جِس میں سارے مردانہ پلے بیک گانے اِن ہی نے صدابند کروانے تھے۔ ایک گیت تیار ہوا، ریہرسل بھی ہو گئی۔ شرافت بھائی جب وقتِ مقررہ پر ریکارڈنگ کے لئے اسٹوڈیو پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مذکورہ گیت سلیم رضا ریکارڈ کرانے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ شرافت بھائی حیران رہ گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میرے ساتھ سلیم رضا کی بھی ریہرسل ہوتی رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اِس معاملے کے بارے میں موسیقاررشیدعطرے سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ گیت سلیم رضا بہتر گا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرافت بھائی کے صاحبزادے

صباحت کا کہنا ہے میرے والد صاحب کہا کرتے تھے : ”یہ میری توہین تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُسی لمحے ہمیشہ کے لئے فلموں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “۔ شرافت بھائی کے برادرِ نسبتی، مظہر عالم کہتے ہیں : ”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسٹوڈیو میں موجو د ذمہ دار لوگ اور خود رشید عطرے سمجھ گئے کہ شرافت علی ناراض ہو کر چلے گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوراً اُن کے پیچھے آدمی دوڑائے اُ س ریکارڈنگ کے بعد خود عطرے صاحب بھی اُن کے پاس گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن پھر شرافت بھائی آخر دم تک اپنے اس فیصلہ پر قائم رہے“۔ طبلہ نواز محمد عثمان اِس واقعہ کے بارے میں کہتے ہیں :

” شرافت بھائی کو غصہ ضرور آیا لیکن وہ معاملہ فہم تھے۔ تب ہی تو چھ ماہ موسیقار سجاد حسین کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزارے۔ وہ کوئی نو آموز گلو کار نہیں تھے کہ گانے کا شوق پورا کرنے کے لئے موسیقار کا ہر نارو ا رویّہ برداشت کریں بلکہ وہ آل انڈیا ریڈیو کے ’اے گریڈ‘ گلوکار رہ چکے تھے۔ عطرے صاحب کے علاوہ کئی دوسرے موسیقار بھی اُن کو ڈھونڈتے پھر ے لیکن وہ پھر کبھی بھی دوبارہ فلموں کی گلوکاری کے لئے رضا مند نہیں ہوئے“۔

موسیقار رشید عطرے جذباتی طبیعت کے حامل تھے۔ راقم کا جناب علی سفیان آفاقیؔ کے پاس خاصا آنا جانارہا۔ اُن کی زبانی پتا چلا کہ عطرے صاحب کا مزاج بہت جلدی بگڑ جاتا تھا، اُس وقت وہ بغیر سوچے سمجھے بات کرتے تھے لیکن جب مزاج ٹھیک ہو جاتا تو فوراً اپنی غلطی تسلیم کرتے اور خود پہل کر کے معاملہ سلجھا لیا کرتے تھے۔ دل کے بہت اچھے تھے۔ شرافت بھائی والے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ معاملہ رفع دفع بھی کرنے گئے لیکن شرافت بھائی اپنی بات پر قائم رہے۔

خاکسار کی تحقیق کے مطابق فلموں میں گانا نہ گانے کے فیصلے کے بعد بھی اُنہوں نے فلمی لوگوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھے البتہ وہ 1958 میں کراچی منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے کاروبارکر لیا۔ ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کراچی میں بھی ’اے گریڈ‘ گلوکار کی حیثیت سے منسلک ہو گئے۔ وہ 1958 سے 1981 تک ریڈیو پاکستان کراچی سے فعال رہے۔ یہ ریڈیو پاکستان کراچی سے ہفتہ میں دو غزلیں پیش کرتے تھے۔ انہوں نے نعتیں اور مرثیے بھی پڑھے۔

صباحت نے ایک اور دلچسپ بات بتائی: ”عطائی لوگوں میں ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا“۔ یہ الفاظ طبلہ نواز راجہ صاحب کہا کرتے تھے جو موسیقار محبوب اور اشرف صاحبان کے گروپ کے میوزیشن تھے۔ اِس جوڑی کا کمپوز کیا اور محمد ناصرؔ کا لکھاہواگیت: ’ہوا ہوا خوشبو لُٹا دے، کہاں کھلی ہاں کھلی زُلف بتا دے‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ راجہ صاحب کے اس جملے کا پس منظر یہ تھا کہ پاپا ریڈیو پاکستان کراچی میں لائیو یعنی براہِ راست غزلیں سناتے تھے۔ مقررہ وقت سے آدھ گھنٹے قبل اسٹوڈیو میں آتے میوزیشنوں سے کہتے کوئی راگ چھیڑ و۔ بس محدود وقت اور اُس ماحول میں غزلوں کی دھنیں خود تیار کرتے اوراُس کو براہِ راست نشر کرتے ”۔

شرافت بھائی سے خاکسار کی بھی ملاقات رہی۔ جامعہ کراچی میں میرے ساتھ اُن کے ایک صاحبزادے لیاقت علی خان (م) پڑھا کرتے تھے۔ لیاقت کے ہاں کبھی کبھار شرافت بھائی سے ملاقاتیں ہو جایا کرتی تھیں۔ اُن کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا تھا۔ مضبوط ڈیل ڈول، خوش مزاج اور محبت بھرے انسان تھے۔ ہم اُس وقت کم عمر تھے، موسیقی کا شوق تھا، پرانے گانے گاتے بھی تھے، جب کبھی لیاقت کے گھر جاتا اور ان کے والد سے ملاقات ہوتی تو بڑے فنکار کا رعب دل پر طاری ہو جاتامگر مجال ہے کبھی اُنہوں نے کسی روکھے پن یا اپنی بڑائی کا اظہار کیا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے خوشی سے ملتے۔

علی گڑھ، قدرِ مشترک ہونے کی وجہ سے طویل عرصہ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل رہنے والے زیڈاے نظامی سے، جو ایک، بہت قریبی تعلقات تھے لیکن انہوں نے اس تعلق کو کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔ بہت قانع تھے، حالاں کہ نواب جونا گڑھ دلاور خانجی، جو سندھ کے گورنر رہے، اُن کے خاندان سے بھی ان کے گھریلو تعلقات تھے لیکن ان تعلقات کی بنیاد پر میں نے ان میں کوئی پھوں پھاں نہیں دیکھی۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے صباحت نے مجھے بتایا: ”پاپاعلی گڑھ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے ذاکر علی خان، زیڈ اے نظامی، بریگیڈئیر قمر الزماں، اولمپین ہاکی کھلاڑی حسن سردار کے سُسَر ڈی آئی جی کوئٹہ، وغیرہ کے ساتھ شاہین کمپلیکس کے پاس دفتر میں بیٹھا کرتے تھے۔ پاپا کا پیر پگاڑا، گورنر سندھ دلاور خانجی، کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے نظامی اور پی ٹی وی کے ایم ڈی آغا ناصر سے بہت دوستانہ تھا۔ اگر اِن صاحبان میں سے کوئی اِن سے یہ کہتا کہ صاحب کوئی کام ہو تو بتائیے گا تو پاپا برا مان کر وہاں سے ہَٹ جاتے تھے۔ کبھی ہم بہن بھائیوں کے لئے بھی کسی سے سفارش نہیں کی۔ خود میں نے ایک مرتبہ پاپا سے کہا کہ آغا ناصر صاحب سے کہہ کر پی ٹی وی میں ملازمت ہی دلوا دیں لیکن انہوں نے صاف جواب دے دیا“۔

صباحت نے اپنے گانے بجانے کے شوق پر والد کے خیالات کے بارے میں بتایا: ”میں نے جب 1986 میں اپنی نوکری کی پہلی تنخواہ ملنے پر سلیم میوزک کارپوریشن نزد ریڈیو پاکستان سے ہارمونیم خریدا تو پاپا نے مجھے کہا کہ گانے کو شوق تک ہی محدود رکھو کیوں کہ پاکستان میں اس کا مستقبل نہیں۔ 1990 میں موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے موسیقارنثار بزمی صاحب کے پاس گیا۔ پہلے تو انہوں نے سکھانے سے معذرت کر لی۔ جب پاپا کا نام لیا تو رضامند ہو گئے۔

روزانہ ایک گھنٹہ وہاں جاتا تھا۔ پاپا کو بتایا تو انہوں نے کہا: ”اُستاد کی ہم سے بھی زیادہ خدمت اور توقیر کرو“۔ میں نے سال بھر ہی سیکھا کیوں کہ ملازمت کے سلسلے میں اندرونِ سندھ اور پنجاب تبادلے ہو نے لگے۔ پاپا نے ہمیں کبھی گانا نہیں سکھایا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم سی کیمسٹری تھے۔ ہمیں سائنس، ریاضی اور انگلش خود پڑھاتے تھے ”۔

پاپا فلموں کی گلوکاری سے دور ضرورتھے لیکن فلمی دنیا اور شوبز کے لوگوں سے نہیں : ”طارق عزیز کے نیلام گھر میں بطور مہمان شرکت کی۔ اکثر قریش پور کے پروگرام میں نعتیں اور غزلیں پیش کیا کرتے تھے۔ پی ٹی وی کراچی مرکز سے عبید اللہ علیم ؔکی غزل : ’تیرے پیار میں رسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگ، جانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ‘ ، خود کمپوز کر کے پیش کی۔ ایک مرتبہ اپنی صاحبزادی سے ملنے کوئٹہ گئے تو پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز سے بھی غزلوں کے پروگرام ریکارڈ کرائے“۔

جب اُن کی آواز میں فلم وعدہ کا گیت مشہور ہوا تو اُس زمانے میں ٹیلی وژن نہیں تھا۔ صرف ریڈیو یا گراموفون ریکارڈہوتے تھے۔ اخبارات اپنے فلمی ایڈیشن شائع نہیں کر تے تھے۔ فلمی جرائد بھی خال خال تھے لہٰذا بہت سے لوگ ان کو نہیں پہچانتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ مزے لے لے کر بتایا کرتے تھے : ”کئی مرتبہ ایسی محفلوں میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں کوئی اور صاحب بطور ’شرافت علی‘ ، میرا ہی گیت سنا رہے ہوتے“۔ آج بھی اُن محفلوں کے بعض چشم دید گواہ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ شرافت علی نے کبھی اشارتاً بھی اس نا پسندیدہ حرکت کا ذکر نہیں کیا۔

گلو کارشرافت علی خان کے مزا ج کے بارے میں صباحت علی خان نے بتایا۔ : ”گھر والوں اور قریب و دور کے عزیزوں کی نظروں میں یہ شفیق باپ، گھر کو مقدم سمجھنے والے اور معاملات کو سلجھانے والے اور غصہ پر ضبط رکھنے والے تھے۔ لیکن غلط اور ٹیڑھی بات پر غصہ میں آ جا تے تھے۔ میرے سب سے بڑے بھائی سعادت علی خان، پھرلیاقت علی خان، پھر ہمشیرہ، پھر ڈاکٹر وجاہت علی خان، پھر شجاعت علی خان، پھر ہمشیرہ اور آخر میں، میں صباحت علی خان۔ وہ ہم سب بہن بھاؤں سے بہت محبت کرتے تھے۔ پاپا ہم سب بچوں کو تعلیم دلانے کا شوق رکھتے تھے۔ مجھ سے کہتے کہ نوکری چھوڑو اور مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرو۔ “۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کھانا بہت عمدہ اور ذائقہ دار بنا تے تھے۔ اُن کے برادرِ نسبتی، مظہر عالم کا کہنا ہے کہ وہ ہری مرچوں والا قیمہ بہت لاجواب بنا تے تھے۔ طبلہ نوازمحمد عثمان کا کہنا ہے کہ شرافت بھائی کے ہاتھ کا پکا آلو گوشت ذائقے دار ہو تا تھا۔ صباحت کا کہنا ہے : ”جب بھی موڈ ہوتا تو بھُنا ہوا قیمہ بنا تے ’‘ ۔

چوں کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی مشہور شخصیت آغا ناصر سے بھی قریبی تعلق تھا لہٰذا ریڈیو پاکستان میں میوزیشنوں اور دیگر ملازمین کے چھوٹے موٹے مسائل حل کروانے میں ہمیشہ مستعد رہا کرتے۔ اُن کے زمانے کے میوزیشن، ٹکنیشن، اناؤنسر وغیرہ آج بھی اُن کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اس پر اُن کے بیٹے صباحت علی خان نے مجھے بتایا : ”کمپئیر، اناؤنسر اور گلوکار صادق الاسلام کہتے کہ پاپا مجھ سمیت ریڈیو کے ملازمین کے چھوٹے موٹے مسائل حل کرانے میں بے حد مدد کرتے اور ہمارے سر پر ہاتھ رکھنے والے تھے۔ اِن کے گائے ہوئے تین گیت بہت ہی مشہور ہوئے : ’تیرے پیار میں اے دیوانے کہ ہائے ہائے ستا دیا کیوں رُلا دیا کیوں بھلا دیا تو نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ، ’حسین رات ڈھل گئی جوان دن گزر گیا، یہ کیسا انتظار ہے میرا سُکوں کدھر گیا‘ ، ’۔ نینوں کی نگری میں آؤ کبھی تو خوابوں کے نغمے سناؤ‘ ’۔

کہاں گلوکاری کہاں شکار کا شوق وہ بھی شیر کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جی ہاں! انہوں نے 16 سال کی عمر میں چچا کے ہمراہ اپنے پہلے شیر کا شکار کیا۔ ماشاء اللہ دراز قد تھے اور ہاتھ میں شارٹ گن بہت سجتی تھی۔ ہمارے ملک کے مشہور، مستند اور جیّدشکاری، جناب جسیم خان، شرافت بھائی کے دوستوں میں سے ہیں۔ اپنے والد کے شکار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صباحت علی خان نے کہا: ”بغل میں 12 بُوربندوق رکھ کر اُڑتے ہوئے تیتر مارتے تھے۔ 1970 میں میں سُرجانی میں چھروں سے دس پندرہ پرندے ایک ساتھ گرتے ہوئے میں نے خود دیکھے۔ جب میں اُن کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا۔ اُس وقت وہاں ندیوں میں بڑی تعداد میں مرغابیاں بھی پائی جاتی تھیں“۔ شکار کے حوالے سے صباحت علی خان نے ایک دلچسپ واقعہ سُنایا:

” 1940 میں والد صاحب اپنے چچا کے ساتھ شیر کا شکارکر چکے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد رامپور کے جنگلات کے قریب کی بستی میں ایک پاگل ہاتھی آ گیا۔ آئے روز مال مویشیوں کی ہلاکت اور بستی والوں کی املاک کے نقصان کی خبریں آ نے لگیں۔ ماہر شکاریوں کی خدمات مستعار لی گئیں لیکن وہ ہاتھی تھا یا چھلاوہ! ایک جھلک دکھا کر غائب ہو جا تا اور شکاری گولی چلانے کی حسرت دل میں لئے ہی واپسی کی راہ لیتے۔ اب تو اُس پاگل ہاتھی نے دو انسان بھی مار ڈالے۔ بات رامپور تک پھیل گئی۔ اُس وقت وہاں موجود مستند اور تجربہ کار شکاریوں کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس میں والد صاحب اور اُن کے چچا بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ لوگ اُس جگہ کے قریب پہنچے جہاں یہ موذی آخری مرتبہ دیکھا گیا۔ شکار کے دستور کے مطابق پہرے کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ رات کے کسی پہر والد صاحب کی ڈیوٹی شروع ہوئی۔ اُن کی طبیعت تجسس پسند تھی۔

وہ چوکنّے بیٹھے تھے کہ اُنہیں آس پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اور پھر اُس پاگل ہاتھی کی ایک جھلک بھی نظر آئی۔ اِس سے پہلے ہاتھی ہمیشہ اپنی جھلک دکھا کر غائب ہو جاتا تھا۔ والد صاحب ہاتھی کو غائب ہونے کا موقع دینا نہیں چاہتے تھے۔ اُنہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اپنی کمین گاہ سے باہر نکلے اور گولی داغ دی۔ دھائیں! فائر کی آواز سے ٹیم کے باقی ممبران اُٹھ بیٹھے۔ والد صاحب نے بتایا کہ اُنہوں نے ہاتھی کو گولی ماری ہے۔

کسی نے بھی والد صاحب کی بات کا یقین نہیں کیا کیوں کہ گولی کی آواز کے بعد جنگل میں بالکل سنّاٹا چھا گیا تھا۔ والد صاحب کے کہنے کے باوجود کوئی تفتیش کرنے آگے نہ بڑھا اور یہ کہہ کر سو گئے کہ صبح دیکھیں گے۔ صبح اُٹھ کر ’حقیقت‘ کی تلاش شروع ہوئی۔ کچھ دور ہی گئی ہوں گے کہ وہی موذی ہاتھی مر ا ہوا نظر آیا ”۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *