بی بی شہید تیرا مشن جاری رہے گا


شعرائی، ادیبوں نے ہمیشہ دسمبر کے مہینے کو ظالم اور جدائی کے مہینے سے تشبیہ دی، کالج، یونیورسٹی کی زندگی میں شعراءاور ادیبوں کی یہ منطق سمجھ نہیں آتی ہے کہ سال کے باقی گیارہ ماہ بھی تو ہیں جس میں بھی کوئی جدا ہوسکتا ہے پھر دسمبر ہی کیوں؟ پھر میری زندگی میں دسمبر نے اپنا آپ دکھایا اور ثابت کیا کہ دسمبر واقعی بہت ظالم اور زندگی کی عزیز ترین چیزیں چھننے والا ہے۔ 12 دسمبر 2000 ءمیں میری سب بڑی بہن عترت 38 سال کی عمر میں کینسر کے باعث 4 چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر ہم سے جدا ہوگئیں اور پھر صرف سات سال بعد بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 ءمیں شہید کردیا گیا۔ ان دو واقعات کے بعد جب بھی دسمبر شروع ہوتی ہے، دل اداس رہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسا جسم کا کوئی حصہ جدا ہوگیا ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو سے عشق چھوٹی عمر میں ہی شروع ہوگیا تھا جب 1976۔ 77 ءمیں وہ صادق آباد جلسہ کرنے آئے، عمر شاید سات آٹھ سال ہوگی، سٹیج کا انتظام والد مرحوم اعجاز حسین کاظمی کے پاس تھا، میں نے ضد کی کہ جلسہ دیکھنا ہے، میری جانے بلا کون ذوالفقار علی بھٹو ہے، بس شہر میں بینر لگے تھے، بھٹو کی تصاویر آویزاں تھیں، تجسس تھا کہ یہ جلسہ کیا ہوتا ہے۔

والد صاحب نے پوچھا بھٹو کو دیکھنا ہے تو جواب دیا بھٹو کون ہے میں نے تو جلسہ دیکھنا ہے، والد صاحب نے منور بھائی کی ڈیوٹی لگائی کہ جلسہ سے دو گھنٹے پہلے اسے لے کر آجانا، ہم جلسہ گاہ پہنچے، والد صاحب نے مجھے سٹیج کے ایک کونے میں بٹھا دیا اور سختی سے ہدایت کی کہ یہاں سے ہلنا نہیں، جلسہ گاہ بھر چکا تھا، زندگی میں اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے پھر گھبراہٹ شرو ع ہوگئی یہ کہاں آگیا ہوں، اتنے لوگ کیوں آئے ہیں۔

پھر ذالفقار علی بھٹو جلسہ گاہ میں داخل ہوئے، نعروں کی گونج آج بھی کانوں میں گونجتی تھی، عوام اپنے لیڈر سے اتنا پیار کرتے ہیں یہ پہلی بار دیکھا تھا، والد صاحب نے ایرانی قالین اور جس کرسی پر بھٹو صاحب نے بیٹھنا تھا اس کا کشن گھر سے لے کر گئے تھے، والدہ صاحبہ نے آج تک وہ قالین سنبھال کررکھا ہے کہ یہ قالین بھٹو صاحب کے قدموں میں بچھا تھا اور اس کشن پر وہ بیٹھے تھے۔ خیر جلسہ شروع ہوا، حققی معنوں میں عوام کا سونامی وہاں دیکھا، جس میں عوام خود آئے لائے نہیں گئے تھے۔

بھٹو صاحب نے پیرٹ گرین کلر کا سفاری سوٹ اور اسی رنگ کی پی کیپ پہنی ہوئی تھی، جب خطاب شروع ہوا تو بھٹو صاحب کا سحر مجھ پر طاری ہونا شروع ہوا جو آج تک اسی طرح برقرا رہے، وقت کے ساتھ یہ عشق جنون میں بدل گیا پھر ملک پر ضیائی آمریت مسلط ہوگئی، جیالوں نے جمہوریت کے لئے مظالم برداشت کیے، اللہ بے نظیر بھٹو جیسی اولاد سب کو عطاکرے، شہزادیوں کی جیسی زندگی گزارنے والی بے نظیر بھٹو نے جو مصائب دیکھے اور برداشت کیے اس پر مظالم بھی شرماگئے، فوجی مارشل لاءاور ضیاءالحق جیسے احسان فراموش اور یزیدی سوچ کے پیروکار نے بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو دکھ دینے میں کیا کسر چھوڑی مگر ہمت ہے ان دونوں نہتی مگر بہادر خواتین پر جنہوں نے آمریت کا بھرپور مقابلہ کیا اور جیالوں کو تنہا نہ چھوڑا۔

بے نظیر نے عوام کے لئے جو جنگ لڑی آج ہم سب اس کا ثمر کھارہے ہیں، نئے پاکستان کی بنیاد تو بے نظیر بھٹو نے 1986 ءمیں پاکستان واپس آکر رکھ دی تھی اگر اس وقت بی بی شہید آمریت کے خلاف کھڑی نہ ہوتیں تو ملک میں جمہوریت کا نام و نشان ہمیشہ کے لئے مٹ جاتا۔

بے شک اللہ بہترین عدل کرنے والا، بی بی شہید کی جدوجہد رنگ لائی اور ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگیا مگربی بی شہید کے لئے دکھ ختم نہ ہوئے بلکہ دکھوں کا ایک نیا دور شروع ہورہا تھا، ضیاءالحق نے جو بیج بوئے تھے وہ تنآور درخت بن چکے تھے، ان کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی ان کو سکھ نہ مل سکا۔ ضیاءالحق کے ”لے پالک“ بیٹے نواز شریف نے بی بی شہید کو ہر طرح سے اذیت دی، باپ کا سایہ چھن چکا تھا، بھائی بھی ماردیئے گئے، ایک خاوند کاساتھ تھا اس کو بھی جیل میں گیارہ سال رکھا گیا۔

ان مصائب کا جس طرح بے نظیر بھٹو نے استقامت اور بہادری سے سامنا کیا اس کی نظیر نہیں ملتی، ان کی عظمت کو سلام کہ جب مشرف کی آمریت نے نواز شریف کو بے بس اور تنہا کردیاتھا اس وقت بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کا ساتھ دیا اور ان کی سیاست کو نئی زندگی بخشی جس کی وجہ سے وہ ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھ سکے۔

بے نظیر چارو ں صوبوں کی واقعی زنجیر تھی، بے قصور بھی تھی، عوام کی امید تھی، عوام کے لئے روشنی کی کرن تھی، مگر انہیں ملک دشمن کہا گیا پھر بی بی شہید نے اپنے خون سے وطن اور عوام سے محبت کی گواہی دی مگر جس کے منہ کو خون لگ جائے اسے کہاں چین آتا ہے۔

بی بی شہید کا مشن جاری ہے، بی بی شہید آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں، بھٹو کا مشن جس طرح انہوں نے آگے بڑھایا اس مشن کو جاری رکھا جائے گا۔ جمہوریت کے استحکام کی جنگ جاری رہے گی، تم کتنے بھٹو مارو گے۔ ۔ اب راج کرے گی خلق خدا جس میں کسی سیلیٹکڈ کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

Facebook Comments HS