ذوالفقار بھٹو جونیئر یا بدھا کا نیا جنم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن 2017 میں حیدرآباد بس اسٹاپ پر ایک نوجوان اپنے دو غیرملکی دوستوں کے ساتھ بھٹائی کے عرس میں شریک ہونے کے لیے بس کا انتظار کر رہا تھا۔ تینوں کے کاندھوں پر اسپورٹس بیگ لٹک رہے تھے۔ بہت شستہ انگریزی میں وہ نوجوان اپنے دوستوں کو انڈس تہذیب کے بارے میں بتا رہا تھا کہ جس کا یہ حیدرآباد شہر انگریزوں کے زمانے سے بھی پہلے کئی بار جنگوں کو دیکھ چکا ہے جس کے تنگ مکانات کے اوپر چھتوں میں ہوا کا ایسا سرشتہ رکھا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی بھی مات کھا جائے۔

یہ تینوں نوجوان کراچی سے حیدرآباد آنے والی لوکل گاڑی سے اترے تھے۔ میزبان نوجوان کا چہرہ بہت وجیہ تھا، اتنا وجیہ کہ ہر گزرنے والا ایک پل اسے دوسری بار دیکھنے کے لیے اپنا سر موڑ لیتا تھا۔ پاس سے گزرنے والے راہگیروں کو یہ پتہ دوسرے دن چھپنے والی اخباروں سے چلا کہ وہ خوبصورت نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں نئی روح پھونکنے والے مہا لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا پوتا اور پاکستانی چی گویرا میر مرتضیٰ بھٹو کا بیٹا تھا۔

سن 1990 میں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا وہ بچہ جس کا نام اپنے دادا کی نسبت ”ذوالفقار علی“ رکھا گیا تھا، کیا جانتا تھا کہ ”عزت جو بڑی تھی تو مصیبت بھی بڑی تھی“ کے مصداق، وجودیت کا وہ سوال بن کر اٹھے گا کہ پوری دنیا حیران ہوجائے گی۔

آپ ذرا دو پل کے لیے اپنے وجود سے منحرف ہوکر اس نوجوان کی روح کو سمجھئیے کہ جس کا دادا ریاستی قتل کا شکا ہو، جس کا چچا پیرس میں زہر دے کر قتل کیا گیا ہو، جس کا باپ کلفٹن کے پر سکون روڈ پر پولیس کی گولیوں سے شکار ہو کر قتل کیا گیا ہو، جس کی پوپھی راولپنڈی میں ہزاروں کی بھیڑ میں گولیوں کا شکار ہو گئی ہو، کہ جس کے قتل پر پوری دنیا ماتم کرتی رہ گئی ہو، اور جس کے خاندان کے تمام ناموں پر جیسے وقت کے سفاک قاتلوں نے مونچھیں مروڑ کر اپنے نام لکھے ہوں، وہ نوجوان اپنے وجود میں فنونِ لطیفہ کی نرمی لے کر اگر پیدا ہوا ہو تو وہ کیا محسوس کرتا ہوگا؟

اب تھوڑا اور طرح سے سوچیں کہ وہ بھی اگر چاہتا تو پاکستانی کوروکشیتر میں اپنی مہا بھارت لڑنے کے لیے اتر پڑتا، لیکن اس کے دل میں راج سنگھاسن پانے کا کوئی بھی خیال نہیں آیا۔ ”یہ سب فانی ہے، آپ چاہیں تو تمام حیلے استعمال کرکے کچھ بھی پا سکتے ہیں، سکندر نے بھی آدھی دھرتی پر راج پا لیا تھا، لیکن پھر کیا؟ “ وہ انتہائی نازک اور دھیمے لہجے میں انٹرویو لینے والی کو حیران کرتا جا رہا تھا: ”زندگی ہے کیا؟ کبھی آپ خود سے پوچھ لیں، جواب کیا ملے گا؟

وہ ہی جو آپ کو میڈیا، کتابوں، ملا مولوی لوگوں سے پرائے تجربوں والی باتوں سے ملتا ہوگا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو پرائی زندگیوں کی باتیں ہیں، آپ کی اپنی زندگی، جس سے آپ اوروں کے قلب کا درد محسوس کر سکیں، کہ جس درد کی وجہ سے ان آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کا نمک محسوس کریں اور آپ چلا اٹھیں، کہ تو سب درد ہے۔ اور اسی درد سے پھر آپ اپنے سوالوں کے جواب پانے کی کوشش کریں۔ ”

وہ بولتا جا رہا تھا اور سنہرے بالوں والی وہ ڈینش لڑکی جو یہ جاننا چاہتی تھی کہ پاکستان کے طاقتور وزیرِ اعلیٰ جس نے ایک جملے میں آمریکی صدر کینیڈی کو چت کر دیا تھا، اس کا پوتا آخر یہ جپسی زندگی کیوں گزار رہا ہے۔

اس لڑکی نے جب ذوالفقار بھٹو جونیئر کا وہ انٹرویو ترتیب دیا تب اس نے اس کا تعارف ہی اس جملے سے کیا کہ میں نے بدھا کو تو نہیں دیکھا ہاں مگر ذوالفقار کو آج دیکھا ہے، اور اس سے ملنے کے بعد اب مجھے بدھا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

کئی ماہ پہلے حیدر علی ایئرپورٹ باکو میں اس اطالوی رپورٹر کی وہ بات بھی میرے ذہن سے معدوم نہیں ہوتی کہ جس میں اس نے کہا تھا: ”کمال ہے، شہید بھٹو کا نواسا ملک میں جمہوریت کے استحکام کی جنگ لڑ رہا ہے تو اس کا پوتا پوری دنیا کو سندھو تہذیب کے اس چہرے کو دکھا رہا کہ جس نے پوری دنیا کو علوم کے خزانے عطا کیے تھے، کہ جسے قریبی مغرب نے اس کی شناخت کو برباد کر دیا تھا۔ “

اور میں چشمِ زدن سے ذوالفقار بھٹو جونیئر کی اس ادا میں محوِ حیرت ہوں جس میں وہ کارپوریٹ کی گلی سڑی گلیوں میں سندھو تہذیب کا صوفی ناچ دکھا کر اس تہذیب کے گیتوں کی مالا جپتا رہتا ہے۔ کہ جن گلیوں کے لیے ول ڈیورانٹ نے کیا خوب کہا تھا کہ جب مغرب فیکٹریوں کے دھویں سے اپنا چہرہ کالا کر چکا ہوگا تب اسے مشرق کا ویدانتی تصوف منہ دھلانے آگے آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply