احتساب کا متنازعہ عمل
پاکستان میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ سیاسی یا فوجی حکومتوں میں احتساب کے عمل کو سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیاسی یا فوجی دور میں اول تو کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا احتساب ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی یہ عمل سیاسی و قانونی نظام میں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکا۔ ماضی میں نیب کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت میں ایک نئے شفاف احتسابی نظام قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر دونوں جماعتوں کو اقتدار تو ملا مگر وہ سیاسی مصلحتوں یا سیاسی سمجھوتوں کے باعث احتساب کا شفاف نظام قائم نہیں کرسکے۔
اس وقت بھی ملک میں احتساب کی گونج بالادست نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا بنیادی نکتہ کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کے خلاف کڑا احتساب کا تھا۔ اس احتساب کو ممکن بنانے کے لیے یقینی طور پر ان کی توجہ کا مرکز قومی احتساب بیورویعنی نیب تھا۔ اس نیب پر ہم بہت زیادہ تنقید سنتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت میں حزب اختلاف کی جانب سے حکومت، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور نیب کے گٹھ جوڑ کا الزام بھی سننے کو ملتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں حزب اختلاف احتساب کے عمل کو ایک بڑے سیاسی انتقام کے طور پر پیش کرکے اپنا بیانیہ بیان کرتی ہے۔
اس وقت ہمیں احتساب کے تناظر میں چار بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اول نیب کی خود مختاری سے جڑے سوالات، ساکھ اور بے لاگ یا شفاف احتساب کا فقدان، دوئم احتسا ب میں ساری توجہ کا مرکز حکومت کے سیاسی مخالفین ہیں اور حکومت سے جڑے افراد کے بارے میں اختیار کی جانے والی نرم پالیسی، سوئم تفتیش اور تحقیقات کے نظام میں بے پناہ مسائل اور تاخیری حربے یا لوگوں کو لمبے عرصے تک زیر حراست رکھنا اور مقدمات بنا کر عدالتوں میں نہ پیش کرنا، چہارم نیب پر سیاسی گٹھ جوڑ کا الزام یا آلہ کار کے طور پر کام کرنا۔
اگرچہ چیرمین نیب کے بقول وہ خود مختاری بھی رکھتے ہیں اور احتساب کا عمل شفافیت اور بغیر کسی تفریق کے آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ نیب کیا کررہا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں نیب کی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں جو اس کی سیاسی و قانونی ساکھ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایک عمومی تصور یہ ابھر رہا ہے کہ اس ملک میں اگرچہ طاقت ور لوگوں کو کسی نہ کسی شکل میں قانونی شکنجہ میں لایا گیا مگر ان کا احتساب کا عمل بہت سی قانونی پیچیدگیوں یا سیاسی سمجھوتوں کے باعث مسائل کا شکار ہے۔
نیب کی حراست میں بہت سے سیاسی لوگوں کا بار بار ریمانڈ لینا اور ان کے خلاف مقدمات کا نہ بننا بھی ان کے خلاف قائم الزامات کو بھی مشکوک بنا رہا ہے۔ لوگ یہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اگر زیر حراست ملزمان مجرم ہیں تو ان کے خلاف تاخیرکیونکر کی جارہی ہے اور کیا وجہ ہے کہ یہ گرفتار افراد کے بارے میں بے گناہی کا تصور ابھر رہا ہے۔
خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق، رانا ثنا اللہ، شاہد خاقان عباسی، مفتاع اسماعیل، خورشید شاہ سمیت کئی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی یا انتظامی افراد کے خلاف ابھی تک نیب کی جانب سے کچھ بھی ثابت نہ کرنا بلاوجہ سیاسی انتقام کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عمل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ نیب پوری تیاری کے بغیر لوگوں کو گرفتار کرتی ہے اور بعد ازاں اس میں تاخیری معاملات مقدمہ کو سیاسی رنگ دینے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت سے جڑے افراد جن پر مختلف نوعیت کے الزامات ہیں ان کو قانون کے شکنجے میں لانے میں کیا سیاسی مصلحتیں جڑی ہوئی ہیں۔ اگرچہ چیرمین نیب کے بقول احتساب سب کا ہوگا مگر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ہوتا ہوا ابھی نظر نہیں آرہا جو پورے احتساب کے عمل کو خراب کرتا ہے۔
نیب کو سمجھنا ہوگا کہ جو بھی کرپٹ اور بدعنوان لوگ ہوں گے وہ خود سے تو کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ وہ کرپٹ ہیں۔ یقینی طور پر وہ خود کو کرپشن یا بدعنوانی سے بچانے کے لیے سیاسی اور جمہوریت کو ڈھال بناتے ہیں۔ یہ کھیل نیا نہیں. ہماری تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی ڈھال کو بنا کر ہی اس ملک میں احتساب کا عمل ممکن نہیں ہوسکا۔ اس کا تدراک اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ اول نیب پوری تیاری اور شفافیت کے ساتھ لوگوں پر ہاتھ ڈالے اور یہ عمل بے لاگ ہو تاکہ اس کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ جتنا زیادہ نیب کے معاملات میں عدم شفافیت ہوگی یا ان کے معاملات میں سست روی یا تاخیری مسائل ہوں گے تو اس کا براہ راست فائدہ ان افراد کو ہوتا ہے جو سیاسی کارڈ کھیل کر خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں۔
یہ جو کئی کئی ماہ تک نیب کی زیر حراست ملزموں کو ضمانتیں مل رہی ہیں اور یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ نیب اتنے لمبے وقت کے باوجود ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کرسکا وہ واقعی ایک بڑی ناکامی کہ زمرے میں آتا ہے۔ نیب کو اب تک کے تجربات کی بنیا پر اپنے احتساب کے عمل میں جو مسائل درپیش ہیں یا ان پر جو بڑی تنقید ہورہی ہے اس پر موثر حکمت عملی بنانی ہوگی۔ کیونکہ سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں سیاست کا ہتھیار ہوتا ہے اور ان کو اپنا موقف پیش کرنے کے بہت سے مواقع بھی ملتے ہیں تو وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے قانونی مقدمہ کو سیاسی رنگ میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح نیب کو اسی تاثر کو بھی ختم کرنا ہے کہ وہ حکومتی ایما پر حکومتی لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہے یا حکومت اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے نیب پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اگرچہ نیب کا دعوی ہے کہ اس نے چند برسوں میں کرپٹ لوگوں سے مختلف بارگین کی صورت میں مالی ریکوری کرکے سرکاری خزانہ میں جمع کروائی ہے۔ یقینی طور پر اس دعوی میں حقیقت بھی ہوگی مگر اہل سیاست کے محاذ پر یا بڑے لوگوں کے خلاف معاملات میں کوئی بڑ ی خبر سامنے نہیں آسکی۔ یقینی طور پر وائٹ کالر جرائم کو ثابت کرنے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب ہمارا پورا احتساب کا نظام اپنے اندر قانونی تناظر میں شفافیت قائم کرسکے گا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی سے جڑی سیاست نے ہماری مجموعی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ یہ فکری بحث بھی بے معنی ہے کہ آج کے دور میں کرپشن ایک جڑا ہوا نظام ہے۔ اسی طرح کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا باہمی گٹھ جوڑ بھی ہے اور سب فریقین مل کر اپنے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اتحاد بنا کر احتساب کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ سیاست، قانون، انتظامیہ، کاروباری طبقہ، میڈیا، سرمایہ دار اور اسٹیبلیشمنٹ سے جڑے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کڑا احتساب کا عمل ان کے مفاد کے خلاف ہے۔
بدقسمتی سے اس ملک میں اگرچہ وزیر اعظم عمران خان کرپشن کے خاتمہ یا کڑے احتساب کی بات تو کرتے ہیں مگر ان کے سامنے یا تو قانونی پیچیدگیاں ہیں یا وہ بھی اپنی کمزور حکومت کی وجہ سے سمجھوتے کا شکار ہیں۔ اسی طرح اس ملک میں رائے عامہ بنانے والے افراد یا عوامی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی کے تناظر میں کڑے احتساب کی بات تو ہوتی ہے، مگر یہ عمل ایک بڑی سماجی تحریک اور کرپٹ لوگوں کے خلاف کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکا۔ یہاں کرپٹ لوگوں کو بنیاد بنا کر سیاسی جواز پیش کیا جاتا ہے کہ یہ عمل جمہوریت کے خلاف سازش ہے اور سیاست دانوں کا راستہ روکا یا ان کو بدنام کرنا مقصد ہے۔
اصولی طور پر تو موجودہ دور کے احتساب کے عمل کو ماضی کے سیاسی احتساب سے مختلف ہونا چاہیے تھا۔ حکومت، نیب اور عدالتیں ثابت کرتی کہ واقعی ملک میں شفافیت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے احتساب کے عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس عمل میں حزب اختلاف بھی پیش پیش ہوتی اور ایسے لوگوں کی حمایت سے گریز کیا جاتا جو کرپشن کی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی تک ماضی سے جڑے احتساب کے عمل سے باہر نہیں نکل سکے۔
ہم اب بھی وہی غلطیاں دہرارہے ہیں جو کھیل احتساب کے نام پر ہم ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ احتساب کے عمل کو غیر متنازعہ بنانے کے لیے حکومت، نیب اور عدلیہ سمیت دیگر اداروں کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ہنگامی بنیادو ں پر ایک ایسی حکمت عملی کی جانب بڑھنا ہوگا تو شفاف احتساب کے عمل کو ممکن بناسکے۔


