جامعہ ملیہ اور جامعہ علی گڑھ کے جیالے طلبہ و طالبات کو سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جامعہ کے طلباء و طالبات نے جب ملک کے آئین اور جمہوریت مخالف طاغوتی حکمرانوں کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا تو اُنھیں اس بات کا بخوبی اندازہ رہا ہوگا کہ یہ لڑائی ایک طویل معرکہ آرائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اُنھیں اس بات کا خدشہ بھی یقیناً رہا ہوگا کہ پولیس کے ذریعہ بربریت اور سفاکی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ے جا سکتے ہیں اور بزور طاقت اُن کے حوصلے کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جا سکتی ہے۔ اُنھیں اپنے کریئر اور مستقبل کی فکر بھی دامن گیر ہوئی ہوگی اور اپنے والدین کی وہ نصیحتیں بھی یاد آئی ہوں گی جو اُنھوں نے اپنے بچوں کو جامعہ روانہ کرتے ہوئے کی ہوں گی۔

اُنھیں اپنے والدین کی مالی تنگیوں کا بھی خیال آیا ہوگا کہ کس بے سروسامانی کے عالم میں والدین نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اُنھیں ملک کے بہترین ادارے میں اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ لیکن ان تمام خدشات اور تحفظات کے باوجود کسی چیز نے اگر اُنھیں ظالم اور جابر حکمرانوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کاحوصلہ دیا تھا تو وہ جامعہ کی آزاد اور انقلابی فضا کا کمال تھا، یہ اسی ”مکتب کی کرامت“ تھی جس نے انھیں فکر ونظر کی آزادی فراہم کی تھی، جس نے انھیں نا انصافی، تعصب اور تنگ نظری کے خلاف لڑنا سکھا یا تھا، جہاں کی مٹی انسانی غلامی اور عصبیت کو قبول کرنے کو تیار نہ تھی، جہاں کے درو دیوار انسانی اخوت، رواداری اور بھائی چارگی کی گواہی دیتے تھے اور جہاں اسلامی تہذیب و تمدن کی خوشگوار ہوائیں وطن دوستی اور جذبہ قومیت کا پیام سناتی تھیں اور جہاں کی تاریخ بے مثال قربانیوں سے بھری پڑی تھی۔

ایسے حالات میں اگر آئین کی روح پر ضرب کی جارہی تھی تو بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ جس ادارے کی بنیاد برطانوی سامراج کی معاونت سے چل رہے تعلیمی ادارے سے بغاوت کے نتیجے میں عمل میں آئی تھی اس ادارے کے نگہبان اور فرزندان ایک متعصبانہ اور غیر آئینی قانون کو تسلیم کرلیتے۔ جامعہ اپنے وجود کے 100 ویں سال میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ ایک انتہائی حوصلہ افزا اور خوش آئند بات ہے کہ اس طویل عرصے میں تمام نشیب وفراز اور طوفان و حوداث کا مقابلہ کرتے ہوئے جامعہ آج بھی اپنے بانیان کے اُنھیں نظریات اور اصولوں پر قائم ہے اور اس پر پوری قوم اور پوری جامعہ برادری کوبجا طور پر اس پر فخر کرنا چاہیے۔

یہ بات اہل جامعہ کے لیے بہت خوش آئند ہے کہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کی سنگینی اور حکومت کے خطرناک منصوبے کا ادراک سب سے پہلے جامعہ کے طلباء و طالبا ت کو ہوا۔ جب پورے ملک پر سکتہ طاری تھا، حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں مصلحت پسندی کا شکار تھیں، مسلم تنظیموں اور بڑے بڑے جُبہ و دستار والے ’حضرت‘ ’مولانا‘ کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ا ور بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اُمت کو صبر اور اور قنوت ِ نازلہ کا اہتمام کر نے کی تلقین کرنے والے مراقبے میں تھے، تب جامعہ سے جیالے نکلے، ٹھیک اُسی طرح جیسے اب سے سو سال پہلے جوہر، ذاکر، اجمل اور مختار کی شکل میں علی گڑھ سے نکلے تھے۔

ہاتھوں میں بغاوت کا علم تھا، آنکھوں میں بلا کی خود اعتمادی تھی، فرعون وقت سے ٹکرانے کا موسوی منصوبہ تھا۔ اور پھر وقت نے دیکھا کہ جامعہ کے طالب علموں کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک نے پورے ملک میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ کیمرے کی آنکھوں نے طالب علموں کی جرائت اور سرفروشی کے ایسے ایسے تاریخ ساز مناظر قید کیے جس نے پور ی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ خصوصاً جامعہ کی طالبات نے جس غیر معمولی شجاعت اور غیرت کا مظاہرہ کیا اُ س میں ملک کی دبی کچلی صنف نازک کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام تھا۔

پیغام تھا فرسودہ معاشرے کے لیے بھی جس نے نصف آبادی کو گھر کی چہار دیواریوں میں قید کر بے ضرر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ناقص العقل قرار دی جانے والیوں نے اچھے اچھوں کی عقل ٹھکانے لگا دی اور راتوں رات دنیا بھر میں حقوق نسواں اور اور ویمن امپاورمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں اور کارکُنان کے لیے یہ رول موڈل بن گئیں۔ مظاہروں کی صف اول سے قیادت کرتی، فلک شگاف نعرے لگاتی، پولیس کے جوانوں کو للکارتی اور پولیس کے وحشیانہ حملوں کا شکار طلباء کے گرد گھیرا بنا کر اُن پر شیرنیوں کی طرح جھپٹتی اُن کی تصاویر اور وڈیوز جب وائرل ہوئیں تو اُن سے حوصلہ پاکر بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں۔

جامعہ میں پولیس بربریت کے خلاف علی گڑھ میں طلباء کا ردعمل بھی انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ اگرچہ پولیس نے یہاں بھی اُسی سفاکی کا مظاہرہ کیا لیکن طالب علموں نے پولیس بربریت کا سامنا بڑے عزم و استقلال سے کیا۔ اُتر پردیش کے مختلف شہروں میں پولیس نے بربریت کی انتہا کردی اور کئی معصوم لوگوں کو شہید کر دیا۔

جامعہ کے طالب علموں کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک اب ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دنیا کی مختلف شہروں میں جامعہ اور علی گڑھ سے اظہار یکجہتی میں اور متنازعہ بل کے خلاف مظاہر ے ہو رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس آئین مخالف اور انسان مخالف قانون کو خصوصی توجہ دی ہے۔ ملک کی سیکولر سول سوسائٹی اور امن پسند شہریوں نے جس طرح اس کالے قانون کی مخالفت میں تاریخی مظاہرے کیے ہیں اُس نے حکومت کے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے ناپاک منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ میں طاقت کا بے جا استعمال کر کے اور مظاہرین کی املاک کو ضبط کر کے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا آخری حربہ استعمال کررہی ہے۔

یہ تحریک اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچے گی اور حکومت اس کالے قانون میں مذہب کی شق ہٹانے پر مجبور ہوگی، گو کہ اس میں تھوڑ ا وقت لگ سکتا ہے۔ ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمیں اُن قربانیوں کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دینا ہے جو ظالم حکمرانوں کے تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ اس ملک میں ہمارے وجود اور وقار کی آخری لڑائی ہوسکتی ہے، ہمیں اس لڑائی کو ہر حال میں جیتنا ہی ہوگا۔ ہم میں سے ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس تحریک کو اپنے استطاعت سے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کرے۔

یہ وقت گھر میں بیٹھ کر تبصرہ کرنے کا نہیں ہے۔ اپنے گھروں سے باہر نکلیے۔ اپنے گھروں کی خواتین کو بھی اس مہم کا حصہ بنایئے۔ اپنے آس پڑوس کے لوگوں میں اس قانون کے تعلق سے بیداری پیدا کیجیے۔ جن والدین نے جامعہ یا علی گڑھ میں اپنے بچوں کو تحریک کا حصہ بننے سے روکے رکھا ہے اُن سے گزارش ہے کہ آپ ان دانش گاہوں کی تاریخ ضرور پڑھیں۔ یہ ادارے محض ڈگریوں کی تقسیم کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔ ان اداروں کو ملک و قوم کی رہنمائی کرنی ہے۔ اپنے بچوں کو بزدل مت بنائیے۔ اُن بچوں کی آنکھوں میں دیکھئے جو تمام صعوبتیں برداشت کررہے ہیں لیکن محاز پر ڈٹے ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کی لڑائی لڑ رہے ہیں، خدار ا اُنھیں لڑنے دیجیے۔

جامعہ تحریک کے ساتھیوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تاریخ سازی کی مہم پر ہیں۔ بانیان جامعہ کی روحیں آپ کی اداؤں پررشک کر رہی ہوں گی۔ پوری قوم آپ کی جانب بڑی اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ اپنی قیادت سے محروم و مایوس وہ آپ میں مستقبل کی قیادت تلاش رہے ہیں۔ آپ کی تھوڑی اور استقامت اور ثابت قدمی ملک کو خانہ جنگی اور انتشار سے بچا سکتی ہے۔ فیض کی یہ نظم آ پ کی تحریک کو مزید حوصلہ دے گی۔

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں

فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply