میں اب جھوٹ نہیں بولتا (افسانہ)۔
مجھے ایک بار تو تو ہنسی آئی۔
پھر منگی کی زمین کے سہارے ہی ساری عمر چھلانگیں لگاتا رہا۔ لیکن بھائی جی! یہ خودکشی کر لینے والی بات تھی میرے لئے۔ لیکن جب مجھے لوگوں کی باتیں یاد آتیں تو میرے اندر ٹیس سی اٹھتی۔ میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں نا ثابت سالم۔ میرے دو ناک ہیں یا چار کان، یا پھر آپ کی چار آنکھیں ہیں۔ رب نے سب کو ایک جیسا ہی بنایا ہے۔ میں پڑھا لکھا عزت دار آدمی ہوں لیکن آپ نے بھی آخر میں یہی کہنا ہے کہ بس اپنی ہانکی جا رہا ہے۔ یہ تو طعنے کی طرح طعنہ لگتا ہے مجھے۔
کبھی بڑی ذات والے کو اس کی ذات کا نام لے کر کسی نے بلایا ہے۔ کبھی کسی نے اس کی ذات کا نام لے کر اسے گالی دی ہے۔ اس کے لیے اس کی ذات طعنہ نہیں ہوتی۔ فرق تو ہمارے جیسوں کو پڑتا ہے جو ’جاتی واد‘ کا شکار ہیں۔ سکول میں ساتھی لڑکے پتا ہے کیا کہتے تھے؟
کہتے تھے، ”تم سے چمڑے کی بو آتی ہے۔ تیرا باپو مرے ہوئے جانور کیوں ڈھوتا ہے۔ گندے تم۔ تم لوگ گوشت کھاتے ہو؟
بتائیں کیا جواب دیتا میں۔ جو پھنے خاں ماسٹر تھا نا سکول میں، پتا ہے کیا کہتا تھا، ”تم نے کیا لینا ہے اوئے پڑھ کر۔ کیوں مغز خراب کرتے ہو اپنا۔ اپنے باپو کے ساتھ کام کیا کر۔ ۔ ۔ “
لو، مجھے کیا ضرورت تھی۔ میں نے ڈٹ کر پڑھائی کی۔ میں نے تو پی ایچ ڈی بھی کرنی تھی، لیکن میرا گائیڈ۔ گائیڈ کی بھی سن لیں۔ بیس دنوں تک تو اس نے میری بھمبھیری ہی گھما دی۔ چکی سے آٹا لے آؤ، بچوں کو سکول چھوڑ آؤ، یہ کرو، وہ کرو۔ میں کام کیے جاتا۔ پھر ایک دن آپ جیسے ایک نیک بندے نے بتایا کہ یہ تو صرف جٹوں کے لڑکوں کو ہی پی ایچ ڈی کرواتا ہے۔ تم سے تو صرف کام ہی کروائے گا۔ ’غیر جٹ‘ کو تو یہ زمین کا بوجھ سمجھتا ہے۔ میں نے کہا چھوڑ پرے۔ یہ سکندر بھی پھنے خاں ہی ہے۔ کیا فائدہ، اگر پڑھ لکھ کر یہ سیانا نہیں بن پایا تو اس کی کروائی ہوئی پی آئی ڈی سی میں نے کون سا۔ ۔ ۔
میں سکندر سنگھ کو رام رام بلاکر گھر آگیا۔ بھاڑ میں جائے پی ایچ ڈی۔ میں نے خیال ہی دل سے نکال دیا۔ چلو پڑھ لکھ کر ڈگریوں کا ڈھیر لادنے کا بھی کیا فائدہ۔ دیکھ ہی لیا آپ نے سکندر سنگھ جیسوں کا حال۔
ہم کون سی بات کر رہے تھے۔ ہاں! اسی طرح وقت گزرتا رہا۔ ایک دن میری کلاس کے چار پانچ لڑکے کہنے لگے۔ ہم تمہارے ساتھ والے گاؤں میلے پر آئیں گے، تم بھی آ جانا۔ میں چلا گیا۔ میرے ساتھ منگی۔ تقریبا دو گھنٹے میلے میں بتا کر سب کہنے لگے کہ گرمی بہت ہے۔ چلو سیتے کے گاؤں چلتے ہیں۔ مجھے تو گرمی میں ہی کپکپی ہونے لگی۔ میں سوچنے لگا کہ انھیں کہاں لے جاؤں۔ بس سانپ کے منہ میں چھپکلی آ گئی۔ ہم گاؤں کی طرف چل پڑے۔ سارے رستے میں چپ رہا۔ بیسیوں طرح کی سوچیں میرے ذہن میں آتی رہیں۔
میں سب کو منگی کی موٹر پر لے گیا۔ منگی اپنے گھر سے چائے پانی لے آیا اسی طرح دن بیت گیا۔
سورج ڈوبنے کے قریب میں نے دیکھا کہ میرا باپو کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر سے ہوتا ہوا اِدھر کو آرہا ہے۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ اس نے چھت لیپنے کے لیے مٹی لانے کا کہا تھا اور میں دو گھنٹے تک واپس آنے کا وعدہ کرکے آیا تھا۔ اب تو پورا دن ہی بیت چکا تھا۔ میں اٹھ کر باپو کی طرف بڑھا۔ مجھے پتا تھا کہ باپو غصے میں کیسے بولتا ہے۔
باپوں نے میری دھی بہن ایک کردی۔ میں نے کر کرا کے باپو کو گھر بھیج دیا۔ لیکن جب واپس آیا تو وہ پوچھنے لگے کہ کون تھا یہ؟
مجھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔
باپو کے سر پر لپٹا میلا سا صافہ۔ گلے میں ٹوٹے بٹنوں والا کُرتا۔ گھسی چادر اور پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتی۔ کیسے کہتا ہے کہ یہ میرا باپو ہے۔ ایک ساتھ لگتی دس ایکڑ زمین کا مالک۔ جس کی موٹر پر، جامن کی چھاؤں میں سارے بیٹھے ہوئے تھے۔
سردار ترسیم سنگھ، پھنے خان جٹ۔ اس طرح کا وہ کیسے ہو سکتا تھا۔ میں جیسے کسی دھرم سنکٹ میں پھنس گیا تھا۔ سارے طاقت اکٹھی کرکے میں نے کہا، ”سانجھی تھا ہمارا“۔
بات کسی دوسری طرف مڑ گئی۔ لیکن میری زبان تالو سے جا لگی۔ گلا خشک ہوگیا اور آنکھیں نم۔ مجھے میرا ضمیر ملامت کرنے لگا۔
ایک پل کے لئے تو لگا کہ بھاڑ میں جائے اس طرح کی سرداری، جو باپ کو بھی باپ کہنے سے روکتی ہے۔ لیکن کیا کرتا میں۔ میرے اندر نیچ ہونے کا احساس مجھے جینے نہیں دیتا تھا۔ میرے اندر کی گتھی اور پیچیدہ ہوتی جاتی۔ جب سب اپنے اپنے گاؤں کی طرف واپس ہوئے تو میں اور منگی بھی گھر کی طرف چل پڑے۔ ہم دونوں کے درمیان چپ چھائی ہوئی تھی۔ وہ میری حالت سمجھتا تھا۔ جب ان کی گلی کا موڑ آیا تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر ہلایا،
”میں جاؤں“۔
میں نے بس سر ہلایا اور وہ چلا گیا۔ گھر پہنچا تو باپو گھر پر نہیں تھا۔ میں اندر کمرے میں جا کر روتا رہا۔ پہلی بار جھوٹ بولنے کا احساس مجھے کاٹ کاٹ کھانے لگا۔ میں جب باہر نکلا تو باپو صحن میں بیٹھا تھا۔ وہ پھر شروع ہو گیا:
”گزر گیا صاحب جی کا ٹائم؟ کبھی گھر کے کوئی کام بھی دیکھ لیا کر۔ بس ہر جگہ پھندے پر لٹکنے کو میں ہی رہ گیا ہوں۔ ریڑھے لاد لاد کر برا حال ہو گیا میرا۔ دو بالٹیاں اٹھوا دینے سے کمزور تو نہ ہوجاتا تو۔ ستھنی سی پھسا کر صرف کالج جانے کا پتا ہے۔ تو ہی رہ گیا تھا پیدا ہونے کے لیے۔ ۔ ۔ “
باپو ایک ہی سانس میں کتنا کچھ بول گیا تھا۔
میری آنکھیں پھر بھر آئیں۔ گلا بھاری ہو گیا۔
”کیوں آیا تھا تو منگی موٹر پر۔ میں نیپال تو نہیں چلا گیا تھا۔ مٹی کہیں دوڑی جاتی تھی۔ کس نے کہا تھا خواہ مخواہ مشقت کرنے کو۔ آج اپنے ہم جماعتیوں کے سامنے۔ ۔ ۔ “
میں نے روتے روتے ساری بات بتائی۔ ایک لمحے کے لیے ہمارے درمیان چپ چھا گئی۔ باپو حیران ہوا میری طرف دیکھتا رہا۔ پھر ہوش میں آنے پر بولا:
”دیکھ پُت سیتے! ایک بار ایک کوے کو مور کا پر مل گیا۔ مور کا پر ملنے پر کوا سوچنے لگا کہ وہ مور بن گیا“۔
کتھا سنا کے باپو میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
”پُت جو رب نے بنا کر بھیج دیا اسے کون بدل سکتا ہے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ لوگوں سے چھپا لو گے لیکن خود اپنے آپ سے کس طرح۔ ۔ ۔ “
باپو کی آواز میں نرمی تھی وہ بولتا گیا۔ لیکن مجھے جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا باپو بھی کتنا غلط سوچتا تھا۔
”کہ رب نے۔ ۔ ۔ “
بتاؤ۔ رب نے بنائی ہیں یہ ذاتیں گوتیں۔ رب نے بنائے ہیں اونچ اور نیچ۔ نہیں، بالکل نہیں۔ رب نے تو بندہ بنایا تھا پھر بندے نے پتہ نہیں کیا کچھ بنا دیا۔ خون تو سب کا لال ہی ہوتا ہے۔ ہاں پر دل ضرور کالے ہوتے ہیں۔ دل سے یاد آیا میں نے بھی کبھی کسی کو دل دیا تھا۔ لیکن میرا سنسار اجڑ گیا کیوں؟
بس میرے جھوٹ کی وجہ سے۔ میری ذات نیچ تھی اس لیے، اور میرے باپو کے پاس زمین نہیں تھی اس وجہ سے۔
اونچی ذات کی تھی وہ۔ لیکن پیار کہیں ذاتیں دیکھ کر ہوتا ہے۔ پیار تو احساس کو کہتے ہیں۔
احساسوں کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔ لیکن وہ مجھے اونچی ذات والا ہی سمجھتی رہی۔ میں اسے سچ بتا دینا چاہتا تھا۔ لیکن میرے بتانے سے پہلے ہی میرا جھوٹ پکڑا گیا۔ کہیں سے میرا بائیو ڈیٹا پتا چل گیا اسے۔ میں نے بڑی قسمیں کھائیں کہ میں کوئی جھوٹا بندہ نہیں۔ میں نے کسی کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ نہیں بولا۔ میں اسے گنوا بیٹھا تھا۔ مجھے میرے جھوٹ کی موقع پر ہی سزا مل گئی تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑا دکھ یہ تھا کہ اس نے میری ذات سے پیار کیا تھا۔ اس نے کبھی انسان کے طور پر مجھے دیکھا ہی نہیں تھا۔ میں نے بھی دل پتھر کر لیا۔ سوچا چھوڑ من۔ اگر واقعی پیار ہوا ہوتا تو یوں نہ کرتی۔ بس رات گئی بات کی۔
ہم بات کو ذرا اب آگے بڑھائیں۔ دیکھیں نا بندے نے ساتھ کیا لے کر جانا ہے۔ دو گھڑی باتیں کرنے سے من ہلکا ہو جاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ دکھ سانجھا کرنے سے گھٹتا اور خوشی سانجھی کرنے سے بڑھتی ہے۔ ہے کہ نہیں؟
بس بھائی جی! جیسے تیسے کر کے دن کٹتے گئے۔ میں نے بی اے کر کے ایم۔ اے کیا۔ پھر ایک اور ایم۔ اے کیا۔ پی ایچ ڈی سکندر سنگھ کی وجہ سے ہوتی ہوتی رہ گئی۔ میں کوئی کام دھندا ڈھونڈنے لگا۔ آخر بتیس سو دھکے کھا کر میں اس مقام تک پہنچا ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

