میں اب جھوٹ نہیں بولتا (افسانہ)۔


لکھاری: سمرن دھالیوال
پنجابی سے اردو: عارف بھٹی

( 8 اگست 1986 کو مشرقی پنجاب کے ضلع ترن تارن کے سرحدی قصبے ’پٹّی‘ میں جنمے سمرن دھالیوال کا شمار پنجابی کے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں ان کی کتاب ’اُس پَل‘ پر 2016 میں کینیڈا کے معتبر ادبی ایوارڈ ڈھاھاں سی نوازا گیا۔ جبکہ کتاب ’آس اجے باقی ہے‘ پر ہندوستان کے ’ساہتیہ اکیڈمی یُوا پُرسکار‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ )

سناؤ بھائی صاحب! کیا حال ہے۔ ۔ ۔

سیریں کر رہے ہو۔ آ جاؤ تھوڑی دیر کے لیے ذرا دم لے لو۔ اور ساتھ ہی آپ کو میں دو چار عقل کی باتیں بھی بتاؤں۔ مجھے کوئی گیا گزرا مت سمجھنا، میں نے ڈبل ایم اے کیا ہوا ہے۔ کرنی تو میں نے پی ایچ ڈی بھی تھی، لیکن میرا گائیڈ ہی بڑا پھنے خاں نکلا۔ میں تو۔ ۔ ۔ کیا پوچھا، کہ موضوع کون سا چنتا پی ایچ ڈی کا؟ میں تو جی جٹوں کی ذاتوں گوتوں ہر کام کرتا۔ پھنے خاں جٹ ہوں میں بھی۔ بھائی جی آہستہ بولو۔ اپنے ہی گھر والی بات ہے۔ اگر اندر کی بات کا پتا ہی ہے تو ساری دنیا کے سامنے ڈھنڈورا کیوں پیٹنا۔ سچ بتاؤں؟

نفرت ہے مجھے جھوٹ سے۔ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کی خاطرے بندے کو سو جھوٹ بولنا پڑتے ہیں۔ بس یہی کام میں کرتا رہا ہوں، ساری عمر۔ اب آپ سے کیا چھپانا بہت کچھ سہنا پڑا ہے اس کی وجہ سے۔

کیا کہا، پہلا جھوٹ میں نے کب بولا؟ ہے نا عجیب سا سوال۔ جس طرح کوئی کسی شاعر سے پوچھے کہ اس نے پہلی نظم کب کہی تھی۔ شاید وہ جھوٹ نہیں میری مجبوری تھی، پھر میں اُس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں ہی الجھتا رہا۔ یہ بات بی اے کے پہلے سال کی ہے۔ ایک دن ہم پانچ سات لڑکے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ابھی میں نے نیا نیا ہی کالج جانا شروع کیا تھا۔ آپ جیسا ہی ایک بھائی پوچھنے لگا، ”یار سرجیت! تیرا باپو کیا کرتا ہے؟ “

میں سوچ میں پڑ گیا۔ ایک من کیا کہ جو کچھ باپو کرتا ہے، وہی بتا دوں۔ پھر مجھے گاؤں والا اپنا اسکول یاد آ گیا۔ پتا ہے دوسرے بچے کیا کہتے تھے۔ کہ اس کے پاس سے۔ ۔ اب بھی یہ بات یاد آنے پر میرا دل بھر آتا ہے۔

آپ پوچھ رہے ہیں کہ جھوٹ کیوں بولا؟ کب بولا۔ میں تو کہتا ہوں کہ میرے طرح کبھی کسی نے نموشی سہی ہو تب ہی اسے معلوم ہو۔ بس ایک عقل کی بات یاد آ گئی یے۔

جو زخم روح پہ لگ جائیں وہ کبھی نہیں بھرتے۔ جبکہ میری روح، زخموں سے اٹی پڑی تھی۔ مجھے وہ سب باتیں یاد آ گئیں۔ میں نے کہا، ”میرا باپو کھیتی باڑی کرتا ہے۔ “ یہ میرا پہلا جھوٹ تھا۔
بہت دکھ ہوا مجھے۔ کہاں کرتا تھا باپو کھیتی؟ میری ماں کے سر میں؟
وہ تو۔ ۔ ۔

لیکن اس دن پہلی بار مجھے اپنا آپ حقیر لگا تھا۔ پہلی بار مجھ پتا چلا کہ یہ جٹ زمین کے لیے کیوں لڑتے مرتے ہیں۔ زمین تو بندے کی دِھر، اس کا مان ہوتی ہے۔
گرو مہاراج نے بھی کہا ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہو کر مٹی ہی ہو جاتا ہے۔ آخر میں مٹی ہی انسان کو پناہ دیتی ہے۔ خیر۔ یہ تھا میرا پہلا جھوٹ۔
سن لیا؟ سمجھ بھی جاؤ گے کہ کیوں جھوٹ بولا۔ بس اسی ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے۔ صحیح بات بتاؤں؟

نہ کوئی پیدائشی سادھ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پیدائشی چور۔ انسان سب کچھ یہاں آ کر ہی بنتا ہے۔ یہاں آپ کی اس دھرتی پر۔ اس سماج میں۔ حالات بناتے ہیں انسان کو برا۔ اور مجھے بھی جھوٹا بنایا لوگوں نے۔ زمانے نے۔ جب ابھی مجھے کوئی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی، میں تو تب ہی سمجھ چکا تھا کہ جو کام میرا باپو کرتا ہے وہ ضرور کوئی گندہ کام ہے۔ تب ہی تو لوگ ہم سے نفرت کرتے تھے۔ میں بہت بے چین رہتا۔ سوچتا تھا کہ کیوں کرتا ہے میرا باپو یہ کام۔ میری بڑی خواہش تھی کہ میرا باپو بھی کھیتی کرے۔ لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ وہ۔ ۔ ۔

بس اُس دن سے مجھے لگنے لگا کہ ’جٹ کون اور گھٹ کون‘ ۔ تب ہی تو میں خود کو پھنے خاں جٹ بتاتا ہوں۔ آپ تو اب اپنے گھر کے ہی بندے ہوئے، آپ سے کیا پردہ۔

یہ ڈبل ایم اے، کیوں کیا میں نے؟ اسی دکھ کے مارے۔ میں نے چھوٹی عمر میں ہی سمجھ لیا تھا کہ تقدیریں خود بنانی پڑتی ہیں۔ اگر میں نہ پڑھتا تو میں بھی اپنے باپو والی گدی پر بیٹھا ہوتا۔ وہ سامنے گلابی کوٹھی نظر آ رہی ہے؟ کس کی ہے بھلا؟ میری۔ باہر نیم پلیٹ پر کیا لکھا ہے؟

’سردار سرجیت سنگھ سندھو ایس۔ ڈی۔ ایم۔ ‘

پھر وہی بات۔ میں نے کہا نا کہ ذرا آہستہ بولو۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ میں خود ہی سمجھا دیتا ہوں کہ دراصل کہانی ہے کیا۔

میں نے کہا تھا نا کہ تقدیریں خود بنانی پڑتی ہیں۔ اپنے گاؤں کے سکول سے پانچویں پاس کرکے جب ساتھ والے گاؤں جانا تھا، بڑے اسکول، میرا باپو فساد ڈال کر بیٹھ گیا۔ کہنے لگا، ”دیکھ بھئی سیتے! ہمارے گھروں کے بچے کون سے ڈی۔ سی لگتے ہیں۔ تم نے پڑھ کر کیا کر لینا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ گھسیاروں کے لڑکوں نے تو گھاس ہی کھودنا ہوا۔ “

لیکن بھائی جی میں نہ گھسیارا بن کر راضی تھا اور نہ ہی گھاس کھود کر۔ میں نے ضد کی اور آگے پڑھنے لگا۔ میں نے تب ہی ذہن بنا لیا تھا کہ ڈٹ کر پڑھوں گا۔ یہ جو باتیں کرتے ہیں، تب انھیں پتا چلے گا کہ بندہ تو بندہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کون سمجھتا ہے بندے کو بندہ۔ یہاں تو کوئی سندھو ہے، کوئی ڈھلوں، کوئی ایس آئی، کوئی بی سی، ’مانک کی ذات سبھَے ایک سواہ‘ والی بات کہاں پہچاننی ہے ان موٹی عقل والے جانوروں نے۔

چھٹی جماعت میں جا کر بھی کہاں ان باتوں سے پیچھا چھوٹا۔ وہی لوگ، وہی سوچ اور وہی باتیں۔

اور تو اور اچھے بھلے سمجھدار بھی یہی باتیں کرتے۔ ہمارا ایک ماسٹر ہوا کرتا تھا ٹیڑھے مزاج کا، نام یاد نہیں ہے اس کا اب مجھے، ایک بار اس نے ہمیں ایک ٹیڑھا سا سوال دیا اور کہا کہ اسے حل کرکے لاؤ۔ لگ گئی ساری کلاس ٹکریں مارنے۔ میں نے سوال حل کر کے سب سے پہلے سلیٹ لے جا کر ماسٹر کے سامنے کی۔ انعام؟ کون سا انعام؟ مجھے تو سزا ملی، توت کی چھڑی کے ساتھ اس نے مجھے پیٹا۔ پتا ہے کیا کہا؟ کہ، ”کتا، دھوپ بھی نہیں لگنے دے رہا۔ کس طرح سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ سوال حل کرکے جیسے اسی نے جج لگنا ہے۔ “

جبکہ بھائی جی! پوری کلاس میں سے صرف میرا جواب ہی ٹھیک تھا۔ لیکن میری ذات ٹھیک نہیں تھی۔ ایسے لوگوں کا آپ کیا کر سکتے ہیں۔ میرے باپو کو لوگ ساری عمر ’سیمیں سیمیں‘ کرتے رہے۔ غلطی سے بھی کبھی کسی نے ترسیم سنگھ نہیں کہا ہوگا، اور اب وہی لوگ آکر پیشانی رگڑتے ہیں، ’سندھو صاحب سندھو صاحب‘ کرتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی۔ تب بڑا مزا آتا ہے مجھے۔ بس جس کے ہاتھ میں بین وہی سپیرا۔

اب بھی مجھے سلامیں نہیں ہوتیں۔ میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہاں بندہ نہیں پیسہ بولتا ہے۔ کرسی کو سلام ہوتا ہے یا پھر آپ کے گیٹ کے باہر لگی ہوئی نیم پلیٹ کو سلوٹ ہوتے ہیں۔ لیکن وہ جانیں۔ آپ آگے سنیں۔

میں نے اس دن کہہ تو دیا کہ میرا باپو کھیتی باڑی کرتا ہے۔ بس کہہ کر پھنس گیا۔ پھر دوسرے پوچھنے لگ پڑے، تمہاری زمین کتنی ہے، اس بار کون سی کپاس لگائی ہے۔ جانور کتنے ہیں، فلاں کیسا ہے، ڈھمکان کیسا ہے۔ بس پھر ایک جھوٹ بول کر پچاسی سو اور جھوٹ ہر روز بولنے پڑتے۔ میرے من میں جو آتا وہی کہہ دیتا۔ لیکن میں جو بھی جھوٹ بولتا رہا وہ کسی کے سامنے کچھ ثابت کرنے کے لئے نہیں، میری مجبوری تھی۔ بہت دکھ سہا میں نے، خود کو بڑا نیچ محسوس کیا۔

گاؤں میں میرا ایک دوست تھا ’منگی‘ ۔ بڑا ہیرا بندہ تھا۔ ان کی دس ایکڑ زمین تھی۔ میں اور منگی دو دو گھنٹے ان کی موٹر (ٹیوب ویل) پر بیٹھے باتیں کرتے رہتے۔ میں نے منگی کو اپنا دکھ بتایا۔ بھائی جی! اس نے بڑی سیانی بات کی۔ اس نے کہا، ”آڑی جھوٹ وہ ہوتا ہے جو کسی کا کچھ بگاڑے۔ تم تو ایک قسم کی اپنی جان بچاتے پھرتے ہو۔ کوئی نہیں۔ پرواہ مت کرو۔ اگر کوئی زیادہ ہی کرے تو پکڑ کر یہاں لے آنا۔ کہیں رشتہ دینے تو آنا نہیں۔ کہہ دینا ہماری موٹر ہے“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3