میں اب جھوٹ نہیں بولتا (افسانہ)۔


اب آپ پوچھیں گے کہ یہ سندھو والا کیا معاملہ ہے؟

اپنے اردگرد بھرم جال تو میں پہلے ہی بچھائے بیٹھا تھا۔ کئی سال بیت گئے۔ کتنا کچھ بدل گیا۔ میں کیا سے کیا بن گیا۔ لیکن ابھی بھی روح میں سکون نہیں ہے۔ پتا ہے کیوں؟ اب مجھے اس سب کی ضرورت نہیں۔ جب ضرورت تھی تب بہت دکھ جھیلے، تکلیفیں برداشت کیں۔ میری ماں کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا۔ لیکن کسی بڑے اسپتال جا کر علاج کروانے کے لیے میرے باپو کے پاس پیسے نہیں تھے۔ میں ماں کو سرکاری اسپتال لے گیا۔ لیکن وہاں بھی ماڑے بندے کو کون پوچھتا ہے۔ ڈاکٹر نے پرچی لکھ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دی۔ کہا کہ بازار سے یہ سامان لے آؤ۔ جب میڈیکل سٹور سے سامان لے کر میں نے پیسے پوچھے تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔

”میرے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہیں جی“۔ میں نے دکان والے کو بتایا۔

”کتنے ہیں؟ سامان ہلکا لے لو۔ لینز سستا دے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ “

اور اس دکاندار کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ ذرا اندازہ کریں مجھ پر کیا بیتی ہو گی۔ مجھے دنیا دکھانے والی میری ماں کی آنکھیں بنوانے کے قابل بھی نہیں تھا میں۔ کہیں ڈاکہ ہی ڈال لیتا۔ تو اس ’سستے‘ سامان سے بنی میری ماں کی آنکھ، اس کے مرنے تک ٹھیک نہ ہو پائی۔ میرے باپو نے کبھی اچھا، کھا پہن کر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے جی بھر کے محرومیاں برداشت کیں۔ باپو بیچارہ جیون یاترا پوری کر کے اپنا ٹکٹ کٹوا گیا۔ میں نے گاؤں چھوڑ دیا۔ اسکولوں میں، مَیں نے پڑھایا۔ کلرکی میں نے کی۔ بنک میں صفائیاں میں نے کیں۔ لوگوں کے جھوٹے برتن میں نے مانجھے۔ لیکن ہر جگہ خود کو جٹ بتایا ہے۔ بس اسی طرح یہاں آ کر بن گیا ’سرجیت سنگھ سندھو‘ سارا شہر جانتا ہے مجھے۔ ’سندھو صاحب، سندھو صاحب‘ کرتے ہیں لوگ۔

لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ میں۔ ۔ ۔ کیونکہ میری پیشانی پر تھوڑا لکھا ہے۔ ۔ ۔ لوگ ٹھپا لگاتے ہیں، سماج مہر لگاتا ہے آپ کے ماتھے پر۔ وہ ٹھپا میں نے خود مٹایا ہے، انھی ہاتھوں سے۔ آج میرے پاس زمین ہے، پیسہ ہے، نام ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا اونچی ذات والے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ ذات کسی کے خون میں نہیں ہوتی۔

ڈھوئے ہیں میرے باپو نے مرے ہوئے جانور، لیکن یہ اس کا ذریعہ روزگار تھا۔ جس کے ساتھ اس نے پورے خاندان کو پالا ہے۔ کام نہیں کردار گھٹیا ہوتا ہے انسان کا۔ لوگ ساری عمر نیچ سمجھتے رہے ہمیں، میں نے سب کو اونچا ہو کر دکھایا ہے۔ خود کو پھنے خاں سمجھنے والے، آج میرے آگے گھٹنے ٹیکتے ہیں۔

ایک دن اپنے گاؤں سے پُھمن سنگھ اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر کوٹھی آگیا۔ میں ابھی جاگا ہی تھا۔ اوپر سے جب میں نے بیڈروم کی کھڑکی سے پُھمن سنگھ کو دیکھا تو میری آنکھوں کے سامنے کتنا کچھ گھومنے لگا تھا۔ یہ پرانی بات ہے۔ پھمن سنگھ کے اِس لڑکے کی ابھی داڑھی بھی نہیں پھوٹی تھی۔ ایک دن باپو ان کے کھیتوں کی طرف گیا ہوا تھا۔ واپسی پر پھمن سنگھ کے اِس لڑکے سے پوچھ کر بیچارے بچھڑے کے چارے کے لئے تھوڑے پٹھے کاٹے۔ ریڑھے پہ لاد کر جب باپو وہاں سے چلنے ہی لگا تھا کہ اوپر سے پھمن سنگھ آ گیا۔ اس نے گل سنی نہ بات، بس لگ گیا باپو کی بے عزتی کرنے۔

”کیا بات! لنگر خانہ کھلا ہے یہاں؟ کس سے پوچھ کر لئے ہیں پٹھے؟ “

”سردار جی! کاکا اپنا ادھر ہی کھڑا ہے، میں نے چوری تو نہیں کاٹے“۔

”اس بچے کو کیا پتہ۔ گند ڈالا ہے تم ساروں نے۔ محنتوں کے ساتھ فصلیں پالنی پڑتی ہیں، چل پڑا لاد کر۔ پھینک نیچے“۔

اس نے پٹھے ادھر ہی اتروا لیے۔ باپو بے چارہ بے عزت ہو کر گھر پہنچا۔

اس پھمن سنگھ کو دیکھ کر مجھے باپو کا لاچار چہرہ یاد آ گیا۔ میں بیڈروم سے باہر نکلا تو سامنے نوکر ’آنے والوں‘ کی اطلاع لیے کھڑا تھا۔

”باہر ہی کھڑا رہنے دے انھیں۔ دس منٹ تک آتا ہوں“

یہ کہہ کر میں باتھ روم چلا گیا۔ جب باہر آیا تو آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ وقت بیت چکا تھا۔ تیار ہو کر میں نیچے آیا اور انھیں بھی ڈرائنگ روم میں بلا لیا۔

”صاحب جی! سکھ نال خاصہ ہی ٹائم لگ گیا۔ ہم تو کھڑے کھڑے ہی سوکھ چلے تھے“۔ پُھمن سنگھ اندر داخل ہوتے ہوئے بولا۔

میرے من میں آیا کہ کہوں کہ صاحب تیرے باپ نے تو نہیں بنایا مجھے۔ اپنی محنت سے بنا ہوں۔ تیرا نوکر تو نہیں رکھا ہوا۔

”کیا بات چاچا۔ نوکر نے بیٹھنے کے لیے نہیں کہا۔ یہ نوکر بھی بندے بندے کا فرق نہیں جانتے“۔

میں سب جانتے ہوئے بھی انجان بن گیا۔

”چلو سردار جی! کوئی نہیں۔ تم سے ایک کام تھا میں نے کہا کہ اپنا بھتیجا ہی تو ہے۔ دراصل بات یہ تھی کہ۔ ۔ ۔ “

لگ گیا پھمن سنگھ باتیں بنانے۔ میں نے سوچا کبھی تو تو ہمیں پچھڑی ہوئی ذات بتاتا تھا اور آج میں تجھے اپنا لگتا ہوں۔

اسی طرح ہوتا ہے بھائی جی۔ کیا کہتے ہیں کہ چارپائی سے زمین قریب ہوتی ہے۔ دن بدلتے دیر نہیں لگتی۔

”پاس نہیں تو دور ہے منزل ضرور ہے“۔

میں نے سینکڑوں جھوٹ بولے ساری عمر لیکن کسی کا کچھ بگاڑا تو نہیں۔ بس خود کو ہی دھوکہ دیتا رہا میں۔

بہت ترسایا سا رہا میں۔ کبھی ڈھنگ سے کھا پی کر نہیں دیکھا تھا۔ ’بنتے شاہ‘ کی دکان پر پڑی چیزوں کی طرف ترس بھری نظروں سے دیکھتے رہنا۔ لیکن ان کا مزہ چکھنے کے لیے کبھی دوآنی بھی گھر سے نہیں ملی تھی۔ جب میں کالج میں پڑھتا تھا تب چھٹی والے دن مستری کے ساتھ دیہاڑی لگانے جایا کرتا تھا۔ کبھی ایک روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ کر کے نہیں دیکھا تھا۔ جو ملنا گھر لا کر پکڑا دینا۔ میری ماں لوگوں کے اتارے، پھینکے ہوئے کپڑوں سے ہمارا تن ڈھانکتی رہی۔

آج میرا لڑکا انڈرویئر بھی بریینڈڈ پہنتا ہے۔ اے سی بِنا اس کو نیند نہیں آتی۔ پانچ لاکھ والی گاڑی پر کالج جاتا ہے۔ میری ماں ساری عمر ناک کان سے ’بُچڑی‘ رہی۔ لیکن آج میری گھر والی کے پاس کلوؤں کے حساب سے سونا ہے۔

کاش آج باپو زندہ ہوتا۔ ساری عمر اسے ’سیمیں سیمیں‘ کہنے والے آج ’سردار جی سردار جی‘ نہ کرتے تو بات تھی۔ باپو نیچ ذات کا تھا۔ میں پیدا تو نیچ ذات والوں کے گھر ہوا، لیکن آج میں کہاں کھڑا ہوں۔

جو سمجھتے ہیں نا خود کو پھنے خاں، میں انھیں ٹِچ سمجھتا ہوں۔ کوئی میرے سے بات تو کر کے دیکھے۔

آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ جو باتیں میں ساری دنیا سے چھپاتا رہا وہ آپ کو کیوں بتاتا جا رہا ہوں۔

ہے نا۔ ۔ ۔ یہی سوچ رہے تھے نا آپ؟

سچی بات بتاؤں بھائی صاحب۔ تھک گیا ہوں میں جھوٹ بول بول کر۔ اب جی چاہتا ہے کہ اپنی ہر بات کسی دوسرے کو بتاؤں تاکہ من کچھ ہلکا ہو۔

بھائی جی! کہاں چلے آپ؟

ذرا بیٹھو تو سہی۔ میری بات تو سنو۔

لو سنو، کون کہتا ہے میں اول فول بکتا ہوں۔ بتاؤ کیا آپ کو میں کوئی ’ہلا ہوا‘ لگتا ہوں۔ ’ہلے ہوئے‘ تو لوگ ہیں جو مجھے ہلا ہوا بتاتے ہیں۔ آپ بھی لوگوں کے ساتھ مل گئے۔ بس دو منٹ بیٹھو۔ ابھی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔

ٹِچ آپ کو نہیں لوگوں کو سمجھتا ہوں۔ کیا کہا؟

آپ بھی لوگوں میں سے ہی ہیں؟ نہیں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔

یہ بات میں تو نہیں کہتا۔ میں تو اپنا سمجھ کر اتنی باتیں آپ کے ساتھ کرتا رہا۔ چلو بیٹھو۔ دوچار عقل کی باتیں سن لو۔ آپ تو غصہ ہی کر گئے۔ رکو، رکو تو سہی۔

سورج بس ڈوبنے ہی لگا ہے۔ میں نے سب کچھ سچ بتا دیا ہے آپ کو۔ بھائی جی اب میں جھوٹ نہیں بولتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3