ذہنی مریضوں کو تلاش کیجیے!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مانسہرہ میں ایک دس سالہ بچے کے ساتھ مدرسے کے منتظم کی مبینہ بد فعلی کے واقعے نے ایک بار پھر ہماری توجہ معاشرے کے بیمار جنسی رویوں کی طرف مبذول کرائی۔ نہ یہ سانحہ نیا ہے نہ اس کی تفصیلات نئی۔

میں نے جب سے ہوش سنبھالا، اخبارات میں اس نوعیت کی خبریں پڑھتی چلی آ رہی ہوں۔

صرف اخبارات ہی میں کیا، زبانی کلامی، سرگوشیوں میں مسجدوں میں پڑھنے والے بچوں، پان سگریٹ کی دکانوں، ورکشاپوں، بسوں کے اڈوں پر پھرنے والے ’چھوٹوں‘، فیکٹریوں میں کام کرنے والے لڑکوں اور بچوں کے بارے میں یہ ہی سنا کہ یہ سب کسی نہ کسی عمر میں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ ایک کھلا راز تھا۔ یہاں تک کہ طبقہ امرا کے بچوں کے ہاسٹلز تک کے بارے میں یہ خبریں اڑتی اڑتی کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔

یہ بھی سنا کرتے تھے کہ جو بچے بچپن میں اس بد فعلی کا شکار ہوتے ہیں وہ بڑے ہو کر موقع ملنے پر اپنے چھوٹوں کے ساتھ یہ ہی سلوک دہراتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرگوشیاں، سرگوشیاں نہ رہیں، شہ سرخیاں بن گئیں۔ بگڑے ہوئے جنسی رویے، بڑھتی آبادی اور روز افزوں گھٹن کے ساتھ ایسے پھیلے کہ آج ہمارے چاروں طرف سے یہ ہی خبریں آ رہی ہیں۔

قصور اور چونیاں میں گزرنے والے واقعات اور راولپنڈی سے اسی سلسلے میں گرفتار سہیل ایاز کا معاملہ ایک سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ بد فعلی کرنے والے ہم جنس پرست نہیں ہوتے۔ جنسی رویے کا میلان کسی طرف ہونا ایک بات ہے اور جنسی رویے میں کجی ہونا دوسری بات۔

اس قسم کے واقعات رونما تو روز ہی ہوتے ہیں لیکن جب جب منظر عام پر آتے ہیں تو لوگ ایک ہی مطالبہ دہراتے ہیں کہ ان مجرموں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ لوگ ڈر کے اس فعل سے باز رہیں۔

یہ ایک عوامی رد عمل اور ان مجرموں سے نفرت کا شدید ترین اظہار ہے لیکن مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔

بچہ بازی، لونڈے بازی کرنے والے یا پیڈو فائلز باقاعدہ ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ نہایت دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اردو شاعری پڑھاتے ہوئے استاد، سبزہ خط، کمان ابرو، چھلا سی کمر، غنچہ سا دہن کی تشریح کرتے ہوئے بڑے سکون سے بتاتے تھے کہ پرانے وقتوں کے استاد شعرا یہ شاعری کم عمر لڑکوں کے لیے کرتے تھے جن کے چہروں پر ابھی بس سبزہ خط ہی نمودار ہوتا تھا۔

تب کبھی یہ سوال ہی نہ اٹھا کہ کیا وہ سب بزرگ بھی پیڈو فائلز تھے یا ہمارے استاد ہمیں غلط سلط پڑھاتے گئے۔

بچہ بازی کی روایت سے تو خیر سب ہی واقف ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جنسی کج روی اگر ہمارے ہاں صدیوں سے پائی جاتی ہے تو کیا اسے صدیوں تک یوں ہی چلنے دیا جائے گا؟

کیا کم عمر بچے اسی طرح غیر محفوظ رہیں گے؟ مزید یہ کہ آیا یہ مرض ہمارے ہاں ہی اس قدر بڑھ گیا ہے یا سہیل ایاز کیس کی طرح دنیا بھر کے پیڈو فائلز کے لیے ہمارے بچے استعمال ہو رہے ہیں؟

یہ معمولی واقعات نہیں، آنے والی نسلوں کی ذہنی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ مانسہرہ مدرسہ کیس میں وہ بچہ، زندہ تو بچ گیا لیکن کیا عمر بھر وہ اس سانحے کے اثر سے نکل پائے گا؟ کیا وہ کبھی ایک نارمل زندگی گزار پائے گا؟

صرف بچوں کے ساتھ بد فعلی کا معاملہ ہی نہیں، خواتین کے ساتھ جنسی تشدد، انہیں ہراساں کرنا، ماں بہن کی گالیاں بکنا، سر عام جسم کے مخصوص حصوں کو کھجانا اور موتنا، یہ سب رویے جنسی کج روی کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔

جنسی جرائم کے مرتکب اشخاص ان میں سے کسی ایک یا تمام عادات کا شکار ہوتے ہیں۔ ان عادات کا شکار شخص اگر بوجوہ جنسی جرم کا مرتکب نہ بھی ہو تب بھی وہ زبانی کلامی گالیوں کی حد تک اپنی تسکین ضرور کر لیتا ہے۔

یہ ہی بات خطرناک ہے۔ اس پر غور کیجیے۔ ممکن ہے آپ کے اپنے اندر بھی ایک مجرم ہو، جو گندی گالیاں بک کے راضی ہوتا ہو، اس مجرم کو باہر نکالیے، اس سے نجات حاصل کر لیجیے۔

حکومت کا یہ یے کہ وہ بے چارے بہت سے دیگر ضروری کاموں میں الجھے ہوئے ہیں۔ گیس کے نرخ بڑھانے ہیں، پٹرول بجلی مہنگی کرنی ہے، ایکسٹنشن کی ٹینشن، روز ضمانت لے کر بھاگتے کرپٹوں پر دانت پیسنا، اپنی کہہ مکرنیوں پر صحافیوں کو دھمکانا اور دیگر اسی نوع کی مجبوریاں۔ انھیں یہیں الجھا رہنے دیجیے۔

زینب

حل ڈھونڈیے مگر دیرپا۔ جذباتی نعروں سے وقت تو گزر جائے گا مگر یہ ذہنی مریض اسی طرح کبھی استاد بن کے، کبھی محلے والا بن کے، کبھی گلی کے نکڑ کا دکاندار بن کے، معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے کو اب روکنا ہو گا. معاشرے کے بگڑے ہوئے رویوں کو درست نہ کیا گیا تو صورت حال روز بروز بگڑتی جائے گی۔ نہ ماں باپ ہر وقت بچوں کے ساتھ لگ کر بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی قسم کی سیکس ایجوکیشن یا سیلف ڈیفینس اس معاملے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

بنا بہت دور سے بگڑی ہوئی ہے۔ میں بارہا کہہ اور لکھ چکی ہوں کہ اس معاملے پہ تحقیق اور اس کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

ایک دو مجرموں کو سرعام پھانسی دینے سے اگر معاملات درست ہونے والے ہوتے تو قصور کیس کے مجرم عمران کی پھانسی کے بعد، چونیاں کے واقعات رونما نہ ہوتے اور سہیل ایاز کیس سامنے نہ آتا۔

حل ڈھونڈیے مگر دیرپا۔ جذباتی نعروں سے وقت تو گزر جائے گا مگر یہ ذہنی مریض اسی طرح کبھی استاد بن کے، کبھی محلے والا بن کے، کبھی گلی کے نکڑ کا دکاندار بن کے، معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے کو اب روکنا ہو گا۔

ذہنی مریضوں کو تلاش کیجیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور سارا معاشرہ ہی ذہنی مریض بن کے رہ جائے۔ ویسے کسر تو اب بھی ذرا سی ہی رہ گئی ہے مگر اب بھی سیاہ بادل تلے امید کا ایک نقرئی حاشیہ چمکتا ہے، ابھی وقت نہیں گزرا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •