نام نہاد لبرل علما قوم کو دانش سکھاتے ہیں یا گمراہی؟

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

سنا ہے کہ سقراط بہت ہی دانش مند شخص تھا۔ لوگ دور دور سے اس سے دانش سیکھنے آتے تھے۔ ایک شخص نے سوچا کہ وجہ تو معلوم کی جائے کہ یہ سقراط اتنا دانش مند ہو کیسے گیا ہے۔ اس نے بہت سر کھپایا مگر اسے سمجھ نہ آیا۔ تھک ہار کر سقراط سے ہی پوچھ لیا کہ ”اے عظیم فلسفی، تو نے یہ دانش سیکھی کہاں سے ہے؟“۔

تس پہ سقراط کچھ دیر تو سر جھکائے سوچتا رہا۔ پھر اس نے سر اٹھایا اور اس سوالی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ”میں نے احمقوں سے دانش سیکھی ہے“۔

پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے۔ یہاں بھی دانش سکھانے والے ٹکے سیر کھاجا ٹکے سیر بھاجی کے ساتھ جھونگے میں دستیاب ہیں۔ عام طور پر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ یہاں کا ملا سوچنے سے قاصر ہے۔ لبرل حلقوں کی طرف سے ایسا طعنہ سامنے آتا ہے کہ ”چھے سال میں انسان ملا بنتا ہے، مگر باقی ساری زندگی جتنا بھی زور لگا لیا جائے، ملا کا انسان نہیں بن سکتا ہے“۔ مگر ہمارا تجربہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں وحدت الوجود کا معاملہ پیش آ رہا ہے لبرل دانشور اور ملا میں۔

چند دن پہلے ارتقا کے موضوع پر ایک طنزیہ مضمون لکھا۔ اس میں بنیادی طور پر سائنس سے قطعی ناواقف افراد کے وہ دلائل جمع کر دیے گئے تھے جو کہ وہ کچھ بھی پڑھے لکھے بغیر دیتے ہیں۔ اس رویے کو واضح کر دینے کے لئے شروع میں ہی کافی زیادہ ہنٹس موجود تھے۔ ایک بہت بڑا بلنڈر پہلے پیراگراف میں موجود ہے۔

”تصویر پر غور کرتے ہیں تو دکھائی دیتا ہے کہ بن مانس کا کروموسوم، انسان کے کروموسوم سے سائز میں تقریباً آدھا ہے۔ ہمیں آخری مرتبہ سائنس کی کتاب پڑھے ہوئے کوئی تیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے، اس لئے پیچیدہ تکنیکی اصطلاحات اس وقت یاد نہیں ہیں۔ اب یہی یاد پڑتا ہے کہ جینز کا پیچیدہ سائنسی نام کروموسوم ہوتا ہے۔ یا ممکن ہے کہ جینز کے مجموعے کو کروموسوم کہتے ہوں۔“

یعنی بیس اسٹیبلش کر دی گئی ہے کہ مصنف جس موضوع پر لکھ رہا ہے، اس کی الف بے سے بھی خود کو ناواقف قرار دے رہا ہے۔ تعارف میں خود کو آئی ٹی سپیشلسٹ لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ تیسری جماعت کے بعد سائنس نہیں پڑھی ہے۔ حیاتیات سے متعلق ایسا ظاہر کر رہا ہے کہ اسے جینز اور کروموسوم کا فرق بھی معلوم نہیں ہے۔ اس سے اگلے پیراگراف میں وہ کروموسوم کی لمبائی کے تقابل سے مختلف جانوروں کے قد اور بال کا تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان پہلے دو پیراگراف کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد بھی اگر کوئی اس کے بعد کے مضمون کا طنز پانے سے قاصر ہے، تو وہ ملا ہی ہو سکتا ہے، خواہ وہ مذہبی ملا ہو یا لبرل، بس منجمد ذہن کا مالک ہو۔

\"evolution-5b\"

باقی مضمون میں بھِی زندگی کی ارتقائی کی بجائے یک دم تخلیق کے حامی لوگوں کے ایسے ہی دلائل دیے گئے ہیں اور انہیں دلائل کے ساتھ مختلف الفاظ اور فقرے جوڑ کر ان میں نقص کو واضح کیا گیا ہے۔ مثلاً کروڑوں سال کے ارتقا کے معاملے کو رد کرنے کے لئے دلیل دی گئی ہے کہ ” اگر ایسی ہی بات ہوتی تو اب جبکہ انسان ہزاروں سال سے سواریاں استعمال کر رہا ہے، تو اس کی ٹانگیں کیوں ختم نہیں ہو گئی ہیں؟“۔ وغیرہ وغیرہ۔

اختتام میں اس کو مزید انفورس کیا گیا ہے۔ اختتامی پیراگراف ہے کہ ”امید ہے کہ ہمارے دلائل دیکھ کر ہر صاحبِ دل شخص یہ تسلیم کر چکا ہو گا کہ ارتقا کی تھیوری ایک گمراہ کن نظریہ ہے اور منطقی اندازِ فکر رکھنے والے پروفیسروں اور سائنسدانوں کو اس کی ترویج بند کر دینی چاہیے اور طلبہ کو مزید گمراہ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔“ یعنی واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ منطقی انداز فکر رکھنے والے پروفیسر اور سائنسدان ہی ارتقا کی ترویج کرتے ہیں، غیر منطقی ذہن کے مالک اس کے مخالف ہیں۔

اب اتنے واضح اشاروں کے باوجود ایک کند ذہن شخص ہی اسے طنز کی بجائے ایک سنجیدہ موقف سمجھ سکتا ہے۔ سنجیدگی سے طنز کرنے کے اس انداز کو ڈیڈ پین سٹائر کہا جاتا ہے اور متن کے الفاظ کے دہرے معنی ہونے کو ذو معنییت کہا جاتا ہے جس میں الفاظ کا ایک مطلب تو سامنے دکھائی دے رہا ہوتا ہے، مگر تحریر میں ایسے اشارے اور تضادات موجود ہوتے ہیں کہ ذی فہم پڑھنے والا چونک جاتا ہے اور اسے غور سے پڑھ کر سامنے موجود تاثر کی بجائے اصل معنی تک پہنچ جاتا ہے۔

لیکن ذی فہم ہونے کی یہ شرط بہت کڑی ہے۔ کہتے ہیں کہ کامن سینس، کامن نہیں ہوتی ہے۔ ایک بڑے لبرل دانشور اسے ایک سائنسی ویو قرار دے کر اس پر پیئر ریو کرنے کو تیار ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد ان کو کچھ خیال آیا۔ پوچھنے لگے کہ یہ طنز ہے یا سنجیدہ ہے۔ دوسرے دانشور نے دلیل دی کہ اگر یہ طنز ہے تو بودا ہے، کیونکہ یوسفی، انشا اور شفیق الرحمان صاحب نے ایسے انداز میں کبھی نہیں لکھا، غالباً ان کی رائے یہ ہے کہ یہ تینوں مصنفین طنز کی تمام اصناف پر لکھ چکے ہیں اور جو انہوں نے نہیں لکھا وہ طنز نہیں ہو گا۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلے دانشور اس کا سنجیدہ سائنسی جواب لکھنے کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں۔

ایک دوسرے صاحب تشریف لائے، بلکہ تشریف کیا لائے، مستقل مہمان ہو گئے۔ ماشا اللہ انگریزی اخبارات ڈیلی ٹائمز، دا نیوز، دا نیشن کے کالمسٹ ہیں، یعنی ان کی عقل و دانش کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ نہایت ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ یونیورسٹی آف گلاسگو سے امیونولوجی پڑھی ہے، مالیکیولر بیالوجی کا مطالعہ یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے کیا ہے، اور راولپنڈی میڈیکل کالج کے فارخ التحصیل ہیں۔ ارتقا والا مضمون شائع ہونے کے بعد سے شدید خفا ہیں جیسے خاکسار نے ڈارون کی بجائے محترم کے ارتقا پر سوال اٹھا دیا ہو۔ غالباً اس طنزیہ مضمون کو انہوں نے اپنی ذاتی توہین قرار دے دیا تھا۔

راقم الحروف کچھ نیم خواندہ سا شخص ہے، بہت زیادہ علم نہیں رکھتا ہے۔ یہ ڈاکٹری تشخیص کر کے وہ طرح طرح کی سائنسی کتابیں تجویز کرنے لگے اور مشورہ دیا کہ اپنے کانسیپٹ کلئیر کرتے ہی یہ جاہلانہ سائنسی مضمون ہٹا دوں۔ کہنے لگے کہ آپ فوٹوگرافی یا آئی ٹی پر ہی لکھا کریں، یہ سائنس وغیرہ آپ کا مضمون نہیں ہے تو اس پر مت لکھیں۔ خاکسار نے ان کو جواب میں ادب پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے طنز کے دو ماہرین جوناتھن سوئفٹ اور مارک ٹوین کی کتب تجویز کیں۔ ڈاکٹر صاحب تو بس خفا ہی ہو گئے۔ کہنے لگے کہ ”عدنان صاحب، ان دونوں کی سائنسی مہارت کس فیلڈ میں ہے اور ان کی کون سی کتب آپ اپنی تھیوری کی حمایت میں پیش کریں گے؟“ ان سے عرض کیا کہ پس ثابت ہوا کہ آپ ایک ایسے بدقسمت شخص ہیں جو کہ ادب سے نابلد ہے۔ خفا ہو کر کہنے لگے کہ ”شاباش، آپ کا مطلب ہے کہ جینیٹکس اور ارتقا ادبی مضمون میں ہوا کرتے ہیں؟“

\"jonathan_swift_by_charles_jervas_detail\"

بچارے ڈاکٹر صاحب نے مختلف لوگوں کے تبصروں پر جا جا کر ان کے کوئی پچاس جواب دیے ہوں گے تاکہ راقم الحروف کی جہالت کسی شک و شبے سے بالاتر ہو جائے۔ ان کے اعتراض کا لب لباب یہ تھا کہ آپ خدا کو تخلیق کا ذمہ دار کیوں قرار دے رہے ہیں۔ لطف یہ کہ ایک دن بعد ہانپنے لگے تو حکم دیا کہ ”میں نے کشمیر پر ایک مضمون لکھا ہے۔ وہاں جا کر مجھ سے بدلہ لے لو“۔ لیکن یہ سوچنا غلط ہو گا کہ ڈاکٹر صاحب محض اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے یہ فیل مچا رہے تھے۔ بخدا ان کے خلوص نیت، علم پھیلانے کے جذبے اور زبان و ادب سے لاتعلقی کے ہم دل سے قائل ہیں۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے تعلیم تو جرثوموں کے بارے میں پائی ہے، تو پھر وہ کشمیر پر کیوں لکھتے ہیں؟ بلکہ لکھتے ہی کیوں ہیں، ادب سے تو وہ اس حد تک لاتعلق ہیں کہ لطیفہ بنے بیٹھے ہیں۔

ایک اور صاحب بھی شدید نالاں تھے۔ محترم بائیالوجی کے پروفیسر ہیں اور ایک شہر کے سرکاری کالج میں پرنسپل کے عہدے پر براجمان ہیں۔ ان کا اعتراض تھا کہ تیسری جماعت میں سائنس پڑھ کر خاکسار کیوں جہالت دکھا رہا ہے جبکہ وہ موجود ہیں۔

ایک صاحب تشریف لائے۔ بتانے لگے کہ جو لوگ ارتقا کے طبی عالم ہیں، صرف انہی کی بات مانی جائے۔ انہوں نے راقم الحروف کو اپنی تھیوری اور ریسرچ وغیرہ کسی ادارے کو بھجوانے کا حکم دیا۔ مزید براں ان کو خاکسار کے کاربن ڈیٹنگ کی خامیوں پر روشنی ڈالنے اور دنیا کی عمر چھے ہزار سال بتانے پر شدید اعتراض تھا۔ مزید انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ”آپ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ لفظ تھیوری کی ورلڈ آف سائنس میں کیا اہمیت ہے؟“ ان کو یاد دلایا کہ صبح تو آپ یہ پوسٹ پڑھ کر فرما رہے تھے کہ کاکڑ صاحب ایک ہاتھ دکھا کر دوسرا رسید کرتے ہیں، اور آج آپ اس اس درویش پر سائنس سے نابلد ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ایک مائنڈ بنا لیں کہ خاکسار طنز کر رہا ہے یا سائنس سے نابلد ہے۔ ان کو یاد آیا تو فرمانے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ بلیک کامیڈی لکھنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اور شاید آپ کو بلیک کامیڈی لکھنا پسند بھی بہت ہے۔ لیکن میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ کو پڑھنے والے ویسٹ کے میچورمائنڈڈ لوگ نہیں ہیں۔ یہاں عام آدمی کو تو سیدھا سادا طنز سمجھانا مشکل ہوا ہوتا ہے اور کہاں چُھپے ہوئے لفظوں میں لکھا ہوا۔ معذرت کے ساتھ بھائی صاحب یہ تو سیدھا سیدھا پسماندہ ذہنوں کا \”چیزہ\” لگانے والی بات ہے۔“ مزید یہ بھی بتایا کہ راقم الحروف کو ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر پی ایچ ڈی تک سبھی پڑھتے ہیں، اور فیس بک پر ہر طرح کا شخص موجود ہوتا ہے، تو تحریر ایسی ہونی چاہیے جو ساری دنیا کے ہر شخص کی سمجھ میں آ جائے۔ ان کی رائے میں سائنس پر طنز لکھنا قطعاً حرام ہے۔ ہم اس سوچ میں پڑے ہوئے ہیں کہ کیا ٹوٹ بٹوٹ کے علاوہ کچھ ایسا لکھا جا سکتا ہے جو مختلف ذہنی لیول اور تعلیم رکھنے والے تمام لوگ بیک وقت سمجھ سکیں؟

ایک گروپ میں چند حضرات شدید پریشان تھے کہ یہ طنز ہے یا نہیں۔ ان کی رائے میں اگر یہ طنز ہے تو نہایت ناقص ہے۔ ایک شخص اس بات پر نالاں تھا کہ خاکسار کا کروموسوم کا علم غلط ہے۔ چند صاحبان کو شکایت تھی کہ ارتقا کے مخالف اس تحریر کو شیئر کر رہے ہیں اور اس سے جہالت پھِیل رہی ہے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کر رہے تھے کہ اس تحریر میں دیے گئے دلائل اتنے احمقانہ اور بودے ہیں کہ سائنس کی ذرا سی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ طنز ہے۔ ان میں سے بعض افراد کی رائے یہ تھی کہ راقم الحروف نے یہ مضمون ارتقا کے خلاف لکھا تھا لیکن ری ایکشن دیکھ کر اسے طنز قرار دینے لگا ہے۔

پڑھے لکھے ترین طبقات سے لے کر نیم خواندہ طبقات تک میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ طنز میں مزاح کا عنصر ہونا ضروری ہے۔ ان حضرات کو طنز کا ماسٹر پیس سمجھا جانے والا جوناتھن سوئفٹ کا مضمون بھی پیش کیا گیا تھا کہ اس میں مزاح ڈھونڈ کر دکھائیں۔ غالباً ناکام ہوئے، اس لئے کہنے لگے کہ کیا آپ خود کو جوناتھن سوئفٹ سمجھتے ہیں؟

\"death-of-socrates-ab\"

اندازہ ہوا کہ طب میں ڈاکٹریٹ اور دوسرے علوم میں پی ایچ ڈی کیے ہوئے حضرات سے لے کر عام لبرل دانشور تک اس باتے سے قطعاً بے خبر ہیں کہ طنز کیا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مدرسے سے فارغ التحصیل ایک شخص ان لبرل علما کے ایسے تبصرے پڑھ کر کہنے لگا کہ ”کاکڑ صاحب مجھے دلی ہمدردی ہے آپ سے۔ کئی کمنٹس ایسے دیکھے جن پر ہم (نے) تو قہقہے بلند کئے۔ ولے حضور آپ کو فہمِ قاری پر ضرور رلا گئے ہوں گے“۔

تو جناب، سقراط کا ذکر ہو رہا تھا کہ اس نے دانش کہاں سے سیکھی ہے۔ خاکسار بھی لبرل دانشوروں کا دانش سکھانے پر شکرگزار ہے۔ ایک طرف ملا دانشور دانش کے خزانے بانٹ رہا ہے، دوجی طرف لبرل عالم بھی وہی کر رہا ہے، اور وطن عظیم سے عظیم تر ہوتا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words