سیکولرازم کا دور چلا گیا۔ اب ثابت کرنا ہوگا، آپ مسلمان ہیں یا مسلمانوں کے خلاف ہیں: اوریا مقبول جان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے کہا ہے کہ دنیا میں سیکولرازم کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے۔ بھارت میں مسلمان آج اس دوراہے پر ہیں، جہاں ان کوعزت کے ساتھ موت ہے یا پھر ذلت کے ساتھ زندگی کا انتخاب کرنا ہے۔ سیکولرازم کا دور چلا گیا۔ اب ثابت کرنا ہوگا۔ آپ مسلمان ہیں یا مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں رہنے والے 25 کروڑ مسلمان آج پھر اس دوراہے پر آن کھڑے ہوئے جہاں ان کے لئے عزت کے ساتھ موت ہے یا پھر ذلت کے ساتھ زندگی ہے۔ 70 سال بعد ان سے سوال کیا جار ہا ہے کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو بتائیں آپ واقعی صدیوں سے بھارت میں رہتے چلے آ رہے ہیں؟

بھارت کی تین ہزار سال تاریخ ہے۔ ان میں 13 سو سال مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اگر مسلمانوں کی تہذیب دیکھی جائے تو بھارت کی تاریخ ساری مٹ جائے۔ مسلمانوں کا ورثہ اب ہندوستان کا حصہ بن چکا ہے۔ دنیا اور انڈیا کی سیکولرازم کو دیکھیں تو مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے۔ آج یہ نظریہ غرق ہو چکا ہے کہ مسلمان اور ہندو ایک ملک میں رہ سکتے ہیں۔ قائداعظم کا دو نظریہ کا ویژن سچ ثابت ہو گیا۔ تاریخ کو دیکھیں دنیا میں جہاں بھی سیکولرازم حکومتیں ہیں، وہ دوسروں کے لئے سیکولرازم ہو سکتی ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے۔

اوریا مقبول جان نے برطانیہ کی تاریخ کا بھی حوالہ دیا۔ پاکستان اور بھارت کی تخلیق کے بعد کانگریس نے دلت، سکھ ، مسلمان اور ہندوؤں سب کو تسلی دی کہ ہم یکساں رویہ رکھیں گے۔ اس وقت ایک دکھاوا کی صورتحال تھی۔ 1969ء میں پہلے فسادات بی جے پی کے زمانے میں گجرات میں ہوئے۔ اس میں 45 ہزار دکانیں جلائی گئیں اور 3 ہزار لوگ مار دیے گئے۔ اگلے فسادات 1965ء میں ہوئے۔ بھارت کی تاریخ ان کے سیکولر ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیتی ہے۔

معروف خطیب اوریا مقبول جان نے کہا کہ یاد رکھیں ٹرمپ ہو، بورس جانسن ہو یا یورپ کے متعصب لوگ ہوں، ان میں اور مودی میں کوئی فرق نہیں۔ وہ زمانہ آگیا ہے۔ جس کے بارے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ امت دو خیموں میں بٹنے والی ہے۔ اب سیکولرازم کا دور چلا گیا۔ اب ثابت کرنا پڑے گا۔ مسلمان ہیں یا مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

واضح رہے کہ اوریا مقبول جان کے والد مشرقی پنجاب (بھارت) کے شہر امرتسر میں پیش امام تھے اور تقسیم کے فسادات میں مغربی پنجاب کے شہر گجرات منتقل ہوئے۔ اوریا مقبول جان ایک معروف سیاح بھی ہیں۔ انہپں اپنے علمی اور دیگر اشغال کے دوران یورپ اور شمالی امریکا کے وسیع مشاہدات کی بنا پر وقیع مقام حاصل ہے۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *