شاہ محمود قریشی صاحب! کچھ سامان پلیٹ فارم پر رہ گیا


20 دسمبر 2019 کو امریکی وزیر ِ خارجہ کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس بیان میں نو ممالک میں مذہبی آزادی کی صورت ِ حال کو تشویشناک قرار دیا گیا۔ ان ممالک میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے ایک بیان جاری فرمایا۔ اس بیان میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے یہ خوش خبری سنائی کہ پاکستان میں تمام عقائد کے لوگوں کو آئینی تحفظ کے تحت مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اور ملک کی انتظامیہ، قانون ساز ادارے اور عدلیہ مسلسل اس بات کو یقینی بنانے کے لئے جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل الجزیرہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری صاحبہ نے بھی تقریباً اسی قسم کے موقف کا اظہار کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی صاحب کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ’ہم سب‘ پر مجاہد علی صاحب کا ایک کالم شائع ہوا۔ اس کالم میں مجاہد علی صاحب نے معین مثالیں پیش کیں کہ شاہ محمود قریشی صاحب کے بیان کا پاکستان میں زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجاہد علی صاحب نے معین مثالیں پیش کیں۔ خاکسار چند اصول پیش کرے کا جن کا تعین ہم نے خود کیا تھا۔

یہ جاننے کے لئے کہ ہم اپنی منزل پر پہنچے کہ نہیں پہنچے، سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہماری منزل کیا تھی؟ جب پاکستان کی خالق سیاسی جماعت نے اپنی جد و جہد کا آغاز کیا تو مذہبی آزادی کے حوالے سے مسلم لیگ نے کس منزل کا تعین کیا تھا؟ یہ تو ضروری ہے کہ ہمارے موجودہ قوانین اور حکومت کا عمل ان اقدار کے مطابق ہو جن کا تعین ہم نے خود کیا تھا، اس سے زیادہ یہ ضروری کہ ہمارے موجودہ معاشرے کا رویہ بھی انہی اقدار کے مطابق ہو۔

جب ہندوستان میں نئے قوانین بنانے کی بحث چھڑی تو 1925 میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پانچ شرائط پیش کی گئیں۔ ان کو ایک قرارداد کی صورت میں پیش کیا گیا کہ جب تک یہ پانچ شرائط پوری نہیں ہوں گی مسلم لیگ نئے آئین کو قبول نہیں کرے گی۔ ان میں سے چوتھی شرط یہ تھی کہ مکمل مذہبی آزادی دی جائے۔ تمام مذاہب اور فرقوں سے وابستہ لوگوں کواپنا عقیدہ رکھنے، عبادت کرنے، مذہبی رسومات ادا کرنے، اپنے مذہب کاپراپگنڈا کرنے، تنظیم بنانے اور مذہبی تعلیم دینے کی آزادی کی ضمانت دی جائے۔ اس موقع پر جن لیڈروں نے ان شرائط کے حق میں تقاریر کی تھیں اُن میں سے ایک قائد ِ اعظم محمد علی جناح بھی تھے۔

پھر 1928 میں اسی بات کا اعادہ کیا گیا کہ ہمیں نئے قوانین اسی وقت منظور ہوں گے اگر ان میں اپنا عقیدہ رکھنے، عبادت کرنے، مذہبی رسومات ادا کرنے، مذہبی پراپگنڈا کرنے، تنظیم بنانے اور مذہبی تعلیم دینے کی آزادی کی ضمانت دی جائے۔ اور یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ مرکز کی قانون ساز اسمبلی کو یا کسی بھی صوبائی اسمبلی کو اس بات کا اختیار نہیں ہوگا کہ کسی طرح بھی ان مذہبی آزادیوں کو کم کرنے کا قانون منظور کریں۔

اور اس قرارداد میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ہر فرد اور ہر گروہ کو اپنا مذہب تبدیل کرنے اور اسے پھر تبدیل کرکے پرانا مذہب اختیار کرنے کا حق ہوگا اور ہر گروہ اور ہر فرد کو اس بات کا حق ہوگا کہ وہ دلائل کے ساتھ اور قائل کر کے کسی اور کو تبدیلی ِ مذہب کے لئے تبلیغ کرے لیکن جبر اور ناجائز ذرائع کا استعمال نہیں ہونا چاہیے [ملاحظہ کریں یہاں ہر فرد اور ہر گروہ کا ذکر ہے صرف اکثریتی مسلک کا ذکر نہیں کیا گیا]۔ اور اس اجلاس میں بھی قائد ِ اعظم محمد علی جناح موجود تھے اور ان کی تائید کے ساتھ یہ قرارداد منظور کی گئی۔

پھر مسلم لیگ نے 1931 کے سالانہ اجلاس میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی :

” ہم دوبارہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ کوئی آئین مسلمانوں کو اُس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک وہ اس بات کا تحفظ نہیں کرتا اور اس کی ضمانت نہیں دیتا کہ مذہب کا اعلان کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کو پھیلانے کی اور اس کی تعلیم دینے کی آزادی ہو گی۔ “

اس جد و جہد کا مرحلہ بھی گزر گیا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ اور قائد ِ اعظم محمد علی جناح پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ منتخب ہونے کے بعد آُ نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی جو پہلا خطاب فرمایا اس میں یہ بھی واضح کیا کہ ایک ریاست پہلا فرض کیا ہے؟ اور آپ نے اعلان کیا

” بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ حکومت کا پہلا فرض امن کو قائم رکھنا ہے تاکہ حکومت اپنے شہریوں کی زندگیوں، ان کی املاک اور ان کے مذہبی عقائد کی مکمل حفاظت کر سکے۔ “

یہاں پر ایک موازنہ مناب ہوگا۔ جب مسلم لیگ اپنی جد و جہد کر رہی تھی، اسی دور میں کانگرس بھی اپنی جدو جہد کر رہی تھی۔ اور کانگرس بھی آئندہ آئین کے بارے میں اپنے نظریات کا اعلان کر رہی تھی۔ 1931 میں کانگرس نے بھی ایک قرارداد منظور کی اور اس میں مذہبی آزادی کے حوالے سے لکھا تھا

Every citizen shall enjoy freedom of conscience and the right freely to profess and practice his religion، subject to public order and morality۔

یہاں یہ پہلو قابل ِ غور ہے کہ اس قراردا د میں مذہب کا اعلان کرنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی کا ذکر ہے۔ لیکن اپنے مذہب کا پراپگنڈا یا تبلیغ کرنے کی آزادی کا ذکر نہیں ہے۔ اور نہ ہی تبدیلی ِ مذہب کی اجازت کی ضمانت کا کوئی ذکر ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کی قراردادوں میں ان دونوں امور کی بھی ضمانت دی گئی تھی۔ اور کانگرس کی قرارداد میں مذہبی آزادی کو امن ِ عامہ اور اخلاق کے تابع رکھا گیا تھا جبکہ 1931 میں ہی مسلم لیگ کی قرارداد کو اس طرح مشروط نہیں رکھا گیا تھا۔ جب ہم نے آئین بنایا تو کانگرس سے بھی آگے بڑھ کر مذہبی آزادی کو ”قانون، امن ِ عامہ اور اخلاق“ کے پابندکردیا۔

سوال ہے یہ ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں وہ برداشت اور مذہبی آزادی نظر آتی ہے جس کا اعلان مسلم لیگ کی قراردادوں میں کیا گیا تھا۔ کیا باربار عبادت گاہیں نذر ِ آتش نہیں کی گئیں؟ یہ تو مذہبی رواداری نہیں کہ اگر کوئی ہمارے مسلک کی تبلیغ کرے تو ہم کہیں یہ مذہبی آزادی ہے۔ اگر کوئی عیسائی یا ہندو اپنے مذہب کی تبلیغ کرے تو ہم مرنے مارنے پر اُتر آئیں۔ اگر کوئی اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارا عقیدہ اپنائے تو ہم واہ واہ کریں اور کوئی ہمارا عقیدہ چھوڑ کر ہندو یا عیسائی وہ جائے تو ہم اسے گردن زدنی قرار دیں۔

بار بار پاکستان میں قتل ِ مرتد کی سزا کا مطالبہ کیا گیا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کے لئے سفارش بھی کی۔ کم از کم ایک مسلک کی تبلیغ پر پابندی تو قانون میں بھی لگائی گئی۔ ہم بھول گئے کہ ہندوستان میں ہر عقیدہ کی تبلیغ اور تبدیلی ِ مذہب کے حق کا مطالبہ سب سے پہلے مسلم لیگ نے کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی صاحب، شیریں مزاری صاحبہ اور دیگر وزراء سے گزارش ہے کہ ہمیں تنگ نظری کی ٹرین پر چڑھنے کی اتنی جلدی تھی کہ ہم اپنے بزرگوں کی میراث ماضی کے پلیٹ فارم پر ہی بھول گئے۔ اب ہمیں اپنی اصلی اقدار کی طرف واپسی کا سفر شروع کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS