نظریہِ اپیل: آ بیل مجھے مار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آخر میں نے اس بوڑھی عورت کو ہی قتل کیوں کیا، کیا وجہ تھی کہ صرف اسے ہی قتل کیا؟ اگر قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو میرے اطراف لاکھوں افراد گھومتے ہیں، میں کسی کو بھی مار دیتا، لیکن صرف اسی بوڑھی عورت کو کیوں کیا؟

اور یہ کیا وجہ ہے کہ میرے خوابوں میں اس شرابی کی بیٹی سونیا ہی آتی ہے جو مجھے اپنے جسم کے بہت قریب لگتی ہے جس کے باپ کی میں نے مدد کی تھی، حالانکہ اس سے ہزاروں گنا خوبصورت میری بہن دُونیا ہے، وہ کیوں نہیں میرے خوابوں میں آتی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ گروی پر چیزیں رکھ کر انتہائی کم قیمت دینے والی بوڑھی مجھے غیر ارادی طور پر اپیل کر رہی تھی کہ میں اسے قتل کردوں؟

سونیا، آنکھوں آنکھوں میں مجھے اپنے قریب آنے کی اپیل کرتی ہے جبکہ میری سگی بہن نہیں کرتی۔ کہیں یہ اپیل کرنا ہی تو اہم نہیں ہے؟ ”

اس طرح کے خیالات مشہور روسی ناول نگار دوستوفسکی اپنے ناول ”کرائیم اینڈ پنشمینٹ“ میں اپنے ناول کے اہم کردار ”راسکولنیخوف“ کے دماغ سے اگلوا کر ہمیں بتا رہا ہے جو کہ زار شاہی کے ذلیل ترین دور میں غربت کا مارا شہر میں پڑھنے کے لیے آتا ہے جس کی ماں اور بہن گاؤں میں محنت مزدوری کرکے اسے پیسے بھیجتی ہیں۔ یہ راسکولنیخوف اپنا خرچہ پورا کرنے کے لیے چھوٹی موٹی چیزیں اور آخر میں باپ کی گھڑی تک ایک بوڑھی عورت کے پاس گروی رکھ کر کام چلاتا ہے، اور پھر وہ اس بوڑھی عورت کو قتل کر دیتا ہے۔

مزے کی بات قتل کا کوئی بھی ثبوت کسی کو نہیں ملتا لہٰذا یہ بچا ہوا ہوتا ہے لیکن اس کے اندر احساسِ جرم اسے دیمک کی طرح کھائے جاتا ہے اور جب یہ سمجھ جاتا ہے کہ بغیر سزا کے اس کی زندگی پل پل میں تباہ ہو رہی ہے تب وہ خود کو قانون کے حوالے کرتا ہے۔ اور پھر مندرجہ بالا خیالات سوچتا ہے۔

بات بڑی کمال کی ہے۔ سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ ”چکنے چہرے والی کے گال کھنچوانے کے لیے تیار رہیں“۔

کیونکہ ان میں ایک طرح کی اپیل موجود ہوتی ہے جسے ہر دیکھنے والا محسوس کرتا ہے۔

آپ نے دیکھا، ہر قتل ہونے والا اپنے قاتل کو اپیل کرتا رہتا ہے کہ آؤ مجھے مارو۔ ورنہ تمہاری خیر نہیں ہوگی!

آپ نے دیکھا ہے کہ حسین انسان کا حُسن اس کا دشمن ہوتا ہے، کیونکہ پھر وہ سب کی نگاہوں میں غیر ارادی طور پر انہیں اپیل کرتا ہے۔

آپ نے کچھ برس پہلے یہاں قندیل بلوچ دیکھی تھی، اس کی ادائیں، ہر وڈیو میں اس کی طرف سے اپیل تھی۔ پرائے اسے اپنی آغوش میں بھرنے کے خواب دیکھتے تھے تو اس کے اپنے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی جستجو میں رہنے لگے تھے۔ اور پھر کیا ہُوا؟ سب کو معلوم ہے۔

دولتمند آدمی کی دولت اس کی دشمن ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کی دولت دوسروں کو اپیل کرتی ہے۔

ذہین انسان کی ذہانت اس کی دشمن ہوتی ہے، کہ ہر جاہل اس کے پھر درپے ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی ذہانے سے کئی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کی ذہانے دوسروں کو غیر ارادی طور پر اپیل کرتی ہے کہ اسے پاگل بنا دیا جائے۔ ورنہ جاہلوں کا مارکیٹ بند ہوجائے گا۔

انتہائی باریکی سے غور کریں تو یہ اپیل ہی ہوتی ہے جو خوشبو کی طرح پھہل جاتی ہے، جسے اپیل کرنے والا ہزار بار چاہے لیکن اپنی حد تک مقید نہیں کر سکتا!

تاریخ میں ایسی قومیں ہر پل وقت کے عذاب میں ہوتی ہیں جن میں فطرت نے کُوٹ کُوٹ کر قدرتی وسائل بھر رکھے ہوئے ہیں۔

کیوں؟ کیوں کہ وہ غیر ارادی طور پر سامراج کو اپیل کرتے ہیں کہ آؤ اور ہمیں لُوٹو!

یہ اپیل کی فلاسافی بڑی پیچیدہ ہے۔ اسے سمجھنا ہوگا۔ اور سمجھ کر پھر اس کو فضیلت کے ساتھ اس کی پاسداری کرنی ہوگی۔

ورنہ سندھی والی کہاوت ”بیری پک جائے تو پتھر تو لگیں گے! “ کیونکہ وہ بیری باہر سب کو اپیل جو کرتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *