عمران خان کو میاں منشا کی دھمکی کی وجہ سے نیب کے معاملے پر یو ٹرن لینا پڑا
سینئر صحافی ہارون رشید نے نیب آرڈنینس میں ترامیم پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ”کاروباری شخصیت میاں منشا کی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے ملاقات کی جو نہیں چاہتا کہ اس کا نام لیا جائے۔ میاں منشا نے ان سے کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں سینئر صحافی ہارون رشید سے سوال کیا گیا کہ ”نیب آرڈنینس میں ترامیم سے حکومت کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی فائدہ ہو گا لیکن پھر بھی اپوزیشن ناراض ہے جبکہ ان ترامیم کو این آر اوز کی ماں کہا جا رہا ہے؟ ہارون رشید نے میزبان کا سوال سن کر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اپوزیشن ناراض نہیں ہے بلکہ وہ سیاست کھیل رہی ہے۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہیں لیکن خان صاحب نہیں سمجھتے۔ آرڈنینس میں ایک مرتبہ 120 د ن اور دوسری مرتبہ 240 دنوں کی توسیع ہو سکتی ہے جو کہ تقریبا آٹھ مہینے بنتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں آرڈنینس کو پارلیمنٹ میں لانا ہی پڑے گا جس پر وہ مزید مطالبات پیش کریں گے۔
ہارون رشید نے دعویٰ کیا کہ کاروباری شخصیت میاں منشا کی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے مل کر کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ یہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔ اخلاقی طور پر یہ معاشرہ بدحال ہے۔ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ یہ کردیں گے وہ کر دیں گے، پہلے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کا خوف ہونا چاہیے، تعلیم ہونی چاہیے، پولیس ٹھیک ہونی چاہیے لیکن وہ تو آپ نے کیا ہی نہیں، اب اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ہارون رشید کا کہناتھا کہ حکومت نے غلط حکمت عملی اختیار کی اور چڑھ دوڑے۔ آپ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ احتساب کا طریقہ کیا ہے۔ احتساب کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ پولیس، نیب اور ایف آئی اے کو بلاتے اور کہتے کہ آپ قانون کے دائرے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ احتساب یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی قصور وار ہے تو پکڑ لیا جائے اور اگر کوئی بے قصور ہے تو وہ ہر روز صبح سے شام تک عمران خان کے خلاف تقریریں کرتا رہے تو وہ آزاد پھر رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ آپ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ احتساب ہو گا اور مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا، دوسری طرف پولیس افسروں کی تقرریاں ساری سفارش پر ہوتی ہیں، آپ کے تین وزیر ایسے ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں، جن میں خسرو بختیار، علی زیدی اور فیصل واوڈا شامل ہیں، اور الزام ہے کہ ان کی جائیدادیں ہیں، انہوں نے ٹھیکے دیے ہیں، الزام تو الزام ہوتا ہے جب تک ثابت نہ ہو۔
ان کا کہناتھا کہ خسرو بختیار کی تین شوگر ملیں ہیں، وہ آسمان سے ٹپکی ہیں؟ اس کی فولاد کی خفیہ فیکٹری ہے؟ اس کے پیسے بچے دیتے ہیں؟ اگر کسی کے کھیت میں ایک لاکھ روپے کا گنا پیدا ہوتا تو کیا اس کے کھیت میں دس لا کھ کا ہوتا ہے؟ ہارون رشید نے کہا کہ علی زیدی پر الزام ہے کہ اس کے اثاثے اس کے وسائل سے بہت زیادہ ہیں، تو آپ یہ بتائیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے، غلط ہے؟ اور اگر وہ پاک صاف ہیں تو اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے؟ یہ تو خوبی ہے کہ انہوں نے جائز پیسے سے تین شوگر ملیں لگائیں۔ ہارون رشید کا کہناتھا کہ اگر فیصل واوڈا نے کوئی غلطی نہیں کی تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ ملوث ہیں اور انہوں نے پیسہ بنایا ہے تو نیب اور ایف آئی اے کیا کر رہی ہیں۔ احتساب اپنوں سے شروع ہوتا ہے۔


