نیب قانون میں ترمیم، پہلا قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی جانب سے نیب قانون میں ترمیم حزب اختلاف کے ہدف تنقید پر ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں باہمی آویزش اور مخاصمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر چیز متنازعہ بن جاتی ہے۔ ویسے بھی جہاں پوری سیاست چند افراد کے ذاتی مفادات کی آبیاری کرتی ہو تو وہاں بے سروپا تنازعات ہی جنم لیتے ہیں۔ جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی اور عناد میں بدل جائے تو پھر کسی قانون کے میرٹ اور ڈی میرٹ کو پرکھنے کی بجائے تنقید برائے تنقید ہی ایک آسان حل ہے۔

نیب قانون میں ترمیم پر اب تک جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اس ترمیم سے کسی خاص شخص کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ترمیم کا عمومی جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں کہ اگر کاروباری افراد نیب کی کارروائیوں سے ہراساں تھے اور انہیں اس سلسلے میں ریلیف دیا جا رہا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ اگر ماضی میں نیب کے قانونِ سے کاروباری افراد میں خوف و ہراس پھیلا اور اب اس قانون میں ترمیم کر کے اصلاح کرنے جا رہی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ماضی میں غلط ہوا اور اس پر اصرار کہ آگے بھی غلط ہو تو یہ ایک قطعی طور پر بے معنی دلیل ہے۔ ایک بات شدو مد سے پیٹی جا رہی ہے کہ اس ترمیم سے وزیر اعظم عمران خان کے کاروبار ی دوستوں کو فائدہ ملے گا۔ بالکل ملے گا لیکن کیا فقط خان صاحب کے کاروباری دوستوں کو ریلیف ملے گا یا سب ہی اس سے فیض یاب ہوں گے۔ کراچی میں بزنس مین کمیونٹی کی کئی تقریبات میں کاروباری افراد عرصہ دراز سے نیب کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے دہائیاں دیتے آرہے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق نیب میں ترمیم سے جہاں پرویز خٹک، وزیر اعظم کے سیکرٹری اعظم خان کو فائدہ ہوگا تو اس کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، ریاض پیرزادہ جو اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں بھی فائدہ ہو گا۔ اپوزیشن کی جماعتیں جب اس ترمیم کو ”مدر آف این آر او“ قرار دیتی ہیں تو یہ عجیب لگتا ہے۔ نیب کا قانون دور آمریت کا قانون ہے اور آمریت کی نشانیاں بہت عرصے کے بعد معدوم ہوتی ہیں۔

اپوزیشن کی جماعتیں اس قانون کے خلاف بے شک مزاحم ہوں لیکن اگر اس میں کچھ بہتری ہونے جا رہی ہے تو مخالفت برائے مخالفت کی نذر نہ کریں۔ نیب قانون میں مزید بہتری کے لیے کوشش کریں وگرنہ یہ قانون سیاسی مخالفین کے گلے میں شکنجے کی طرح کسا رہے گا۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی اج نیب قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن ان کا ماضی ان کے حال سے لگا نہیں کھاتا۔ جب پیپلز پارٹی مرکز میں برسر اقتدار ہوئی تو اٹھارویں ترمیم کے وقت نواز لیگ سے کہا گیا کہ لگے ہاتھوں دور مشرف کے نیب قانون کو بھی آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کر دیتے ہیں لیکن نواز لیگ کے دماغ پر اس وقت پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت سے دشمنی سوار تھی اور ان کے دل میں کہیں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ نواز لیگ اقتدار میں آکر اسی قانون کے ذریعے پیپلز پارٹی کی قیادت کا احتساب کرے گی۔

نواز لیگ نے اس پر پس و پیش سے کام لیا اور یہ قانون اپنے تمام تر جبر و قہر کے ساتھ قائم رہا۔ نواز لیگ جو گڑھا پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے کھودنا چاہتی تھی اس میں خود گر گئی اور آج تک اس میں اوندھے منہ پڑی ہے۔ مجھے یاد ہے جب پارلیمان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاسوں میں نواز لیگ کی اراکین نیب قانون میں ترمیم کے خلاف مزاحم ہوتے تھے۔ وہ دور گزر گیا تو پھر نواز لیگ کے سروں پر اسی قانون کے تحت وہ تلوار ٹوٹی کہ احتساب کی بجائے انتقام کی بو آنے لگی۔

نواز لیگ کے ساتھ احتساب کے نام پر بلاشبہ زیادتیاں سرزرد ہوئیں جس نے احتساب کے پورے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر آج ایک ترمیم سے کاروباری افراد کو فائدہ ہو گا تو قانون کی جانب سے دیا گیا یہ ریلیف بلا تخصیص ہر ایک کو حاصل ہو گا۔ اگر شہباز شریف ضابطے میں کوتاہی کی وجہ سے نیب کی گرفت میں آئے تو نواز لیگ کی یہ خواہش عجب ہے کہ مالم جبہ کیس میں پرویز خٹک بھی نیب کی حراست میں ہو۔ ایک غلط کام ہوا تو دوسرے غلط کام کو اس سے سند جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

سن 2019 گزر گیا اس برس جو کچھ پاکستان کے قومی سیاست نامے پر ظہور پذیر ہوا اسے کسی صورت حوصلہ افزا نہیں قرار دیا جا سکتا۔ سن 2020 میں اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کو ذاتی عناد و دشمنی کے تنگ دائروں سے نکل کر وسیع تو قومی مفاد کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہو گا۔ اپوزیشن کے خلاف احتساب جو انتقام کی حدوں کو بعض اوقات چھونے لگتا ہے اس سے ملک کے سیاسی شعبے میں کوئی بہتری آئی ہے اور نہ ہی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی اس سے بڑھ پائی ہے۔

اس کی ایک مثال رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کا کیس تھا جس میں حکومت کو سبکی ہوئی۔ حکومت کو احتساب احتساب کا راگ الاپنے کی بجائے اپنی توانائیاں ملک کی معاشی اور سماجی ترقی پر صرف کرنی چاہئیں جو اس وقت بد ترین صورتحال کا شکار ہیں۔ معاشی و سماجی ترقی کا معیار ایک عام فرد کی حالت زار ہوتی ہے جو بدقسمتی سے موجودہ دور میں بہت بری ہو چکی ہے۔ حکومت کے وزراء معاشی اعشاریوں کے جو اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں وہ ان کانوں نے ماضی میں بھی کئی بار آنے لیکن عام فرد کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

اپوزیشن بھی مخالفت برائے مخالفت کے محدود دائرے سے نکلے اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے۔ ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اگر نیب قانون میں ترمیم سے ذرا سی بہتری آئی ہے تو اسے قبول کرے۔ آج کاروباری افراد کو فائدہ پہنچے گا، ہو سکتا ہے کل اس کا دائرہ کار وسیع ہو جائے اور ایک وقت ایسا ان پہنچے کہ تمام سیاسی قوتیں دور آمریت کے نیب قانون کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر کمر بستہ ہو جائیں۔ چینی کہاوت ہے کہ ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ نیب قانون میں ترمیم کو پہلا قدم ہی سمجھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *