با ذوق قارئین کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنے اور پڑھنے والے کی جہاں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو پڑھنے اور سننے والے کافی تعداد میں ہوں وہاں یہ ارمان بھی ہوتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے باذوق بھی ہوں۔ ”ہم سب“ کے ایک لکھاری نے کچھ عرصہ پہلے ایک آرٹیکل ”عبد السلام کی بیٹی اٹلی کیوں نہ جا سکی“ لکھا تھا۔ لکھنے والے نے اس میں اپنی ایک کلاس فیلو لڑکی کا حال لکھا تھا۔ مضمون نگار اپنی اس کلاس فیلو کو اس کی فزکس میں مہارت اور دلچسپی کو دیکھ کر ”عبد السلام کی بیٹی“ کے لقب سے پکارتا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی سائنسدان ڈا کٹر عبد السلام کو فزکس میں ان کی خدمات کی وجہ سے نوبل پرائز ملا تھا۔ مذکورہ لڑکی کو یہ لقب اسی نسبت سے دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے اس کا نام بھی کوئی اور ہوگا اور وہ ڈاکٹر عبدالسلام کی حقیقی بیٹی بھی نہیں تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اٹلی جانا چاہتی تھی، لیکن ایک افسوس ناک سانحہ میں وہ اپنے خاوند کے ساتھ قتل ہو گئی اور یوں وہ اٹلی نہ جا سکی۔ اس آرٹیکل کو لکھنے والے نے اس قتل پر اپنے دکھ کا شدت سے اظہار کیا۔

اس مضمون نگار کے مطابق اس لڑکی کی والدہ، والد اور بھائی اس قتل کے بعد خوف کے عالم میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ اس لڑکی کی والدہ غالباً لاہورمیں کسی یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں اور امریکہ شفٹ ہو کر مجبوراً کسی جگہ کیشئر کی نوکری کرتی تھیں۔ کسی پڑھنے والے نے مضمون نگار کو اپنے تبصرے میں جھوٹا قرار دیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی کسی بیٹی اور داماد کا قتل نہیں ہوا نہ ان کا خاندان امریکہ شفٹ ہوا اور نہ ہی ان کی بیوی نے وہاں ایسی کوئی نوکری کی۔ ”عبدالسلام کی بیٹی“ کی روح عالمِ ارواح میں ضرور تڑپی ہوگی۔

بہت عرصہ پہلے ایک صاحب نے ایک قومی اخبار کے ”ایڈیٹر کے نام خطوط“ والے شعبہ میں ایڈیٹر صاحب کو ایک مراسلہ بھیجا کہ آج کل سینما گھروں کے باہر بڑے فحش قسم کے اشتہاری پوسٹر لگے ہوئے ہیں جس سے نوجوانوں کی اخلاقیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایڈیٹر صاحب کو یہ مراسلہ بہت پسند آیا، انہوں نے اسے اخبار کے ہفتہ وار شائع ہونے والے ”ثقافتی صفحہ“ میں مرکزی مضمون کے طور پر شائع کر دیا اور اس کی ابتدا یوں کی : ’ہمارے ایک ”قاری“ نے ہماری توجہ اس اہم مسئلے کی طرف دلائی ہے۔ ‘ ظاہر ہے یہاں ایڈیٹر صاحب نے ”قاری“ سے مراد اخبار پڑھنے والا لیا تھا لیکن ایک خاتون نے مضمون پڑھ کر مضمون نگار کی خوب خبر لی کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ ایک ”قاری“ ہو کر آپ سینماؤں کے اندر جھانکتے پھرتے ہیں۔ وہ ان کو قرانِ پاک پڑھنے والا ”قاری“ سمجھی تھی۔ یا اللہ خیر!

آج کل میڈیا میں ”ایک ہی پیج پر“ کی اصطلاح کافی استعمال کی جا رہی ہے کہ حکومت اور مقتدر حلقوں کی اکثر ملکی اور غیر ملکی معاملات میں ایک ہی رائے ہے اور ان پروہ ایک متفق نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے گزشتہ دنوں ایک خاندان کے دو ایسے افراد کو شادی کی ایک تقریب میں ایک ہی صوفے پر ساتھ ساتھ بیٹھے دیکھا جو عام حالات میں ایک دوسرے کے سیاسی مخالف سمجھے جاتے ہیں اور کم ہی اکٹھے بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ ان صاحب کی رگِ ظرافت پھڑکی تو انہوں نے ان کی صوفے پر اکٹھے بیٹھنے کی تصویر لی اور فلاں اور فلاں ”ایک ہی پیج پر“ کے کیپشن کے ساتھ فیس بک پرلگا دی۔ ایک صاحب نے تصویر دیکھی اور تبصرہ کیا ”وہ ایک پیج پر نہیں، صوفے پر بیٹھے ہیں۔ “ تصویر لگانے والا بیچارہ سمجھاتا پھر رہا تھا کہ ”ایک ہی پیج پر“ کا کیا مطلب تھا۔

سننے اور پڑھنے والے کے ساتھ ساتھ اگر کبھی سنانے والا بھی با ذوق نہ ہو بڑی مصیبت کھڑی ہو سکتی ہے۔ اس کا ایک دلچسپ واقعہ جناب رضا علی عابدی (بی بی سی والے ) نے اپنی کتاب ”اردو کا حال“ میں درج کیا ہے کہ ایک شاعر نے جو دراصل شاعر نہیں تھا ایک مشاعرے میں پڑھنے کے لیے مشہور شاعر جناب رئیس امروہوی کے گٹے گوڈے پکڑ کر ایک غزل لکھوا لی اور اسے ایک ایسے مشاعرے میں سنانے کے لیے پہنچ گیا جہاں رئیس صاحب موجود تھے اور اسٹیج پر بیٹھے تھے۔ اس غزل کے ایک شعر کا مصرع تھا :

؎ اے کہ تیری چِتوَن (نگاہ، نظر) سے برہمی برستی ہے

غزل لکھوانے والے کو چاہیے تھا کہ مشاعرے میں پڑھنے سے پہلے ایک بار امروہوی صاحب کو سنا بھی دیتا پر اس نے ایسا نہ کیا۔ اب اس ”شاعر“ نے ”چِتوَن“ کو کچھ اور ہی سمجھا جو یہاں لکھا نہیں جا سکتا۔ جب یہاں لکھا نہیں جا سکتا تو مشاعرے میں پڑھا کیسے جا سکتا تھا؟ چنانچہ شاعر نے اسے انگریزی میں ڈھال کر اپنے حساب سے اس کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی اور لفظ چِتْوَنْ کا جو مفہوم خود سمجھا اس کی انگریزی بنا کر مصرعے میں فٹ کیا اور پورے جوش و خروش سے مشاعرے میں سنا ڈالا۔ چونکہ لفظ کو  غلط سمجھا گیا تھا تو اس کا انگریزی ترجمہ مضحکہ خیز اور سنگین ہو گیا۔

بقول عابدی صاحب کے مصرع پڑھتے ہی سارے مجمع پر سنّاٹا چھا گیا اور بیچارے رئیس امرہوی صاحب کھنکارتے رہے کیونکہ یہ مصرع شاعر صاحب بار بار پڑھ رہے تھے اور امرہوی صاحب کے درست کرانے کے باوجود ویسے ہی دہراتے جا رہے تھے۔

آئندہ جو بھی ”شاعر“ کسی اور شاعر سے غزل لکھوائے اسے چاہیے کہ اصل شاعر کو ایک بار سنا کر تسلی کر لے اور شاعر حضرات سے بھی درخواست ہے کہ عام فہم الفاظ استعمال کیا کریں۔

عبد السلام کی بیٹی اٹلی کیوں نہ جا سکی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *