’ہوا میں مُعلّق تہذیب و ثقافت ”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایات کے بتاتی ہیں کہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے جب مادیوں کے بادشاہ آستیاگس کی بیٹی آمیتس سے شادی کی تو آمیتس نبوکدنضر کے محل کی تمام شان و شوکت کے باوجود اپنے ملک کے کہساروں اور پہاڑوں کو یاد کرکے اداس رہتی۔ اس کا حل نبوکدنضر نے یہ نکالا کہ ایک بلند و بالا محل تیار کروایا جس میں ہوا میں معلق باغیچے بھی بنوائے۔ جن میں سیر کرتے ہوئے ملکہ عالیہ کو پہاڑی علاقوں پہ سیر کرنے کا احساس ہوتا۔ یہ ہوا میں معلق باغیچے اس وقت کے فن تعمیر کا ایک شاہکار تھے جسے دیکھ کر ہر کوئی بادشاہ کے ذوق جمال اور فنکاروں کی ذہانت کی تعریف کیے بنا نہ رہ پاتا۔

یوں نبو کدنضر بادشاہ نے انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی چیز کو اس کی بنیاد اور جڑ سے اکھاڑ کر ہوا میں معلق کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہاں سے بعد میں آنے والے بادشاہوں نے بہت سے سبق سیکھے۔ جن میں سب سے اہم سبق کسی خطے کے لوگوں کو اُن کی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اکھاڑ کر ہوا میں معلق کر دینا تھا۔ یقینی طور پہ یہ وہ تجربہ ہے جو بنوکد نضر کے کارنامے سے کہیں بڑا اور سنگین ہے۔ ان ہوائی تہذیبوں کو بہتر سمجھنے کے لیے ایک لطیفہ سُنیے جو مجھے بے حد پسند ہے اور جس پر میں بے تحاشا ہنستا ہوں اور تب تک ہنستا ہوں جب تک پلکوں کے گوشے پُرنم نہ ہو جائیں۔

تو جناب 1947 سے کچھ سال پہلے کا سین ہے ”پیٹر“ اور ”جیکب“ ایک چوک میں جھاڑو دے رہے ہیں کہ اچانک مسلمانوں کا ایک جلوس ’بٹ کے رہے گا ہندوستان۔ لے کے رہیں گے پاکستان ”کے نعرے لگاتا، غم و غصے سے لبریز جذبات کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ دوسری طرف سے سکھوں اور ہندوؤں کا الگ گروہ نکلتا ہے۔ نعروں، گالیوں، للکار اور یلغار سے سہم کر“ پیٹر ”و“ جیکب ”اپنے جھاڑو اٹھا ایک گلی میں جا چھپتے ہیں۔ یہاں آکر پیٹر، جیکب سے پوچھتا ہے بھائی یہ معاملہ کیا ہے یہ کیوں اتنا شور مچا رہے ہیں۔ اس پر“ جیکب ”جیب سے سگریٹ نکالتا ہے، سلگاتا ہے، لمبا کش لیتا ہے اور پر اعتماد انداز میں کہتا ہے“۔ کاکا بات یہ ہے کہ یہ دونوں گھر مانگتے ہیں آزادی اور ہم لوگ دے نہیں رہے ”

بظاہر یہ مختصر اور بے ضرر سا لطیفہ ہے مگر اس پہ تھوڑا سا غور کریں تو یہ بڑا پیچیدہ اور کرب ناک لطیفہ ہے۔ برصغیر پاک وہند پہ استعمار کاروں اور حملہ آوروں کی سفاکی کی لمبی داستان اس میں مضمر ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے لوگوں کو اپنی مقامی ثقافت اور تہذیب سے توڑ کر مقامی لوگوں کو ”پیٹر اور جیکب“ بنانا اور ہوا میں معلق کر دینا استعمار کار کا خطرناک ہتھیار ہے۔ ( بات یہاں مذہبی عقائد نہیں ہے کیونکہ ہندوستان میں انگریز کی آمد سے کئی صدیاں پہلے سے مسیحیت ہندوستان میں موجود تھی) ۔

یہ وہ ہتھیار ہے جو اس سے پہلے دوسرے مذاہب سے وابستہ حملہ آوروں نے بھی استعمال کیا۔ لوگوں کو اپنی مقامی تہذیب و ثقافت سے بدظن کرکے کسی ایسی تہذیب سے متاثر کرنے اور جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی جو نہ انہوں نے کبھی دیکھی نہ برتی۔ فرانز فینن اپنی کتاب ”افتادگان ِ خاک“ (the wretched on the Earth) اس استعماری حربے کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ استعمار کار ہمیشہ مقامی لوگوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے بد ظن کرتا ان میں احساس ِ کمتری پیدا کرتا اور اپنی تہذیب و ثقافت ان پر مسلط کرتا ہے یوں محکوم قوم زیادہ آسانی سے اور زیادہ دیر تک محکوم رہتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں آج تک مقامی لوگ انگریزوں اور دوسرے حملہ آوروں کی تہذیب کو آئیڈیل سمجھتے ہیں جبکہ مقامی دھرتی کی ثقافت کو گھٹیا اور کمتر خیال کرتے ہیں۔ جو فرانز فینن کی بات کا بعینہ ثبوت ہے۔ آج ان ہوا میں معلق تہذیبوں کی حالت انتہائی تشویشناک صورتحال اخیتار کر چکی ہے۔ ہمارے لوگ مقامی تہواروں، میلوں اور دوسرے سماجی روابط کو مضبوط کرنے والی تقریبات کو ناصرف ترک کر چکے ہیں بلکہ ان کو منانے یا نامنانے کو اس قدر متنازعہ بنایا جا چکا ہے کہ بات قتل و غارت تک جا پہنچتی ہے۔

لہذا اس وقت یہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو مذہب اور تہذیب و ثقافت کے باہمی فرق کو سمجھنا سکھا سکیں۔ تاکہ وہ اس معمولی سی بات کو سمجھ سکیں تہذیب و ثقافت کا تعلق کسی خطے کے لوگوں کی زبان، لباس، خوراک، رہن سہن کے طریقے، بول چال اور شغل اشغال سے ہے۔ جس پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کرنے والے عناصر اس خطے کا موسم اور جغرافیائی صورتحال ہوتے ہیں۔ یہ موسم اور جغرافیہ ہی وہاں کے لباس، خوراک، کھیل، تماشے، ادب اور مزاح کے معیارات طے کرتا ہے۔ یوں تہذیب و ثقافت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا! لیکن بدقسمتی سے ہمارے اہل ِ دانش جان بوجھ کر اس الجھاؤ کو برقرار رکھنے پہ مصر ہیں وہ شاید نہیں چاہتے کہ مذہب اورثقافت کی تفہیم عام لوگوں تک پہنچ سکے۔ بقول شاعر

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سُلجھے

اہلِ دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *