دوستی کی محرومیاں رلا دیتی ہیں
وقت بڑی تیزی سے محو پرواز ہے اور حیات کو درپیش تلخیاں دھیرے دھیرے عیاں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں شب بسری یادوں کے سانجھے یار دھیرے سے جدا منزلوں کا تعین کر اپنی اپنی سمتوں میں چل پڑیں تو پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تنہائیاں سوہانے روح ہوتی ہیں، نئے سرے سے ارادہ سفر باندھنا پڑتا ہے۔
سنا تھا کہ جو لوگ خود کو وقت کے تقاضوں ساتھ نہیں بدلتے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ مشاہدہ اب ذاتی تعلقات میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
یار دوست ذرا پروفیشنل سے ہوتے جا رہے ہیں۔ کل تک ہاسٹل لائف میں دوستوں کے مابین جس قسم کا شغل، تفریح، جگتیں اور پھکڑ پن کا مظاہرہ کیا جاتا تھا اب اس کا عشر عشیر بھی دیکھنا، محسوس کرنا یا اظہار کرنا چاہیں تو صاحب لوگ ذرا ریزرو سے ہو جاتے ہیں۔ شادیوں اور پبلک گیدرنگ پر ملیں تو کھانا نفاست سے کھاتے ہیں، بات بات پر مروت کا اظہار کرتے ہیں۔ خوش گفتار بنے رہتے ہیں، گویا بڑی تیزی سے سیکھتے جا رہے ہیں۔
شاید زندگی اسی ڈگر پر چلتی آئی ہے اور یہی راہ سب اپناتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب سارے لوگ ہی نفاست پسندی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
لیکن میرے جیسے لوگ نہیں سیکھ پاتے، اپنا وہ پھکڑ پن یونہی عیاں کرتے ہیں جس کا اظہار یونیورسٹی لائف میں کیا جاتا تھا۔ اسی طرز کے مذاق سوشل میڈیا پر کرتے ہیں، ویسے ہی انھیں مخاطب کرتے ہیں تو تین طرح کے رسپانس ملتے ہیں۔
1: یار لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
2: یا پھر مہذب انداز میں اپنی سوشل لائف اور نئی دوستیوں کی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے محتاط کر دیتے ہیں۔
3: تیسرے وہ جو شدید ردعمل دیتے ہیں اور گزشتہ یادوں کو لڑکھپن کی فضولیات سمجھ کر آئندہ سے دوستی میں ”نفاست“ کا مطالبہ کرتے ہوئے آئندہ کے لیے وارننگ جاری کرتے ہیں۔
میرا ہر تین صورتوں سے واسطہ پڑ چکا ہے۔ ایسا محسوس کرتے ہوئے ماضی کے جھروکے سے یادیں امڈ امڈ کر آنکھوں کو بھگو دیتی ہیں جب دوستیوں میں کسی طرح کی مروت کا خیال نا رکھنا پڑتا تھا۔
خیر، اک عمر گزر چکی ہے، اپنی طبیعت کا حلقہ احباب میسر رہے تو جو دستیاب سانسیں ہیں وہ اسی طور پر گزار دیں گے۔ اب کہاں سیکھتے پھریں!
بقول احمد فراز صاحب،
ہم ہیں دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل، شوق سفر بھی نہیں جاتا
پس تحریر: زندگی کی دوڑ میں سے کبھی وقت نکال کر چند لمحوں کے لیے بیٹھ جائیں اور سوچنا شروع کریں۔ سوچیں آپ نے کیا کچھ کھو دیا ہے۔ کون سے جاں نثار اور خاکسار دوست احباب اپنے رویوں سے کھو دیے ہیں۔ آپ دوستی کی محرومیوں پر رو دیں گے۔


