پنجاب اسمبلی کے 25 پی ٹی آئی اراکین وزیر اعلیٰ بزدار کے ایما پر عمران خان کے خلاف بغاوت پر تیار ہیں
پنجاب اسمبلی میں25 پی ٹی آئی اراکین نے اپنی ہی حکومت کی خلاف بغاوت کر دی ہے اور یہ بغاوت کسی اور کے کہنے پر نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کہنے پر ہی کی جا رہی ہے۔ معروف صحافی چودھری غلام حُسین ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے ناراض ہو نے والے پنجاب اسمبلی کے حکومتی اراکین کی تعداد 14 تھی، جبکہ ایک وہ ایم پی اے تھا جس کے گھر پر حکومت سے ناراضی کے حوالے سے حلف اُٹھایا گیا تھا، سو اب ان ناراض ارکان کی تعداد 15سے بڑھ کر 24 ہو گئی ہے، مگر ابھی ان کی تعداد مزید بڑھ رہی ہے۔
اس ناراضگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک مہینہ پہلے جو چیف سیکرٹری اور آئی جی تبدیل کیے گئے ہیں، وزیر اعظم عمران نے چند روز پہلے ایک شخص سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں نوکر شاہی اور پولیس میں جن ملازموں کو سفارشوں اور پیسے سے لگایا تھا اُنہیں ہٹا دیا گیا ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ پنجاب نوکر شاہی اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سو انہوں نے بُزدار صاحب کے کہنے پر اسمبلی کے اندر بغاوت کر دی ہے۔ کبھی آپ نے سُنا ہے کہ کسی حکمران پارٹی کے اپنے 25 اراکین اسمبلی اپنی ہی حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ اگر آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہی اختیار دینے ہیں تو پھر وہی جا کر پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کر لیں۔
واضح رہے کہ سندھ سے بھی ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے 19 اراکین اسمبلی مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے 12 اراکین قومی اسمبلی جبکہ 7 اراکین صوبائی اسمبلی وفاقی وزیر علی زیدی کے رویے سے شدید نالاں ہیں۔ ناراض ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کووزیراعظم تک رسائی نہ ہونے کی شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کابینہ میں کراچی کے دونوں وزراء علی زیدی اورفیصل واوڈا ہمارے نمایندے نہیں ہیں۔


