عمران خان کو محتاط رہنا چاہیئے، یہاں کسی منتخب وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی: عارف نظامی


سینئیر تجزیہ نگار عارف نظامی نے عمران خان کو خبردار کیا ہے کہ انہیں ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ آج تک پاکستان میں کسی بھی منتخب ہونے والے وزیراعظم نے آج تک اپنی مدت پوری نہیں کی۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو نے کل سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کو پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں اور عمران خان کی حکومت گرا دیں۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم ہماراساتھ دے تا کہ ہم عمران خان کی حکومت گرا سکیں اور ایک نئی حکومت بنا سکیں۔

اس تناظر مین عارف نظامی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے چاہیئں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کے اتحادی ہی ان کیے لئے مشکلات پیدا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی نشستوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ عمران خان کو ایک مرتبہ پھر جہانگیر ترین کی خدمات حاصل کرنی پڑ جائیں کہ وہ عمران خان کو حکومت برقرار رکھنے کے لئے مزید ارکان اسمبلی لا کر دیں۔

عارف نظامی کا نیشنل اسمبلی کی نشستوں پرتبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اپنی نشستیں 156 ہیں، باقی ان کے پاس اتحادی نشستیں ہیں۔ اپوزیشن کے پاس 159 نشستیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کو وفاق میں حکومت بنانے کے لئے 13 نشستیں درکار ہیں۔ اتحادی نشستوں کی بات کرتے ہوئے عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نیشنل اسمبلی میں ایم کیو ایم کی 7 نشستیں ہیں، مسلم لیگ ق کی 5 ہیں جب کہ بی این پی مینگل کی 4 نشستیں ہیں۔ عارف نظامی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کے ساتھ ایم کیو ایم مل گئی تو عمران خان کے لئے مشکل وقت کا آغاز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بی این پی مینگل کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یوں لگ رہا ہے کہ جیسے وہ بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ عامر لیاقت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھولنا نہیں چاہیئے کہ عامر لیاقت کی جڑیں بھی ایم کیو ایم سے ملتی ہیں۔

سینیئر تجزیہ نگار نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان کو پنجاب سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں حکومت کے پاس 196 نشستیں موجو د ہیں جب کہ اپوزیشن کے پاس 173 نشستیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں حکومت بنانے کے لئے 12 نشستیں چاہیئں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کی 10 نشستیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 4 آزاد کامیاب رکن ہیں۔ عارف نظامی نے کہا کہ آج کل شریف برادران اور چوہدری برادران میں نزدیکیاں بڑھ رہی ہیں۔ عمران خان کو ان بڑھتی نزدیکیوں اور سیاست میں ممکن تبدیلیوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے اور اپنی گرفت اور مضبوط کرنا پڑے گی۔

Facebook Comments HS