ویڈیو نہیں فوٹیج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرانی آیات سے بات کا آغاز کرنے والے وزیر محترم کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے ”ویڈیو اور فوٹیج“ میں فرق کا جملہ کانوں میں پڑا اور میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا کہ یہ وہی وزیر صاحب ہیں جو کچھ مہینوں پہلے تک رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو جنگی ماحول جیسا بتا رہے تھے، ان کے کاروبار کو منشیات کی آمدنی کا ذریعہ بتاتے ہوئے ہمیں ایک منظم نیٹ ورک کے پکڑے جانے کی نوید سنا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں بچوں کے سکولوں میں منشیات پھیل جانے جیسی تشویشناک صورتحال سے بھی آگاہ کر رہے تھے۔

میں بھی خوش تھا کہ منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور میں بہت پرامید تھا کہ شاید اب ہمارے بچوں کے سکولوں میں میں منشیات فروشوں کا نیٹ ورک بھی پکڑا گیا ہو گا، شاید اب ناکوں سے منشیات گزرنا رک گئی ہو گی، شاید اب مسلم لیگ ن کے رہنما بھی منشیات جیسے قبیح الزام میں پھنسے ہیں کہ جس سے نہ صرف چھٹکارہ ناممکن ہوگا بلکہ ان کی نیک نامی کا لبادہ بھی بے نقاب ہو گا۔ ظاہر ہے جو لوگ معاشرے میں قبیح جرائم میں ملوث ہوتے ہیں ان کے چہرے سے شرافت کا لبادہ اترنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ عوام کو بھی پتا لگ سکے جنہیں وہ مسیحا سمجھ رہے تھے وہ تو بہت بھیانک جرائم میں ملوث تھے۔

میں اس لیے بھی پرامید تھا کہ جب ایک پریس کانفرنس میں باوردی افسر صاحب کو اس گرفتاری کی تفصیل بتاتے سنا تھا۔ ظاہر ہے جب انسداد منشیات کا ادارہ (اے این ایف) جو منشیات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس کا سربراہ وزیر محترم کے ساتھ بیٹھ کر کہے کہ ہم نے جنگی ماحول میں رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا ہے اور بیگ میں سے 15 کلو ہیروئن برآمد کی ہے۔ میں کیوں یقین نہ کروں جب قانون اور آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھاتے والے میرے باوردی افسر واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے رہے کہ انہوں نے بھرپور نگرانی کے بعد رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا ہے تو رانا ثنا اللہ سے نفرت محسوس ہونے لگی۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ جب آپ ایک شخص کو کئی ہفتوں کی نگرانی کے بعد گرفتار کریں تو آپ نے ٹھوس دستاویزی ثبوت نہ بنائے ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ انسداد منشیات کا ادارہ جو سالہا سال سے منشیات فروشوں کو پکڑنے کا کام کر رہا ہو، وہ جزیات کا خیال نہ کرے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب انسداد منشیات کا ادارہ ایک ایسی شخصیت کو گرفتار کرنے جا رہا ہو جس کی گرفتاری کے نہ صرف سیاسی اثرات پڑنے ہوں بلکہ اگر الزام عدالت میں ثابت نہ ہو سکے تو ادارے کی اپنی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگ جائیں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو بات مجھ جیسا عام انسان سوچ سکتا ہے وہ ہمارے تجربہ کار افسران نہ سوچ سکتے ہوں۔ اس لیے میں اپنی خوش گمانی میں مبتلا تھا کہ اب رانا ثنا اللہ نہیں بچ سکیں گے۔

میری یہ خوش گمانی حیرت میں بدلنے لگی جب رانا ثنا اللہ کی اہلیہ ببانگ دہل اپنے شوہر کی بیگناہی کی باتیں کرنے لگیں۔ جب مقدمہ عدالت میں چلنے لگا تو میں ہر تاریخ پر ٹی وی لگا کر اس انتظار میں رہتا ہے کہ ابھی تھوڑی دیر میں وہ ویڈیو سامنے آئے گی جس میں رانا ثنا اللہ سے 15 کلو منشیات برآمد ہوتی نظر آئے گی اور رانا ثنا اللہ مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ میری حیرت پریشانی میں بدلنے لگی جب ہر تاریخ پر رانا ثنا اللہ بجائے مجرموں کی طرح شرمسار ہونے کے وہ الٹا نہ صرف وزیر محترم کو جھوٹا کہتے بلکہ باوردی افسر کے کردار پر بھی سوالات اٹھانے لگے اور مطالبہ کرتے کہ لاؤ سامنے وہ ویڈیو جو آپ نے بنائی ہے۔

میں پرامید تھا کہ وزیرمحترم ہمیشہ بات کا آغاز قرانی آیت سے کر کے مجھے آگاہی دیتے تھے کہ ہم نے جان اللہ کو دینی ہے۔ ایسا درد دل اور خوف خدا رکھنے والا شخص کیسے غلط بیانی کر سکتا ہے؟ کیسے ہمیں گمراہ کر سکتا ہے؟ کیسے صرف سیاسی مخالفت پر دن کے اجالے میں ایک من گھڑت واقعہ بنا سکتا ہے؟ آخر کیسے باوردی افسر کو ساتھ بیٹھا کر صرف شخصی عناد میں ایک شخص کو گرفتار کروا سکتے ہیں، آخر کیسے ایک ادارے کے سربراہ صرف حکمرانوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے ادارے کی ساکھ داؤ پر لگا سکتے ہیں۔

مگر آج رانا ثنا اللہ کی ضمانت کے بعد کی توجیہات سن کر میں مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گیا کہ اور سوچنے لگا کہ کیا یہی ہیں ہمارے اخلاقی معیار کہ بجائے یہ ماننے کے کہ ہم سے غلطی ہوئی، ہمارے وزیر محترم مزید الزامات لگانے پر تیار ہیں۔ اس یقین کے باوجود کہ ہم نے جان اللہ کو دینی ہے، وزیر محترم نے جھوٹی کہانی بنا کر ایک بیگناہ کو پھنسانے کی کوشش کی۔ اپنے کوے کو سفید بنانے کے لئے ایک بار پھر قوم کو ”ویڈیو اور فوٹیج“ کے بے بنیاد چکر میں پھنسانے کے لئے ایک نیا گورکھ دھندہ شروع کر دیا ہے یعنی اپنے ایک جھوٹ کو چپھانے کے لئے 100 دوسرے جھوٹ بولنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

مجھے یہ بھی یاد آنے لگا کہ رانا ثنا اللہ کو مشرف کی آمریت میں بھی ایسے ہی نامعلوم افراد میں شامل کیا گیا تھا۔ شاید ہر دور میں رانا ثنا اللہ کا آمرانہ قوتوں کو للکارنا ہی اصل جرم تھا۔ رانا ثنا اللہ ضمانت کیس کے عدالتی فیصلہ میں یہ جملہ ”ہمارے ملک میں سیاسی استحصال ایک کھلا راز ہے“ ہماری 72 سالہ سیاسی تاریخ بیان کر رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ کا یہ بیان ”اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ نہ کبھی ہیروئین استعمال کی، نہ ہیروئین کا کاروبار کرنے والے کسی شخص کی حمایت کی۔ یہی بات اسمبلی میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کروں گا“

سیاسی مخاصمت میں عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ آیت سے بات کا آغاز کرنے والے وزیر، آئین و قانون کی پاسداری کا حلف اٹھانے والے باوردی افسر اور ہر وقت ہاتھ میں تسبیح گھماتے وزیراعظم بھی یہ بھول گئے کہ نہ صرف اللہ نے ہم نے اللہ کو جان دینی ہے بلکہ حکمرانی کا حساب بھی دینا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *