کراچی ایک لاوارث شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قریباً دو کروڑ کی آبادی والا شہرِ کراچی عجیب ”کسمپرسی“ کی حالت میں ہے۔ ہر سیاستدان اور حکمران کی زبان پہ یہ جملے رہتے ہیں کہ ”کراچی معاشی حب ہے“ یا ”کراچی نہیں چلے گا تو پاکستان نہیں چلے گا“ اس کے باوجود کسی نے بھی اس شہر کو ”اپنانے“ کی کوشش نہیں کی۔ ہوتا ہوگا کراچی کسی زمانے میں اچھا ’مگر اب تو اس کا حال برا ہے۔ سڑکوں کی حالتِ زار سے لے کر ٹرانسپورٹ تک اور صفائی کی صورتحال سے لے کر اسٹریٹ کرائمز تک کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے حل کیا گیا ہو یا جسے سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ اب کراچی کے مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ انہیں حل کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ کراچی نے صرف اپنے شہریوں کو ہی نہیں پالا بلکہ دیگر شہروں سے آنے والے پاکستانیوں کو بھی روزگار اور رہائش دی ایسے شہر کی طرف تو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ کراچی اس وقت دو تین اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بری طرح پھنسا ہوا ہے ایک طرف سندھ حکومت ہے جو گذشتہ بارہ تیرہ سالوں سے مسلسل حکومت میں ہے دوسری طرف تحریک انصاف ہے جسے گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں کراچی کی اکیس میں سے تیرہ نشستیں ملی جس کے بعد تحریک انصاف کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ سے نالاں لوگوں نے کھل کر اظہارِ ناراضگی اور تحریک انصاف کو جتوایا۔ بلدیاتی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ جیتی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنا مئیر لاسکے۔ ان تینوں اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری تھی کہ وہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل حل کرتے۔ تحریک انصاف کی حکومت سے امید تھی کہ وہ پہلی دفعہ اقتدار میں آرہے ہیں اس لئے ان میں کام کرنے کا جذبہ ہوگا وہ عوام کی خدمت کو اپنے منشور کے مطابق اپنا نصب العین سمجھتے ہوں گے مگر انہوں نے بھی مایوس کیا اور ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کراچی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔

میری ناقص رائے کے مطابق کراچی کا معاملہ ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ہے اور ایسا کیوں ہے اس کا جواب میں آپ کو دیتی ہوں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ کراچی اس وقت دو تین اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ”فٹبال“ بنا ہوا ہے یہی چیز کراچی کو دوسرے شہروں سے الگ کرتی ہے۔ سندھ میں حکومت بنانے والی جماعت اور کراچی میں زیادہ نشستیں لینے والی جماعت مل کر مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پہ ذمہ داری ڈالتے رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو کراچی کے کچھ مخصوص علاقوں کے علاوہ کبھی کراچی سے ووٹ نہیں ملا اس لئے وہ اسے الگ تھلگ سمجھتے ہیں جب کہ کراچی میں جیتنے والی جماعت تحریک انصاف اور بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والی متحدہ قومی موومنٹ اختیارات نہ ہونے کا رونا روتی رہتی ہیں ’ویسے مئیر کراچی سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ اگر اختیارات نہیں ہیں اور آپ کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہے تو آپ استعفی دینے کی جرأت کیوں نہیں کرتے؟ ‘ اب آپ بتائیے کہ اس ساری کھینچا تانی میں کراچی والے کہاں جائیں کس کو اپنا دکھڑا سنائیں کون ہے جو ہمارے مسائل حل کرے گا؟

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کئی دفعہ کراچی کا دورہ کیا بہت اعلانات کیے کئی وعدے کیے مگر عملی طور پہ کچھ نہیں ہوا کوئی ایک منصوبہ باقاعدہ شروع نہیں ہوا جو بھی ہوا وہ صرف کاغذات کی حد تک رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے بلکہ شاید پہلے سے بھی زیادہ بدترین حالت میں پہنچ گئے ہیں میں کہتی ہوں سب چھوڑیں صرف اس شہر کو صاف ستھرا کردیں مستقل بنیادوں پہ صفائی ہوتی رہے تو بات ہے دو چار مہینے کے بعد کچرا صاف کرنے کی مہم چلانے سے یہ مسئلہ وقتی طور پہ تو شاید حل ہوسکتا ہے مگر مستقلاً نہیں۔

کراچی اس وقت ”شہرِ لاوارث“ بن چکا ہے سب چاہتے ہیں کہ کراچی سے ہمیں ہمارا ”حصہ“ ملے مگر کوئی اس شہر کو اس کا جائز حق دینے پہ تیار نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تیس پینتیس سالوں میں کراچی جو آہستہ آہستہ تباہی کی طرف بڑھا اسے ٹھیک ہونے میں کتنا وقت درکار ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب صحیح کرنے کی شروعات کی جائے یہاں تو شروعات ہی نظر نہیں آتی۔ صرف ایک چیز نظر آتی ہے اور وہ ہیں بیانات۔ بیانات تو بہت بڑے بڑے دیے جاتے ہیں وعدے بھی کیے جاتے ہیں مگر جب ان بیانات اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آتا ہے تو سب ایک دوسرے پہ ذمہ داری ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔

میرے نزدیک سندھ حکومت سے کسی قسم کی بھی توقع رکھنا عبث ہے کیونکہ پیپلز پارٹی جن لوگوں کے ووٹ کی وجہ سے اقتدار میں آئی ان کا حال آج سب کے سامنے ہے جب پی پی نے اپنے ووٹرز کے لئے کچھ نہیں کیا تو ہمارے لئے کیا کرے گی؟ جبکہ تحریک انصاف نے بے حد مایوس کیا ہے کون سا ایسا وعدہ ہے جس سے عمران خان نے یوٹرن نہ لیا ہو لہذا ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے وعدے سے بھی عمران خان نے یوٹرن لے لیا ہے۔ رہی بات متحدہ قومی موومنٹ کی تو اس وقت ان کی اپنی جماعت کی حالت بری ہے وہ ہمارے مسائل کیا خاک حل کریں گے۔

حقیقی معنوں میں اس وقت کوئی ایسی جماعت نظر نہیں آتی جو کراچی کے مسائل کو سمجھے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرے میرے جیسے لوگ تو بس آواز ہی اٹھا سکتے ہیں جو اٹھاتے رہیں گے۔ انشاءاللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قرۃ العین لطیف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *