بھائی شاپر ذرا ڈبل کر دینا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان اپنی سہولت کے لئے جتنی بھی ایجادات کرتا چلا آرہا ہے وہیں اس کے بیشمار فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی سامنے آتے جارہے ہیں۔ بہت ساری ایجادات ایسی بھی ہیں جس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ ہر ایجاد کے منفی یا مثبت پہلو ضرور ہوتے ہیں جن پر نظر رکھنا اور نقصان پہنچانے والے پہلوؤں کو کم سے کم کرنا ہی تحقیق و جستجو کا دوسرا نام ہے۔ بہرحال آپ شہر کی کسی گلی، محلے یا بازار میں جائیں تو کوئی اور شے نظر آئے نہ آئے، ایک چیز ضرور دکھائی دے گی۔

پلاسٹک بیگ کی تھیلی جسے عرف عام میں ”شاپر“ کہا جاتا ہے۔ ان پلاسٹک کے شاپروں نے شہر کی خوبصورتی کو جا بجا زنگ آلود کیا ہوا ہے۔ پولی تھین کے بنے ہوئے شاپنگ بیگ یا شاپر کئی ڈیزائن اور رنگوں میں آ رہے ہیں۔ یہ بڑے نازک اور بے اعتبارے ہوتے ہیں بعض اوقات انسان کے لئے ذلت اور نقصان کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کئی دفعہ بیچ بازار میں کسی شخص کے ہاتھ میں پکڑے شاپر کو پھٹتا دیکھا اور اس میں موجود سامان یہ جا وہ جا اور دوسرے لوگ ایک ایک کر کے اکٹھا کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بات مسلّم ہے کہ مٹی ہر چیز لکڑی، دھات کو کھا کر کچھ عرصہ بعد مٹی بنا دیتی ہے لیکن پولی تھین شاپر نہ تو مٹی میں گلتے ہیں نہ پانی میں گھلتے ہیں بلکہ یہ زمین کو خراب کر رہے ہیں۔ اگر انہیں یکجاء کرکے جلایا جائے تو اس کا دھواں ہوا کی لہروں پر اپنا زہریلا اثر ماحول میں مفت تقسیم کرتا ہے جس سے سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ ابھی تک شاپنگ بیگز یا شاپر کا مقصد بھی نہیں جان سکے۔

یہاں لوگ ایک روپے کی ٹافی کے ساتھ ایک شاپر نہ لے لیں تو انہیں رات کو نیند نہیں آتی۔ شاپروں سے ماحول کو اتنا سنگین مسئلہ لاحق نہ ہوتا اگر ان کا استعمال مناسب مقدار میں کیا جاتا۔ یہاں تو آپ دکان پر جائیں اور ایک ماچس بھی خریدیں تو دکان دار پہلے اسے شاپر میں ڈالے گا پھر آپ سے پیسے لے گا۔ دکاندار کو بھی شاپر دینے کی اتنی ہی عادت پڑی ہوئی ہے جتنی خریدار کو لینے کی۔ روزانہ ہر گھر میں 5 سے 10 شاپر کسی نہ کسی شکل میں آ رہے ہیں اور انہیں تلف کرنے کا فوری کوئی حل نہیں ہوتا۔

ان شاپروں کی وجہ سے شہر کا سیوریج کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے کروڑوں روپے کی لاگت سے بچھائے جانیوالے سیوریج نظام کو شاپروں نے خراب کر دیا ہے۔ مختلف شہری علاقوں میں شاپربیگ سے نالیوں اور سیوریج کا بند ہونا ایک عام سی بات بن چکی ہے گندے پانی کا نکاس بند ہونے کے نتیجے میں علاقوں میں بدبو، گندگی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں برسات کے موسم میں معمولی بارش بھی سڑکوں گلیوں کو ندی میں بدل دیتی ہے۔ اگر آپ سندھ کنارے چہل قدمی یا سیر کے لئے جائیں تو آپ کو دریا کے بیٹوں پر جگہ جگہ ان شاپروں کے ڈھیر ملیں گے۔

یہ پلاسٹک کے لفافے یا شاپر آبی و ارضی جانوروں کے لیے مصیبت بنتے ہیں۔ کبھی وہ کسی پرندے کے حلق میں پھنس کر اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ وجہ یہ کہ پرندے شاپروں کو جیلی فش سمجھ کر چٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حال یہ ہے کہ پرندوں کے مردہ بچوں کے معدوں سے شاپروں کے اجزا نکل رہے ہیں اور اسی طرح یہ پلاسٹک کے شاپر آبی مخلوق کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ان کو ختم کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

ماحول کو آلودہ کرنے میں جس قدر کردار پولیتھین کے شاپر ادا کر رہے ہیں وہ کوئی اورنہیں کر سکتا۔ شاپر کا استعمال شہر میں اس قدر زیادہ ہے کہ بچے چند روپے کی اشیاء خریدیں یا بڑے ہزاروں کی خریدکریں شاپر کو استعمال میں ضرور لایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ دودھ، دہی اور کھانے پینے کی اشیاء کو بھی شاپر میں لانا آسان ترین کام سمجھا جاتا ہے ان اشیاء کو تین چار دہائیاں پہلے گھر سے برتن لے جا کر خریدا جاتا تھا لیکن اب برتن اُٹھانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں جب پلاسٹک کے شاپر ہوا ہی نہیں کرتے تھے تو پھر بھی تو ہر گھر میں ضرورت کی ہر جنس آجایا کرتی تھی تو اب ایسا کیوں ممکن نہیں۔

ماضی میں لوگ بازار جاتے ہوئے اپنے ساتھ کپڑے سے بنا تھیلا ضرور رکھتے تھے۔ بازار میں خریداری ہوتی خصوصا سبزی، پھل وغیرہ لیتے اور اس تھیلے میں ڈلوا لاتے۔ ایک دو کلو وزنی اشیا گاہک کو دینے کے لیے کاغذ یا پرانے اخبار سے بنی تھیلیاں استعمال کی جاتیں۔ شہر میں دکان دار عموماً اخبار میں لپیٹ کر سودا بیچتے تھے۔ کپڑے کا تھیلا بہترین ساتھی اور مددگار ہے کئی عیب چھپاتا ہے۔ اشیاء کو نظر بد سے محفوظ رکھتا ہے سامان کی حفاظت کرتا ہے سوداسلف ڈال کر انسان بے فکر ہو جاتا ہے۔ پلاسٹک کے شاپر کی طرح نہ پھٹنے کا ڈر اور نہ اشیاءکے بکھرنے کا خوف اور نہ ماحول کو متعفن کرنے کا ڈر۔

عرض یہ ہے کہ خدارا اپنے لئے اوراپنے آنے والی نسل کو بہتر ماحول دینے کے لئے حتی المکان کوشش کریں کہ آپ شاپر کا استعمال نہ کریں۔ انفرادی طور پر کی گئی معاشرے کی بہتری کے لئے کوششیں زیادہ بہتر اور موثر ثابت ہو سکتی ہیں بہ نسبت حکومتی اقدامات کے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھر محلے سے اس شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ اگر دکانداران کپڑے کے تھیلے اپنے گاہکوں کو مہیا کریں خریداری پر اشیاء انہیں ڈال کر دیں اور ان تھیلا جات پر دکانوں کی مشہوری اور مصنوعات کی تشہیر کے ساتھ فون نمبر سے مزیّن ہوں تو صفائی کی صفائی دو طرفہ رابطہ اور شاپروں کی تلفی چند دنوں میں ہو جائے گی اور بازاروں میں روزمرہ گونجنے والی آواز بھی نہیں سنائی دے گی کہ ”بھائی شاپر ذرا ڈبل کر دینا“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *