کاکڑ، دنبہ اور وسی بابا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ید بیضا کاکڑ میری بیماری کی خبر سن کر اپنے ساتھ وسی بابے نان کاکڑ کو لے کر عیادت کے لئے آیا تھا۔ گو میں نے عیادت قبول نہیں کی اور واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ عیادت کے لئے آتے ہوئے ڈرائی یا کم از کم تازے فروٹ لانے لازم ہوتے ہیں اس لئے پشین سے آنے والے تیمار دار کے ساتھ اگر چلغوزوں کی بوری یا قندھاری اناروں کی پیٹی نہ ہو تو مجھ جیسا مریض اپنی صحت نہایت گری ہوئی محسوس کرتا ہے۔

خیر ان دونوں نے اچھا دوست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے میرے عیادت قبول نہ کرنے کو بیماری کا شدید حملہ قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے میری حالت پر تشویش کا اظہار کر کے سستے میں جان چھڑا لی۔ مانا کہ چلغوزے آٹھ دس ہزار روپے کلو ہیں اور ایک بوری چند لاکھ کی ہو گی، لیکن ید بیضا کاکڑ نے کون سا بازار سے چلغوزے خریدنے تھے۔ اس نے تو پشین میں اپنے صحن میں لگے درخت کو دو چار مرتبہ ہلانا تھا اور بوری بھر چلغوزے گر پڑتے۔ سستی کے باعث خود ہلانا مشکل تھا تو وسی بابے سے ٹکر مارنے کی فرمائش بھی کی جا سکتی تھی۔

وسی بابا، ید بیضا کاکڑ کو مجھ سے بڑا کاکڑ سمجھتا ہے کیونکہ وہ پشتو بولتا ہے اور میں اردو۔ اسی چکر میں جب ید بیضا کاکڑ نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مشرقی پنجاب میں کاکڑوں کی فاتحانہ آمد کو ایک معمولی سے دنبے کا جھگڑا قرار دے دیا اور ایک من گھڑت کہانی بھی سنا دی تو وسی بابا اسے سچ سمجھ کر اس کہانی پر ایمان لے آیا۔

کہانی وسی بابے کے الفاظ میں کچھ یوں ہے : ”کاکڑ خان کے گھر کوئی بھولا بھٹکا مہمان آ گیا۔ اس نے اس کی خوب تواضح کی اسے اپنے سارے پچیس چھبیس بیٹوں سے ملایا، کہ یہ میرا بیٹے ہیں۔ اس کی خاطر خدمت کی۔ ایک بیٹا بھیڈو ٹائپ تھا کہیں بھیڑیں چرانے نکلا ہوا تھا۔ کھانے کے وقت جب وہ واپس پہنچا تو کاکڑ خان نے مہمان کو بتایا کہ یہ بھی میرا بیٹا ہے۔ ’یہ بھی‘ والا گولہ سیدھا اس بھیڈو افسر کاکڑ کے دل کو لگا۔ کھڑے ہو کر کہا یہ بھی کیا ہوتا ہے کہ یہ بھی میرا بیٹا ہے اچھا تو میں ’بھی‘ ہو گیا۔ اس ’بھی‘ پر ناراض ہو کر وہ ہندوستان چلا گیا۔ پاکستان بنا تو منہ اٹھا کر واپس پاکستان پہنچ گئے ان میں سے کافی سارے کاکڑ۔ ہم سب کا نائب مدیر ( نائب مدیر کے لیے اک بہت برا بلکہ پیارا سا لفظ پشتو میں ہم نے ایجاد کر رکھا ہے ) عدنان ’بھی‘ کاکڑ اسی ’بھی کاکڑ‘ کی لڑی سے ہے۔ “

ید بیضا کاکڑ نے وسی بابے کی نفسیات سے کھیلا تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اپنی اس من گھڑت کہانی میں ڈیری ٹیلز کا عنصر شامل کر دیا جسے سنتے ہی وسی بابا اس پر دل سے ایمان لے آیا۔ اس کا خیال ہے کہ ایک گجر بھینس اور کاکڑ دنبے سے منسوب کر کے کسی قسم کی غلط بیانی نہیں کر سکتا ہے۔

حالانکہ میں نے وسی بابے کو بتایا بھی تھا کہ وہ سب کاکڑ گھوڑے پر بیٹھ کر ہوا میں تلوار چلاتے ہوئے ہندوستان فتح کرنے آئے تھے کیونکہ ادھر پانی پت میں مرہٹوں کو شکست دینی تھی اور کسی دنبے کا ہرگز کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا، مگر ید بیضا کاکڑ نے اسے پشتو میں کچھ کہا اور وسی بابا نے ہمدردی سے مجھے دیکھتے ہوئے چچ چچ کر کے اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی تاکید شروع کر دی۔

اس لئے اپیل کی جاتی ہے کہ وسی بابے کی لکھی ہوئی کاکڑوں کی تاریخ پر اعتبار نہ کیا جائے۔ ید بیضا کاکڑ نے محض تربور (شریکہ) ہونے کا ثبوت دیا ہے اور وسی بابے نے تربوز ہونے کا۔ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ مجھے دنبے کا گوشت پسند نہیں ہے اور بیف یا بکرے کا گوشت پسند کرتا ہوں۔ اس کی کوئی تاریخی بیک گراؤنڈ ہونے کی میں تردید کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1240 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *