رُوحانی طاقتوں کی لڑائی اور نائب ناظم کی اُڑان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے لندن جا کر چند اھم خُفیہ مُلاقاتوں کے بعد، شیڈو کابینہ کے سربراہ کا تاج (نیا ہیٹ) پہن کر مُتبادل وزیراعظم کے سے اعتماد کے ساتھ جب میڈیا سے گُفتگُو کی تو اس میں ایک جُملہ یہ بھی بولا تھا ”اسلام آباد آج کل جادُو ٹُونے کی گرفت میں ہے“ اس جادُو ٹُونے کی ابتداء اُس وقت ہُوئی جب ہمارے آکسفورڈ کے پڑھے سابق ”پلے بوائے“ کی لندن پلٹ دُوسری بیوی سے طلاق کے فوری بعد ”پیرنی“ نے بنی گالہ جا کر کچن سے لے کر چھت تک، اپنے مُرید کے پُورے محل میں دھُونی دی تاکہ بلاؤں کو وہاں سے ”سی آف“ کیا جاسکے۔

اُس کے بعد ”پیرنی“ کی ایڈوائس پر یہاں لاہور میں زمان پارک والا مُرید کا آبائی گھر گرا کر نئے سرے سے تعمیر کیا گیا، اور اس سلسلے میں مدمُقابل رُوحانی قُوت یعنی سلائی مشین فیم باجی کو بھی وہاں سے بے دخل ہونا پڑا، جس نے اپنی گوری ”یہُودن“ بھابھی کو طلاق دلوانے کے لئے بُہت تعویذ گنڈے کروائے تھے۔

اس امر کی تصدیق ”کپتان“ کی اپنی پھُوپھی جو ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ جاوید زمان کی اہلیہ اور اس قدر لبرل، روشن خیال، ماڈرن اور سوشل ہیں کہ ابھی تک جمخانہ کلب میں سوئمنگ کرتی ہیں، نے اپنے قابل اعتماد قریبی حلقوں میں کی ہے کہ کس طرح ”سلائی مشین“ فیم باجی دن رات بھائی کی جان اپنی گوری بھابھی سے چھُڑوانے کے لئے تعویذ گنڈے کرتی رہتی تھی، اور یہ کہ اس فیملی میں توھم پرستی یا دُوسرے لفظوں میں ضعیفُ الاعتقادی کُوٹ کوُٹ کر بھری ہُوئی ہے۔

بہرحال تعویذ پرست ”باجی“ سمیت کسے معلُوم تھا کہ آنے والے دنوں میں ایک پائے کی رُوحانی طاقت سے ان کا پالا پڑنے والا ہے، یعنی ایک ایسی خاتُون ان کے مدّ مُقابل آن کھڑی ہوگی جو خُود تعویذ دھاگے دیتی اور دم کرتی ہے۔

ایک ایٹمی طاقت ریاست کی مسند اقتدار پر بیٹھ جانے والے آکسفورڈ گریجویٹ نے ”آدھا پاکستان“ یعنی مُلک کے سب سے بڑے صُوبے کے تخت پر بٹھانے کے لئے ایک مُنتخب ایم پی اے کا چُناؤ اپنی ”پیرنی“ کے استخارے کی بُنیاد پر کیا۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ ”پیرنی“ نے ”مُرید“ کو بتایا کہ اُس نے اس مقصد کے لئے 3 بار استخارہ کیا مگر ہر بار یہی نام نکلا ہے۔

دُوسری طرف تخت پنجاب کے نئے ”مُنتخب“ ہونے کا شرف حاصل کرنے والے سابق نائب تحصیل ناظم نے ابتداء سے ہی اُڑان بھرنے کی ٹھان لی۔ وُہ ماضی میں لاہور آکر انجینئرنگ یُونیورسٹی لاہور کے ہاسٹل میں اپنے ”گاؤں“ مطلب ہوم ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے جس دوست کے پاس کئی کئی روز ٹھہرا کرتا تھا، پنجاب کا تخت سنبھالنے کے بعد اُسے ایکسیئن سے پروموٹ کر کے ڈپٹی سیکریٹری بنایا اور اب اپنے ساتھ رکھا ہُوا ہے۔ اُن کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ فیاض بُزدار نامی یہی سول سرونٹ ”باس“ کا فرنٹ مین ہے جو ”باس“ کے لئے ”ڈیل“ کرتا ہے۔ ”باس“ کا یہ ”جگری دوست“ جب انجینئرنگ یُونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کا سٹُوڈنٹ تھا اور اپنے موجُودہ ”باس“ کا میزبان ہُوا کرتا تھا، اُن دنوں اسی علاقے یعنی ان کے ہوم ٹاؤن سمیت ضلع ڈی جی خان سے تعلّق رکھنے والے مُتعدّد دوستوں کا ایک گرُوپ ہاسٹل کی کنٹین پر گھنٹوں گپ شپ کیا کرتا تھا مگر۔

اب فیاض بُزدار ان میں سے کسی کا فون تک اٹینڈ نہیں کرتا۔

انہی میں شامل ایک سول سرونٹ بتاتا ہے ”جن دنوں“ بگ باس ”نائب تحصیل ناظم تھے، میں وہیں بطور ایکسیئن تعینات تھا، مُجھے لوگوں نے بتانا شُرُوع کیا کہ آپ کا دوست تو“ کام ”کرنے کے لئے ہزار 2 ہزار بھی آرام سے پکڑ لیتا ہے تو ایک دن میں نے اسے فون کیا اور کہا“ یار اپنے عُہدے کی ویلیُو کا ہی خیال کر لو، ہر عُہدے کی ایک ویلیُو ہوتی ہے اور انسان کا کوئی لیول ہونا چاہیے۔ ۔ وغیرہ وغیرہ ”

اور اب۔ ۔ سابق نائب تحصیل ناظم نے اس قدر رُکھائی برتنا شُرُوع کر دی ہے کہ اس کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے بڑے بھائی نے اس کے رویے سے زچ ہو کر اپنے موبائل فون میں سے اس کا نمبر ہی ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *