جنگل، خواب اور محبت کا قصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواب اور محبت جب ایک ساتھ کسی جنگل میں اکٹھے ہو جائیں تو ایک بہت خوبصورت کتاب کن اکھیوں سے آپ کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔ اپنے ڈھیر سارے آنسو اور مسکراہٹیں لے کر یہ میرے پہلو میں موجود ہے۔ میں اس کی مہک کے حصار میں ہوں۔ یونان کی دلکش فضاؤں کے قصے سناتا یہ ناول صباحت رفیق چیمہ کا من عشق دارم ہے۔ میں نے صباحت کو پہلی بار پڑھا ہے مگر اب لگتا ہے بہت بار پڑھوں گی۔ من عشق دارم سب سے پہلے اپنے دلکش سرورق کے باعث اپنے قاری کو اپنی طرف بلاتا ہے۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی چند خوبصورت لفظ آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ ”اونچے اونچے شاہ بلوط کے درختوں نے دور سے ہی انہیں آتے دیکھ لیا ہے۔ ہواؤں نے ان کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے سارے جنگل کو اُن کے آنے کا پیغام دے دیا ہے“۔ آپ ان لفظوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اب بہت دور نکلتے جا رہے ہیں۔ جنگل میں آپ کی پہلی ملاقات ہزیل ربانی سے ہوتی ہے۔ جس کی زندگی ماضی کے خوبصورت لمحوں کے درمیان سانس لیتی رہتی ہے۔ وہی لمحے جنگل کی ویرانیوں کے ساتھ مل کر آپ کو اپنے پاس بلا لیتے ہیں۔

ماضی کے ان لمحوں کا پہلا کردار مارسیا ہے۔ مارسیا جس نے اپنے چند خوابوں کو جنگل کی خاموشیوں کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ کسی داسی کی طرح اپنے خوابوں کے شہزادے کا جنگل میں انتظار کرتی رہتی ہے اور پھر ایک روز گھوڑے پر سوار ہزیل ربانی ڈھیر ساری محبت کے ساتھ جنگل میں چلا آتا ہے۔ مارسیا اس محبت کو سمیٹنا چاہتی ہے۔ اپنے تمام تر وجود کو اس محبت کی مہک سے انمول کرنا چاہتی ہے مگر ہزیل ربانی جو اپنے ماضی کے ایک بدصورت لمحے کے زیر اثر ہے۔

محبت کے چند قطروں سے اس کا برف وجود پگھلنے لگا ہے۔ وہ مکمل موم بننے سے ڈرتا ہے۔ وہ مارسیا کو رت جگے دان کرتے ہوئے وہاں سے لوٹ آتاہے۔ اب ناول کا دوسرا ٹریک شروع ہوتا ہے جو ایتھنز یونیورسٹی کے گرد گھومتا ہے۔ جہاں مارسیا اور ہزیل کے ساتھ ساتھ سلینا، دانیال اور ڈیرل کے کردار آپ کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتے نظر آئیں گے۔ ڈیرل جس کا دل شرارتیں کرتے کرتے محبت کے نام پر دھڑکنے لگتا ہے۔ جس کی زندگی کے رنگ مارسیا کی دعا کے ساے میں پروان چڑھنے لگے ہیں۔

وہ جو خود کو شیطان کہتا تھا اس کی رب سے قربت بڑھنے لگی تھی۔ ڈیرل سے محمد حسن تک کا سفر بہت خوبصورت رہا۔ اس ناول میں قرآنی آیات کے حوالے دے کر جو تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس ناول کو مزید دلکش بنا دیا ہے۔ ایتھنز اتنا خوبصورت ہے یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتی مگر من عشق دارم کے ایتھنز کی گلیوں میں صرف محبت رقص کرتی ہے۔ اس کی فضائیں محبت کرنے والوں کو آمد عشق کے گیت سناتی ہیں۔ جنگل کے اس سفر میں گھوڑوں پر سفر کرتے کرتے ایک روز ہماری شہزادی اپنے شہزادے کو پا لیتی ہے۔

ملن کی بہت خوبصورت منظرکشی کی گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جنگل میں بہار لوٹ آئی ہے۔ جنگل کا ماحول ہی بدل گیا ہے۔ درخت، پھول اور رنگ سب ایک ساتھ ہی محو رقص ہوں۔ ناول میں صحنِ حرم کا منظر بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہزیل ربانی اورمارسیا عشق کے سفر پر ملن کے رنگوں سے کھیلنے لگے تھے کہ اچانک سے ہجر کے بدصورت ساے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جنگل سے بہار رخصت ہو چکی ہے۔ ویرانیوں نے ایک بار پھر سے یہاں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔

ہزیل ربانی جس کی آنکھیں مارسیا کے چہرے کا طواف کرتے نہیں تھکتیں۔ اب ہمیشہ کے لئے آنسوؤں سے بھر گئی ہیں۔ اپنے ادھورے وجود کے ساتھ ہزیل اپنی اگلی نسل کے خوابوں کی تکمیل کے سفر پر چل نکلتے ہیں۔ زندگی کا سفر چلتا رہتا ہے۔ محبت کی یہ داستان بہت سے خوبصورت رنگوں کے ساتھ سجی ہوئی ہے۔ صباحت رفیق چیمہ کی منظر کشی کمال کی ہے۔ قاری کتاب ختم کرنے کے بعد بھی خود کو اس کتاب سے الگ نہیں کر پاتا۔ محبت کے موضوع پر آپ نے بہت سے ناولز پڑھے ہوں گے مگر من عشق دارم ایک مختلف تحریر ہے۔ یہ آپ کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں پر عشق کے رنگ مسکرا رہے ہیں۔ جہاں پر محبت کے خواب آپ کو ابھی اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ صباحت کی یہ داستان محبت من عشق دارم پڑھیں اور عشق کے سارے رنگوں کو ایک ساتھ اترتے دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *